امور داخلہ کی وزارت
نارکوٹکس کوآرڈنیشن میکانزم
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
10 FEB 2026 4:20PM by PIB Delhi
حکومت نے نارکو کوآرڈنیشن (این سی او آر ڈی) میکانزم کے ذریعے بین وزارتی اور بین ایجنسی ہم آہنگی کو مضبوط بنایا ہے۔ یہ ایک منظم اور ادارہ جاتی پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے، جس کے تحت مرکزی وزارتوں، ریاستی حکومتوں اور نفاذِ قانون کی ایجنسیوں کے درمیان منشیات کی اسمگلنگ، پری کرسر کی غیر قانونی منتقلی، طلب میں کمی اور بازآبادکاری کی نگرانی کے لیے مؤثر تال میل قائم کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں نفاذِ قانون کے نتائج اور خفیہ معلومات کے اشتراک میں بہتری آئی ہے۔
این سی او آر ڈای، اعلیٰ سطح ، ایگزیکٹو، ریاستی اور ضلعی سطح پر مسلسل فعال اور کارآمد رہا ہے۔ اب تک پالیسی سازی کی رہنمائی، بین وزارتی ہم آہنگی کو فروغ دینے اور مجموعی نارکوٹکس کنٹرول فریم ورک کا جائزہ لینے کے لیے 9 ایپکس این سی او آر ڈی اجلاس اور 6 ایگزیکٹیو این سی او آر ڈی اجلاس منعقد کیے جا چکے ہیں۔
عملی (آپریشنل) سطح پر، ملک بھر میں 253 ریاستی این سی او آر ڈی اجلاس اور 12,471 ضلعی این سی او آر ڈی اجلاس منعقد کیے گئے ہیں، جن کے ذریعے نچلی سطح پر منشیات کی اسمگلنگ کے رجحانات کی باقاعدہ نگرانی، مربوط نفاذی کارروائیاں اور انٹیلی جنس کا تبادلہ ممکن ہوا ہے۔ ان اجلاسوں نے مختلف ایجنسیوں کے درمیان تعاون کو مضبوط کیا، مشترکہ کارروائیوں کو آسان بنایا اور ریاستوں میں سرگرم منشیات اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خلاف ہدفی اقدامات کی حمایت کی ہے۔
حکومت نے نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی)، ریاستی اینٹی نارکوٹکس ٹاسک فورسز (اے این ٹی ایف) اور سرحدی حفاظتی فورسز کے درمیان بین ایجنسی ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، تاکہ سرحد پار اور بین ریاستی منشیات اسمگلنگ پر قابو پایا جا سکے۔ ان میں سے چند اہم اقدامات درج ذیل ہیں:
- تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں اینٹی نارکوٹکس ٹاسک فورس (اے این ٹی ایف) قائم کی جا چکی ہے، جو مقامی سطح پر نفاذِ قانون کے لیے این سی او آر ڈی سیکریٹریٹ کے طور پر بھی کام کرتی ہے۔
- بڑے پیمانے پر منشیات کی ضبطی سے متعلق تحقیقات کی نگرانی کے لیے مشترکہ رابطہ کمیٹی (جے سی سی) مرکزی اور ریاستی سطح پر قائم کی گئی ہے۔
- این سی بی دیگر ایجنسیوں مثلاً بحریہ، کوسٹ گارڈ، بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) اور ریاستی اے این ٹی ایف کے ساتھ مل کر مشترکہ انسدادِ منشیات کارروائیاں انجام دیتا ہے۔
- ایم اے سی میکانزم کے تحت ڈارک نیٹ اور کرپٹو کرنسی سے متعلق ایک ٹاسک فورس قائم کی گئی ہے، جس کا مقصد نارکو اسمگلنگ کو سہولت فراہم کرنے والے تمام پلیٹ فارموں کی نگرانی، ایجنسیوں/ایم اے سی اراکین کے درمیان خفیہ معلومات کا تبادلہ، منشیات نیٹ ورکس کی نشاندہی اور روک تھام، رجحانات اور طریقۂ واردات کی مسلسل نگرانی، ڈیٹا بیس کی باقاعدہ تازہ کاری اور متعلقہ قوانین و ضوابط کا جائزہ لینا ہے۔
- ریاستی حکام کے ساتھ ہم آہنگی کو بہتر بنانے، ریئل ٹائم انٹیلی جنس شیئرنگ کو فروغ دینے، آپریشنل مؤثریت کو یقینی بنانے اور بیورو کی جغرافیائی رسائی بڑھانے کے لیے این سی بی نے سرحدی اہم علاقوں مثلاً سری نگر، سلی گوڑی، اگر تلہ اور ایٹا نگر میں زونل یونٹس قائم کیے ہیں۔
- حکومت نے نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی) کے فیلڈ یونٹس کے قیام کو منظوری دی ہے تاکہ پیشگی نفاذِ قانون اور مؤثر ہم آہنگی کو یقینی بنایا جا سکے۔ یہ فیلڈ یونٹس درج ذیل مقامات پر قائم کیے گئے ہیں: بریلی (اتر پردیش)، فیروزپور (پنجاب)، منڈی (ہماچل پردیش)، پورٹ بلیئر (انڈمان و نکوبار جزائر)، دیماپور (ناگالینڈ)، آئزول (میزورم)، سری گنگا نگر (راجستھان)، مدورئی (تمل ناڈو)، منگلورو (کرناٹک) اور ناگپور (مہاراشٹر)۔
مزید برآں، مرکزی و ریاستی ایجنسیوں اور سرحدی حفاظتی فورسز کے درمیان بہتر ہم آہنگی کو سہل بنانے کے لیے چار علاقائی دفاتر (ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل/جوائنٹ سیکریٹری سطح) امرتسر، گوہاٹی، چنئی اور احمد آباد میں قائم کیے گئے ہیں۔
- سرحدی حفاظتی فورسز اور ریلوے پروٹیکشن فورس (آر پی ایف) کو این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت سرحدوں اور ریلوے راستوں پر نفاذِ قانون کے اختیارات حاصل ہیں۔
حکومت نے ایک مرکزی ڈیجیٹل ڈیٹا بیس بھی نافذ کیا ہے جسے نیشنل انٹیگریٹڈ ڈیٹا بیس آن اریسٹڈ نارکو آفینڈرز (این آئی ڈی اے اے این - ندان) کہا جاتا ہے، جسے این سی بی نے انٹر آپریبل کریمنل جسٹس سسٹم (آئی سی جے ایس) کے اشتراک سے تیار کیا ہے۔
نِدان (این آئی ڈی اے اے این) پورٹل ملک بھر میں منشیات سے متعلق قوانین نافذ کرنے والی تمام ایجنسیوں کی جانب سے گرفتار کیے گئے نارکوٹک ڈرگز اینڈ سائیکوٹروپک سبسٹینسز (این ڈی پی ایس) کے ملزمان کا ڈیٹا یکجا کرتا ہے۔ اس میں شناختی تفصیلات، تصاویر، فنگر پرنٹس، مقدمات کی تفصیل اور عدالت سے متعلق معلومات شامل ہوتی ہیں۔ نِدھان پورٹل اپنا ڈیٹا آل انڈیا ای-پریزنز اور نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی) کے ڈیٹا بیس سے حاصل کرتا ہے۔ اس وقت اس ڈیٹا بیس میں این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت گرفتار اور سزا یافتہ افراد کا 9.50 لاکھ قابلِ تلاش ریکارڈ موجود ہے۔ یہ ڈیٹا بیس پولیس اسٹیشن سطح تک اور ریاستی/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی پولیس اور کرائم لا انفورسمنٹ ایجنسیوں (سی ایل ای اے) کے مجاز صارفین کے لیے قابلِ رسائی ہے۔ نِدھان تفتیشی ایجنسیوں کو ضمانت کی مخالفت، ضمانت کی منسوخی کی درخواست، عادی مجرموں کی نگرانی میں مدد فراہم کرتا ہے اور منشیات اور سائیکوٹروپک سبسٹینسز کی غیر قانونی اسمگلنگ کی روک تھام ایکٹ، 1988 (پی آئی ٹی این ڈی پی ایس) کے تحت تجاویز کی تیاری میں معاون ثابت ہوتا ہے، جس سے مربوط اور پیشگی نفاذی کارروائی کو مزید تقویت ملتی ہے۔
حکومت نے فارنسک صلاحیتوں کی جدید کاری کے لیے ایک اسکیم کو منظوری دی ہے، جس کے تحت ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں فارنسک سائنس لیباریٹریز (ایف ایس ایل) کی جدید کاری اور اپ گریڈیشن کے لیے 420 کروڑ روپے منظور کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ’’نارکوٹکس کنٹرول کے لیے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو امداد‘‘ اسکیم کے تحت اہل ریاستوں کو این ڈی پی ایس مادّوں کی غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف نفاذی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔
وزارتِ سماجی انصاف و تفویضِ اختیارات (ایم او ایس جے اینڈ ای) ملک میں منشیات کے استعمال کی طلب میں کمی کے لیے نوڈل وزارت ہے۔ نشہ مکت بھارت ابھیان (این ایم بی اے) اور منشیات کے استعمال کی طلب میں کمی کے لیے قومی ایکشن پلان (این اے پی ڈی ڈی آر) کو وزارتِ سماجی انصاف و تفویضِ اختیارات ملک بھر میں ریاستی حکومتوں، مرکز کے زیر انتظام علاقوں، غیر سرکاری تنظیموں، رضاکارانہ اداروں اور سرکاری اسپتالوں کے قریبی اشتراک سے نافذ کر رہی ہے۔ منشیات کے بڑھتے ہوئے مسئلے سے متاثرہ شہریوں کے لیے عوامی آگاہی اور بازآبادکاری کی معاونت کے ضمن میں این ایم بی اے، این اے پی ڈی ڈی آر اور دیگر ایجنسیوں کے تحت اٹھائے گئے چند اہم اقدامات درج ذیل ہیں:
(i) نشہ مکت بھارت ابھیان ملک کے تمام اضلاع میں نافذ کیا جا رہا ہے۔ زمینی سطح پر انجام دی گئی مختلف سرگرمیوں کے ذریعے اب تک 25.87 کروڑ سے زائد افراد تک رسائی حاصل کی گئی ہے، جن میں 9.32 کروڑ نوجوان، 6.35 کروڑ خواتین اور 16.07 لاکھ تعلیمی ادارے شامل ہیں۔
(ii) روحانی تنظیموں کے ساتھ مفاہمت نامے (ایم او یو) طے کیے گئے ہیں تاکہ این ایم بی اے کی حمایت کی جا سکے اور بڑے پیمانے پر عوامی آگاہی کی سرگرمیاں انجام دی جا سکیں۔
(iii) حکومت ملک بھر میں 349 انٹیگریٹڈ ری ہیبلیٹیشن سینٹرز فار ایڈکٹس (آئی آر سی اے) ، 45 کمیونٹی بیسڈ پیئر لیڈ انٹروینشن (سی پی ایل آئی) مراکز، 76 آؤٹ ریچ اینڈ ڈراپ اِن سینٹرز (او ڈی آئی سی) ، 154 ایڈکشن ٹریٹمنٹ فیسلٹیز (اے ٹی ایف) اور 145 ضلعی ڈی ایڈکشن مراکز (ڈی ڈی اے سی) کو مالی معاونت فراہم کر رہی ہے۔
(iv) نشہ چھوڑنے کے خواہشمند افراد کو ابتدائی مشاورت اور فوری مدد فراہم کرنے کے لیے ٹول فری ہیلپ لائن نمبر 14446 چلائی جا رہی ہے۔
(v) مگدک پدارتھ نیشیدھ آسوچنا کیندر (ایم اے این اے ایس) منشیات سے متعلق مسائل کی اطلاع دینے کے لیے 24×7 ٹول فری ہیلپ لائن (1933) قائم کی گئی ہے، جس کے ذریعے کال، ایس ایم ایس، چیٹ بوٹ، ای میل یا ویب کے ذریعہ شکایات درج کی جا سکتی ہیں۔
(vi) منشیات کی طلب میں کمی کے لیے این سی بی نے مشن اسپندن کا آغاز کیا ہے۔ اس ضمن میں 05 تنظیموں کے ساتھ مفاہمتی نامے کیے گئے ہیں تاکہ روحانی آگاہی اور اجتماعی اقدامات کے ذریعے نفسیاتی اثر رکھنے والے مادّوں کی لت اور منشیات کے استعمال کا مقابلہ کیا جا سکے۔
(vii) این سی پی نے 03.09.2025 کو سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (سی بی ایس ای) کے ساتھ ایک مفاہمتی نام پر دستخط کیے۔ اس مفاہمت نامہ کا مقصد سی بی ایس ای سے منسلک اسکولوں میں منشیات کے استعمال کے خلاف آگاہی پروگراموں کے میدان میں تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
یہ بات آج لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں وزارتِ داخلہ میں وزیرِ مملکت جناب نتیانند رائے نے کہی۔
******
ش ح۔ م م۔ م ر
U-NO. 2076
(ریلیز آئی ڈی: 2226104)
وزیٹر کاؤنٹر : 6