وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
azadi ka amrit mahotsav

ماہی پروری ، مویشی پروری اور ڈیری کا نفاذ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 10 FEB 2026 1:57PM by PIB Delhi

ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کی وزارت، حکومتِ ہند، ریاست چھتیس گڑھ سمیت پورے ملک میں ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کے شعبوں کی مجموعی ترقی کے لیے پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی)، راشٹریہ گوکل مشن (آر جی ایم)، نیشنل لائیو اسٹاک مشن (این ایل ایم)، مویشی پروری انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ فنڈ (اے ایچ آئی ڈی ایف) اور مختلف ڈیری ڈیولپمنٹ پروگراموں جیسی متعدد اسکیموں اور پروگراموں کو نافذ کر رہی ہے۔ گزشتہ تین برسوں کے دوران ریاست چھتیس گڑھ میں ان اسکیموں کے نفاذ کی جسمانی اور مالی پیش رفت کی تفصیلات ضمیمہ – اول میں فراہم کی گئی ہیں۔ ان اسکیموں کے نفاذ کے دوران خواتین، درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل سے تعلق رکھنے والے مستفیدین پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔

ج
پی ایم ایم ایس وائی کے نتیجے میں ریاست چھتیس گڑھ سمیت پورے ملک میں ماہی پروری کی پیداوار میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ حکومتِ چھتیس گڑھ کی رپورٹ کے مطابق، مچھلی کے بیج کی پیداوار مالی سال 2019–20 میں 288 کروڑ سے بڑھ کر مالی سال 2024–25 میں 583 کروڑ تک پہنچ گئی ہے، جو کہ تقریباً 102.43 فیصد اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔ اسی مدت کے دوران مچھلی کی مجموعی پیداوار 5.72 لاکھ میٹرک ٹن سے بڑھ کر 8.73 لاکھ میٹرک ٹن ہو گئی ہے، جو تقریباً 52.62 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔

مزید برآں، راشٹریہ گوکل مشن اور اس سے منسلک ڈیری اقدامات کے تحت ریاست چھتیس گڑھ میں دودھ کی پیداوار مالی سال 2014–15 کے 11.82 لاکھ ٹن سے بڑھ کر مالی سال 2024–25 میں 20.76 لاکھ ٹن تک پہنچ گئی ہے۔ پیداوار میں اس اضافے سے مستفیدین کی آمدنی میں اضافہ اور ان کے ذریعۂ معاش کے تحفظ کو تقویت ملی ہے۔

(د):
پی ایم ایم ایس وائی کے تحت ریاست میں ماہی پروری کے بنیادی ڈھانچے کی تشکیل اور اسے مضبوط بنانے کے اقدامات کیے گئے ہیں۔ مجموعی طور پر 25 فش ہیچریوں کو منظوری دی گئی ہے، جن میں سے 21 ہیچریاں مکمل ہو چکی ہیں، جبکہ باقی مختلف مراحلِ عمل درآمد میں ہیں۔ اس کے علاوہ، فش فیڈ مینوفیکچرنگ سے متعلق بنیادی ڈھانچہ بھی تیار کیا گیا ہے۔ ریاست میں اس وقت 100 ٹن یومیہ صلاحیت کی ایک فیڈ مل، 20 ٹن یومیہ صلاحیت کے دو فیڈ پلانٹ، 8 ٹن یومیہ صلاحیت کے پانچ فیڈ پلانٹ اور 2 ٹن یومیہ صلاحیت کی دو منی فیڈ ملیں موجود ہیں۔

(ہ):
منظور شدہ منصوبوں کے بروقت اور مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے حکومتِ ہند اور حکومتِ چھتیس گڑھ نے پی ایم ایم ایس وائی اور دیگر اسکیموں کے لیے ایک کثیر سطحی نگرانی و تشخیص (ایم اینڈ ای) کا نظام قائم کیا ہے، جسے وزارتِ ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری، حکومتِ ہند کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے۔ اس نظام کے تحت مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (ایم آئی ایس) پورٹلز اور پی ایف ایم ایس پورٹل کے ذریعے ریئل ٹائم ڈیجیٹل نگرانی کی جاتی ہے، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ فنڈز کا مؤثر استعمال ہو رہا ہے اور منصوبے بروقت مکمل کیے جا رہے ہیں۔

منظور شدہ منصوبوں کی جسمانی اور مالی پیش رفت کا باقاعدگی سے جائزہ اور نگرانی کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ، مرکزی سطح پر متعلقہ محکمے ریاستی حکومتوں اور نوڈل عمل درآمد کرنے والی ایجنسیوں کے ساتھ منظور شدہ منصوبوں کی پیش رفت کا مستقل طور پر جائزہ لیتے ہیں، تاکہ بروقت نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔ حکومتِ ہند مزید توسیع یا وسعت دینے سے قبل ہر اسکیم کا درمیانی مدت اور مکمل مدت پر مبنی تیسرے فریق کے ذریعے تشخیصی مطالعہ بھی کراتی ہے۔ ان تشخیصی رپورٹوں اور نتائج کی سفارشات کی بنیاد پر مؤثر نفاذ اور مستقبل کے پالیسی اقدامات کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اصلاحی اقدامات کیے جاتے ہیں۔

ضمیمہ I

ریاست چھتیس گڑھ میں پچھلے تین سال کے دوران منظور کیے گئے پروجیکٹوں کی جسمانی اور مالی حالت کا بیان۔

سکیم

خواتین مستفید ہونے والوں کی تعداد

نہیں، شیڈولڈ سیکشن میں فائدہ اٹھانے والے کا

پروجیکٹس کی جسمانی حیثیت

مالی حالت (مرکزی/ GoI سپورٹ)

پردھان منتری متسیا سمپدا یوجنا (PMMSY)

6800

10500

94 منصوبوں کی منظوری منصوبے مکمل اور عمل درآمد کے مختلف مراحل میں

پروجیکٹ کی کل لاگت ₹92,478.45 لاکھ؛ مرکزی حصہ ₹ 23,859.24 لاکھ جاری کیا گیا؛ مرکزی حصہ نے 22,097.15 لاکھ روپے کا استعمال کیا۔

راشٹریہ گوکل مشن (RGM)

814184

دستیاب نہیں*

225 MAITRIs تربیت یافتہ؛ 27,08,364 مصنوعی حمل 19,66,094 جانوروں کا احاطہ کیا گیا۔ NAIP کے تحت 11,63,120 کسانوں نے فائدہ اٹھایا

پچھلے تین سالوں اور رواں سال کے دوران 1,161.69 لاکھ روپے جاری کیے گئے۔

نیشنل لائیوسٹاک مشن (NLM)

6

5

7365 مویشیوں کو شامل کیا جا رہا ہے اور 2400 میٹرک ٹن سالانہ (MTPA) سائیلج کی گنجائش شامل کی جا رہی ہے۔

NLM EDP کے تحت 16.50 کروڑ روپے کے پروجیکٹ لاگت کے ساتھ 27 پروجیکٹوں کی منظوری دی گئی ہے۔ ان 27 پروجیکٹوں کے لیے کل منظور شدہ سبسڈی 6.19 کروڑ روپے ہے۔ سبسڈی کے 1.89 کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں۔

اینیمل ہسبنڈری انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ فنڈ (AHIDF)

0

0

686.06 کروڑ روپے کی پروجیکٹ لاگت کے ساتھ 14 پروجیکٹوں کو منظوری دی گئی۔

کل 21.44 کروڑ روپے 3% کی سود کی رعایت کے طور پر جاری کیے گئے ہیں۔

ڈیری ڈویلپمنٹ پروگرام

**

**

48.71 کروڑ روپے کی پروجیکٹ لاگت کے ساتھ 5 پروجیکٹوں کو منظور کیا گیا جس میں مرکزی حصہ 34.76 کروڑ روپے ہے۔

کل 19.40 کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں۔

*کاشتکار NAIP (نمبر) 1163120 کے تحت مستفید ہوئے بشمول شیڈولڈ سیکشنز

** فائدہ اٹھانے والی اسکیم نہیں ہے۔

یہ جانکاری ماہی پروری، حیوانات اور دودھ کے وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ عرف لالن سنگھ نے آج لوک سبھا میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں دی۔

***

UR-2051

(ش ح۔اس ک  )


(ریلیز آئی ڈی: 2226029) وزیٹر کاؤنٹر : 6
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी