ارضیاتی سائنس کی وزارت
پارلیمارنی سوال: موسم سے متعلق پیش گوئیوں کی درستگی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
11 FEB 2026 11:42AM by PIB Delhi
ارضیاتی سائنس اور سائنس وٹیکنا لوجی کے وزیرمملکت (آزادانہ چارج) ڈاکٹر جیتندر سنگھ نے 11 فروری 2026 کو لوک سبھا میں بتایا کہ سال 2025 کے دوران موسم سے متعلق پیش گوئیوں کی درستگی، ابتدائی وارننگز کے پھیلاؤ اور موسمی خدمات کی فراہمی میں نمایاں بہتری حاصل ہوئی ہے۔ بھارت کے موسمیات کے محکمہ (آئی ایم ڈی) کی 2025 کی ساؤتھ ویسٹ مونسون سیزن کے لیے مونسون سے متعلق پیش گوئی انتہائی درست ثابت ہوئی۔ پہلے مرحلے کی طویل مدتی پیش گوئی میں جو اپریل 2025 میں جاری کی گئی تھی، پورے ملک میں جون تا ستمبر کے ساؤتھ ویسٹ مونسون کی بارش 105 فیصد طویل مدتی اوسط (ایل پی اے) کے برابر پیش کی گئی تھی، جس میں ماڈل کی غلطی ± 5 فیصد ایل پی اے تھی۔ جبکہ مئی 2025 کے آخر میں جاری تازہ ترین پیش گوئی میں 106 فیصد ایل پی اے کے برابر پیش گوئی کی گئی تھی، جس میں ماڈل کی غلطی ± 4 فیصد ایل پی اے تھی۔ پورے ملک کے لیے حقیقی موسمی بارش 108 فیصد ایل پی اے رہی۔ علاقائی امکانات کی بنیاد پر کی گئی پیش گوئیاں بھی ملک کے زیادہ تر علاقوں میں کافی درست ثابت ہوئیں۔ اسی طرح، ماہانہ بارش کی پیش گوئیاں بھی مشاہدہ کئے گئے اعداد و شمار کے قریب رہیں اور پیش گوئی کی حدود میں ہی رہیں۔
ابتدائی وارننگز کے پھیلاؤ اور موسمی خدمات کی فراہمی کے لیے آئی ایم ڈی مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا استعمال کرتا ہے، جن میں کامن الرٹنگ پروٹوکول (سی اے پی) ، ایپلی کیشن پروگرامنگ انٹرفیس (اے پی آئی) ، ویب سائٹ، موبائل ایپس، سوشل میڈیا وغیرہ شامل ہیں۔ مثال کے طور پرحالیہ سائیکلون‘‘ مونتھا‘‘کے دوران عوام کو کل 77.64 کروڑ ایس ایم ایس پیغامات بھیجے گئے۔ تمام حقیقی وقت کے ڈیٹا، پیش گوئیاں اور وارننگز بھی بروقت ریاستی ایمرجنسی آپریشن سینٹرز کے ساتھ شیئر کی گئیں اور پھیلائی گئیں۔
بارش ، زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت ، کم سے کم درجہ حرارت ، اور سال 2025 کے دوران گھنے کہرے کے واقعات جیسے موسمی پیرامیٹرز کے لیے دہلی پر پیشن گوئی کی درستگی بالترتیب 93 فیصد ، 84 فیصد ، 68 فیصد اور 75فیصد ہے ۔
حکومت ملک میں موسم اور آب و ہوا کی پیش گوئی کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے ۔ موسم اور آب و ہوا کی پیش گوئی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے وقتا ًفوقتاً نئی تکنیکی اور ٹیکنالوجیز نافذ کی گئی ہیں ۔ اس سمت میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے:
- اضافی اے ڈبلیو ایس ، اے آر جی اور ڈی ڈبلیو آر وغیرہ کی تنصیب کے ساتھ مشاہداتی نظام کو مضبوط بنانا ۔
- ڈیٹا انضمام میں بہتری اور جی آئی ایس پر مبنی ڈی ایس ایس کی ترقی ۔
- این ڈبلیو پی ماڈلز اور آب و ہوا کے ماڈلز میں بہتری کے ساتھ ساتھ حقیقی وقت میں ہموار نگرانی ، پیش گوئی اور ابتدائی انتباہی نظام ۔
- روایتی موسم کی پیش گوئی اور انتباہ سے سیکٹر مخصوص رنگ کوڈڈ امپیکٹ پر مبنی پیش گوئی (آئی بی ایف) اور رسک پر مبنی انتباہ (آر بی ڈبلیو) کو متحرک اثرات اور رسک میٹرکس کے ساتھ ضلع/ذیلی شہر کی سطح تک منتقل کرنا ۔
- اے آئی/ایم ایل کا اطلاق۔
- بلیٹنس اور انتباہات کو حسب ضرورت بنانا۔
- عمل کی تفہیم اور ماڈل فزکس میں بہتری کے ساتھ بڑے پیمانے پر ڈیٹا کو مربوط کرنے اور مزید اعلیٰ ریزولوشن پیمانے پر میسو اسکیل ، علاقائی اور عالمی ماڈلز کو چلانے کے لیے کمپیوٹیشنل طاقت میں خاطر خواہ اضافہ ۔ اس مقصد کے لیے سپر کمپیوٹرز (ارکا اور ارونیکا) کا استعمال کیا جا رہا ہے ۔
- پنچایت موسم سیوا ۔
- موبائل ایپ ، کامن الرٹنگ پروٹوکول (سی اے پی) وہاٹس ایپ گروپس وغیرہ کے استعمال کے ساتھ ایک جدید ترین تشہیر کا نظام ۔
حال ہی میں وزارتِ ماحولیات، جنگلات اور آب ہوا کی تبدیلی کی وزارت (ایم او ای ایس) نے مرکزی سیکٹرکی ایک نئی اسکیم ’’ مشن موسم ‘‘شروع کی ہے، جس کا مقصد بھارت کو ’’موسم کے لیے تیار اور ماحولیاتی طور پر اسمارٹ‘‘ ملک بنانا ہے اور اس میں بھارت کا موسمیات کا محکمہ (آئی ایم ڈی) ایک کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
****
ش ح۔ ش م۔ ش ت
U NO:-2113
(ریلیز آئی ڈی: 2226270)
وزیٹر کاؤنٹر : 13