زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ڈیجیٹل زرعی اقدامات کا نتیجہ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 10 FEB 2026 6:34PM by PIB Delhi

حکومت 2025 کے دوران شروع کیے گئے یا جاری رکھے گئے ڈیجیٹل زرعی اقدامات کے نتائج کا مسلسل جائزہ لیتی رہتی ہے۔ چند اہم اقدامات درج ذیل ہیں:

  1. ایگری اسٹیک (AgriStack): ایگری اسٹیک ایک ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر ہے، جو زرعی شعبے سے متعلق تین بنیادی رجسٹریوں یا ڈیٹابیس پر مشتمل ہے، یعنی کسان رجسٹری، جیو ریفرنسڈ دیہی نقشے اور فصل کاشت رجسٹری، جنہیں ریاستی حکومتیں/مرکز زیر انتظام علاقے تیار اور برقرار رکھتے ہیں۔ یہ کسان کی شناخت، زمین اور اس کی کاشت کردہ فصلوں سے متعلق معلومات کے لیے ایک مستند اور واحد ماخذ قائم کرتا ہے۔
  2. کرشی ڈیسیژن سپورٹ سسٹم: کرشی ڈیسیژن سپورٹ سسٹم ایک جیو اسپیشل پلیٹ فارم ہے جو جغرافیائی معلوماتی نظام (جی آئی ایس) کے ذریعے سیٹلائٹ تصاویر، موسمیات، مٹی اور فصلوں کے ڈیٹا کو یکجا کر کے زرعی منصوبہ بندی اور فیصلہ سازی میں معاونت فراہم کرتا ہے۔ یہ فصل، موسم اور مٹی سے متعلق ہدفی رہنمائی تیار کرنے کے لیے ایک تجزیاتی ویب پورٹل کے طور پر کام کرتا ہے۔
  3. کسان ای-مترا: یہ ایک آواز پر مبنی مصنوعی ذہانت (AI) سے تقویت یافتہ چیٹ بوٹ ہے، جو پی ایم کسان سمان ندھی اسکیم سے متعلق کسانوں کے سوالات کے جوابات دینے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ یہ نظام 11 علاقائی زبانوں کی معاونت کرتا ہے اور دیگر سرکاری پروگراموں میں رہنمائی کے لیے بھی توسیع پا رہا ہے۔ فی الحال یہ اوسطاً روزانہ 8,000 سے زائد کسانوں کے سوالات نمٹاتا ہے اور اب تک 95 لاکھ سے زیادہ سوالات کے جوابات دے چکا ہے۔
  4. قومی کیڑہ نگرانی نظام: موسمیاتی تبدیلی کے باعث فصلوں کو ہونے والے نقصانات سے نمٹنے کے لیے قومی کیڑہ نگرانی نظام مصنوعی ذہانت (AI) اور مشین لرننگ کا استعمال کرتے ہوئے فصلوں میں کیڑوں کے حملے کی نشاندہی کرتا ہے، جس سے بروقت اقدامات کے ذریعے فصلوں کی صحت بہتر بنائی جا سکتی ہے۔ یہ ٹول اس وقت 10,000 سے زائد توسیعی کارکنان استعمال کر رہے ہیں۔ اس کے ذریعے کسان کیڑوں کی تصاویر لے کر اپ لوڈ کر سکتے ہیں تاکہ کیڑوں کے حملوں کی روک تھام میں مدد مل سکے اور فصلوں کے نقصان کو کم کیا جا سکے۔ فی الحال یہ نظام 65 فصلوں اور 400 سے زائد کیڑوں کی معاونت کرتا ہے۔
  5. نمو ڈرون دیدی: حکومت نے ’نمو ڈرون دیدی‘ کے نام سے ایک مرکزی شعبہ جاتی اسکیم کی منظوری دی ہے، جس کے تحت 2023-24 سے 2025-26 کے عرصے میں 1261 کروڑ روپے کی لاگت سے خواتین سیلف ہیلپ گروپ کو 15,000 ڈرون فراہم کیے جائیں گے۔ اس اسکیم کے اہم مقاصد میں زراعت میں جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے ذریعے کارکردگی میں بہتری، فصلوں کی پیداوار میں اضافہ اور عملیاتی لاگت میں کمی شامل ہیں، نیز ایس ایچ جی کو ڈرون سروس فراہم کنندگان کے طور پر بااختیار بنا کر ان کی آمدنی میں اضافہ اور روزگار کی فراہمی کو یقینی بنانا بھی شامل ہے۔ لیڈ فرٹیلائزر کمپنیوں (ایل ایف سی) نے نمو ڈرون دیدی اسکیم کے تحت 500 ڈرون تقسیم کیے ہیں۔ ایگریکلچرل ڈیولپمنٹ اینڈ رورل ٹرانسفارمیشن سنٹر، بنگلور نے ان 500 ڈرون پر ڈرون آپریشن کی معاشی اور کاروباری افادیت پر ایک مطالعہ کیا ہے۔ اس مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈرون کے استعمال نے ایس ایچ جی کی سرگرمیوں میں تنوع پیدا کیا، زرعی طریقوں کو بہتر بنایا اور دیہی خواتین کے لیے آمدنی کے مواقع میں اضافہ کیا ہے۔
  6. سیڈ آتھنٹیسٹی ٹریس ایبلٹی اینڈ ہولسٹک انوینٹری (SATHI): یہ ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے جو بیجوں کی پیداوار، معیاری تصدیق، تقسیم اور ٹریس ایبلٹی کے جامع نظم و نسق کو پورے بھارت میں مؤثر بناتا ہے۔ یہ اقدام نیشنل سیڈ گرڈ (این ایس جی) کے قیام کا باعث بنتا ہے، جس کے ذریعے بیجوں سے متعلق تمام شراکت داروں کو ایک متحدہ قومی ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر مربوط کیا جاتا ہے۔

زراعت اور کسانوں کی بہبود کے وزیر مملکت جناب رام ناتھ ٹھاکر نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں یہ معلومات فراہم کی۔

**********

ش ح۔ ف ش ع

                                                                                                                                       U: 2082


(ریلیز آئی ڈی: 2226107) وزیٹر کاؤنٹر : 4
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी