بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی راستوں کی وزارت
انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 سے قبل وی او سی پورٹ میں بندرگاہوں اور بحریہ سے متعلق کارروائیوں میں مصنوعی ذہانت پر اعلیٰ سطحی پیشگی تقریب کا انعقاد
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
09 FEB 2026 10:18PM by PIB Delhi
نئی دہلی، 09 فروری 2026:وی او چدمبرانار پورٹ اتھارٹی (وی او سی پورٹ)، توتی کورِن، تمل ناڈو نے انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 سے قبل ایک اعلیٰ سطحی پیشگی تقریب کامیابی کے ساتھ منعقد کی، جس کا عنوان تھا: “بندرگاہوں اور بحریہ سے متعلق کارروائیوں میں مصنوعی ذہانت: عمل، پالیسی اور مستقبل”۔ اس تقریب میں اعلیٰ پالیسی سازوں، بندرگاہی حکام، ٹیکنالوجی کے قائدین اور ماہرینِ تعلیم نے شرکت کی اور بھارت کے بحری ماحولیاتی نظام میں مصنوعی ذہانت کے عملی اور پالیسی پہلوؤں پر مرکوز گفتگو کی۔ یہ مباحثہ عزت مآب جناب وزیرِاعظم جناب نریندر مودی کے پیش کردہ ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی کے قومی وژن سے ہم آہنگ تھا۔
ورچوئل وسیلے سے اپنے افتتاحی خطاب میں بندرگاہوں، جہازرانی اورآبی گزرگاہوں کے محکمہ کے آئی اے ایس سیکریٹری جناب وجے کمار نے بھارتی بندرگاہوں میں کارکردگی، سلامتی اور عالمی مسابقت کے فروغ میں مصنوعی ذہانت کی اسٹریٹجک اہمیت کو اجاگر کیا۔ سیکریٹری موصوف نے اس بات کی نشاندہی کی کہ بحری شعبہ بھارت کی ترقی کی سمت بالخصوص اختراع پر مبنی اور پائیدار بندرگاہی بنیادی ڈھانچے کے فروغ کے حوالے سے نہایت کلیدی کردار ادا کرتا ہے اورایک ایسی ترجیح جس پربندرگاہوں، جہازرانی اورآبی گزرگاہوں کے عزت مآب مرکزی وزیرجناب سربانند سونووال مسلسل زور دیتے رہے ہیں۔
تقریب کا آغاز آئی آر ایس ای ای کے چیئرمین جناب سُسنت کمار پروہت، وی او چدمبرانار پورٹ اتھارٹی، توتی کورِن کے ذریعہ روایتی شمع روشن کرنے سے ہوا۔ اس موقع پر جناب سُسنت کمار پروہت نے تقریب میں موجود شرکا کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس کے تعلق سے پس منظر واضح کیا اور اس بات پر زور دیا کہ محض نظریاتی مباحثے سے آگے بڑھتے ہوئے حقیقی بندرگاہی آپریشنز سے منسلک نفاذ پر مبنی اختراعات کی طرف پیش قدمی ناگزیر ہے۔اس رسمی افتتاح میں ڈاکٹر پی۔ رویندرن (آئی آر ٹی ایس)، پرنسپل ایڈوائزر، وی او سی پی اے؛ جناب سندیپ کمار (آئی آر ایس ایس ای)، ایگزیکٹو ڈائریکٹر، ریل ٹیل (آئی او ٹی)؛ جناب پی کاون مہاراج (آئی او ایف ایس)، چیف ویجیلنس آفیسر، وی او سی پورٹ؛ جناب پروبل مترا، فنانشل ایڈوائزر و چیف اکاؤنٹس آفیسر، وی او سی پی اے؛ اور ڈاکٹر منیش تیواری، ڈائریکٹر، انسٹی ٹیوٹ فار گورننس، پالیسیز اینڈ پولیٹکس (آئی جی پی پی) نے بھی شرکت کی۔ افتتاحی سرگرمیوں نے عملی بنیاد پر مبنی اور پالیسی رُخ رکھنے والی گفتگو کے لیے واضح سمت متعین کی، جو حقیقی بندرگاہی آپریشنز سے منسلک ہیں۔
اس پیشگی تقریب کی ایک نمایاں خصوصیت وی او سی پورٹ میں فی الحال نافذ العمل، حقیقی اے آئی استعمال کے عملی مظاہرے تھے، جن کے ذریعے شرکاء کو براہِ راست فعال بندرگاہی ماحول میں مصنوعی ذہانت کے اطلاق کا مشاہدہ حاصل ہوا۔“پالیسی اور عمل میں اے آئی” کے عنوان سے ہونے والے اجلاس میں وی او سی پورٹ اتھارٹی، جناب انکُش سبھروال (سی ای او، کو روور اے آئی)، جناب سندیپ کمار (ایگزیکٹو ڈائریکٹر، ریل ٹیل)، سنٹرل الیکٹرونکس لمیٹڈ کے نمائندے اور جناب ورون (پارٹنر، گرانٹ تھارنٹن) نے پیشکشیں اور تبادلۂ خیال کیا۔ مباحثے کا مرکز اے آئی پر مبنی فیصلہ جاتی معاون نظام، آئی او ٹی سے چلنے والی نگرانی، مکالماتی اے آئی پلیٹ فارمز، سیکورٹی ٹیکنالوجیز، قدیمی بنیادی ڈھانچے کے ساتھ نظامی انضمام، قابلِ پیمائش عملی نتائج اور اے آئی کی مدد سے فیصلوں میں جوابدہی سے متعلق حکمرانی کے پہلو رہے۔
میری ٹائم ٹیک انفراسٹرکچر کے مستقبل سے متعلق اجلاس میں ڈاکٹر پی رویندرن، آئی آر ٹی ایس، پرنسپل ایڈوائزر، وی او سی پی اے؛ جناب آدتیہ کھکسے، بزنس لیڈ، ہائپر لوپ؛ جناب اشون پدمنا بھ، ہیڈ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، ڈی بی جی ٹی؛ جناب بھاسکر چودھری، ایگزیکٹو ڈائریکٹر، پی ڈبلیو سی انڈیا؛ اور جناب دھول جوشی، چیف ایگزیکٹو آفیسر، سہانا سسٹمز لمیٹڈ نے شرکت کی۔ پینل میں شامل معزز افراد نے ڈیجیٹل ٹوئنز، اے آئی سے چلنے والے سینسرز، بلاکچین سے چلنے والے نظام، خودکار برتھ آپٹیمائزیشن اور اگلی نسل کے پورٹ بنیادی ڈھانچے کی تشکیل کرنے والے انظباطی انتخاب کو اپنانے کا جائزہ لیا۔
اختتامی مباحثہ “انسان–اے آئی ہم آہنگی” کے عنوان سے منعقد ہوا، جس کی نظامت ڈاکٹر منیش تیواری، ڈائریکٹر، آئی جی پی پی نے کی۔ اس نشست میں ڈاکٹر نندکرشنن ایس ایل، اسسٹنٹ پروفیسر، انڈین میری ٹائم یونیورسٹی؛ ڈاکٹر کمارن راجو، پرنسپل سائنسدان، آئی آئی ٹی مدراس؛ جناب پراجت نائر، بانی و سی ای او، ڈاکر وژن اور جناب گورو سکسینا، ڈائریکٹر، پی ڈبلیو سی انڈیا نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں افرادی قوت کی تیاری، ازسرِنو مہارت سازی کی حکمتِ عملیوں اور ڈیٹا کے معیار، سلامتی اور آپریشنل استحکام کو یقینی بنانے میں انسانی نگرانی کی مسلسل اہمیت پر خصوصی توجہ مرکوزکی گئی۔
تقریب کا اختتام اظہارِ تشکر کے ساتھ ہوا، جس میں بحری آپریشنز میں ذمہ دارانہ، قابلِ توسیع اور انسان دوست مصنوعی ذہانت کے نفاذ کے لیے وی۔او۔ چدمبرانار پورٹ اتھارٹی کے قومی ٹیسٹ بیڈ کے طور پر رول، کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ اسی رفتار کو آگے بڑھاتے ہوئے، وی او چدمبرانار پورٹ اتھارٹی 17 فروری 2026 کو بھارت منڈپم، نئی دہلی میں منعقد ہونے والے ’انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 ‘کے عنوان سےایک اہم پینل مباحثے کی میزبانی بھی کرے گی۔
توقع کی جاتی ہے کہ اس پیشگی تقریب کے دوران ہونے والی گفتگو اور تبادلۂ خیال سے انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 میں ہونے والی وسیع تر قومی سطح کے مباحثےرہنمائی فراہم کریں گے اور سمارٹ، محفوظ اور مستقبل کے لیے تیار بندرگاہی بنیادی ڈھانچے کے حوالے سے بھارت کے وژن کو مزید تقویت فراہم کریں گے۔


******
( ش ح ۔ ش م ۔ م ا )
Urdu.No-2001
(ریلیز آئی ڈی: 2225740)
وزیٹر کاؤنٹر : 4