وزارت سیاحت
سیاحتی شعبے میں دھوکہ دہی کے طریقوں پر قابو پانے کے اقدامات
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
09 FEB 2026 4:09PM by PIB Delhi
سیاحتی خدمات میں کمی یا دیگر مسائل جیسے زیادہ قیمت وصول کرنا، گمراہ کن پیکیجز پیش کرنا یا سیاحوں کا استحصال کرنے سے متعلق شکایات وزارتِ سیاحت کو براہِ راست شکایت کنندگان کی جانب سے یا مرکزی عوامی شکایات کے ازالے اور نگرانی کے نظام (سی پی جی آر اے ایم ایس) کے پورٹل کے ذریعے موصول ہوتی ہیں۔ ایسی شکایات موصول ہونے پر، مسائل کے حل میں سہولت کے لیے متعلقہ سروس فراہم کنندگان سے وضاحت طلب کرتے ہوئے معاملہ ان کے ساتھ اٹھایا جاتا ہے۔ اگر سیاحوں کے استحصال کے واقعات وزارتِ سیاحت کے علم میں آتے ہیں تو چونکہ سروس فراہم کنندگان کا متعلقہ ریاست/مرکز کے زیرِ انتظام علاقے (یو ٹی) کے مقامی قوانین اور ضوابط کے تحت رجسٹرڈ یا لائسنس یافتہ ہونا ضروری ہوتا ہے، اس لیے شکایت کو متعلقہ ریاستی حکومت یا یو ٹی انتظامیہ کے ساتھ اٹھایا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، شکایت کنندہ کو ہر معاملے کی نوعیت کے مطابق مناسب فورم، مثلاً صارف عدالت سے رجوع کرنے کا بھی مشورہ دیا جاتا ہے۔ سیاحوں کے لیے معیاری خدمات کو یقینی بنانے کی غرض سے، حکومتِ ہند کی وزارتِ سیاحت سفر اور مہمان نوازی کی صنعت میں مختلف زمروں کے سروس فراہم کنندگان،جیسے آن لائن ٹریول ایگریگیٹرز، ٹور آپریٹرز، ٹریول ایجنٹس، سیاحتی ٹرانسپورٹ آپریٹرز، ہوٹلوں، موٹلز، کنونشن سینٹرز وغیرہ، کو وزارت کی جانب سے جاری کردہ رہنما اصولوں کے مطابق منظوری دیتی ہے۔ یہ مکمل طور پر ایک رضاکارانہ اسکیم ہے اور کاروبار کرنے کے لیے سروس فراہم کنندگان کے لیے وزارت سے منظوری حاصل کرنا لازمی نہیں ہے۔ تاہم، اگر منظور شدہ سروس فراہم کنندگان کے خلاف سنگین نوعیت کی شکایات سامنے آئیں تو وزارتِ سیاحت ان کے خلاف کارروائی کر سکتی ہے، جس میں دی گئی منظوری یا دوبارہ منظوری کی منسوخی بھی شامل ہو سکتی ہے۔
سیاحوں کی حفاظت اور سلامتی بنیادی طور پر ایک ریاستی موضوع ہے۔ تاہم، وزارتِ سیاحت سیاحوں کے لیے زمینی سطح پر حفاظتی نظام کو مضبوط بنانے کے مقصد سے تمام ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں (یوٹی) کی انتظامیہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ خصوصی ٹورزم پولیس کا قیام عمل میں لایا جا سکے۔ وزارتِ سیاحت کی کوششوں کے نتیجے میں تلنگانہ، آندھرا پردیش، دہلی، گوا، کرناٹک، کیرالہ، مہاراشٹر، ہماچل پردیش، جموں و کشمیر، مدھیہ پردیش، اوڈیشہ، پنجاب، راجستھان، سکّم اور اتر پردیش جیسی ریاستوں/یو ٹیز میں ٹورسٹ پولیس تعینات کی جا چکی ہے۔ وزارتِ سیاحت کی جانب سے نیشنل انٹیگریٹڈ ڈیٹابیس آف ہاسپیٹلٹی انڈسٹری (ندھی+) کے فریم ورک کے تحت دی جانے والی منظوری کے عمل میں، سیاحتی شعبے سے وابستہ فریقین کو ایک کثیر سطحی ڈیجیٹل تصدیقی عمل کے ذریعے رجسٹر کیا جاتا ہے، جس میں درج ذیل مراحل شامل ہیں:
- سروس فراہم کنندہ کی قانونی شناخت قائم کرنے کے لیے مستقل اکاؤنٹ نمبر (پی اے این) کی تفصیلات کی لازمی جمع آوری اور ڈیجیٹل تصدیق۔
- صداقت اور محفوظ رابطے کو یقینی بنانے کے لیے رجسٹرڈ موبائل نمبر اور ای میل آئی ڈی کی او ٹی پی پر مبنی تصدیق لازمی۔
- آدھار پر مبنی تصدیقی سہولت (اختیاری)۔
- قابلِ اطلاق غذائی خدمات سے متعلق سیاحتی اداروں کے لیے ضوابط کی پابندی کو یقینی بنانے کی خاطر فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (ایف ایس ایس اے آئی) کے درست لائسنس کی ڈیجیٹل تصدیق۔
یہ معلومات آج لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں سیاحت و ثقافت کے مرکزی وزیر جناب گجیندر سنگھ شیخاوت کی جانب سے فراہم کی گئیں۔
******
ش ح۔ م م۔ م ر
U-NO. 1972
(ریلیز آئی ڈی: 2225576)
وزیٹر کاؤنٹر : 6