وزیراعظم کا دفتر
azadi ka amrit mahotsav

’’پریکشا پے چرچا2026‘‘ کی قسط 2 میں طلباء کے ساتھ وزیر اعظم کی بات چیت کا متن

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 09 FEB 2026 3:03PM by PIB Delhi

وزیرِ اعظم: میرے پیارے ساتھیوں،‘‘پریکشا پے چرچا’’ کے اس اہم ایڈیشن میں آپ سب کا دل کی گہرائیوں سے استقبال ہے۔ اس بار ‘‘پریکشا پے چرچا’’ کچھ مختلف ہے، کچھ خاص ہے۔ بہت سے طلبہ نے مجھے یہ مشورہ دیا تھا کہ ملک کے مختلف حصوں میں بھی ‘‘پریکشا پے چرچا’’ ہونا چاہیے، تو اسی لیے اس بار میں نے ملک کے مختلف حصوں میں جا کر طلبہ کے ساتھ بیٹھ کر ‘‘پریکشا پے چرچا’’ کی ہے۔ آپ اس خصوصی قسط میں یہی دیکھنے جا رہے ہیں۔ تو سب سے پہلے چلتے ہیں تمل ناڈو کے کوئمبٹور۔ تمل ناڈو کے طلبہ کی توانائی اور ان کی تجسس نے مجھے بہت متاثر کیا۔ آئیے دیکھتے ہیں۔

وزیرِ اعظم: وناکم!

طا لب علم: وناکم سر!

وزیرِ اعظم: تو آپ لوگوں کو کچھ کھانے پینے کو ملا یا نہیں؟

طا لب علم:نہیں سر، کھا لیا۔

وزیرِ اعظم: کیا ملا؟

طا لب علم: ابھی ہم گھر سے لے کر آئے تھے۔

وزیرِ اعظم: گھر سے لے کر آئے تھے۔

طا لب علم: میں اپنی آنکھوں پر یقین نہیں کر سکا جب میں نے انہیں دیکھا۔

طا لب علم: سب سے پہلے میں نے سوچا کہ وہ ایک متحرک، ڈرامائی انداز میں آئیں گے کیونکہ وہ آخرکار وزیرِ اعظم ہیں، لیکن وہ بہت سادہ اور زمین سے جڑے ہوئے ہیں۔

طا لب علم:جب وہ اندر آئے تو گویا ہمارے جسم  پرلرزاں  طاری ہو گیا اور ہمارے رونگٹے کھڑے ہوگئے، وہ واقعی بہت عظیم تھے۔

وزیرِ اعظم: ایسا ہے کہ میں کئی سالوں سے 10ویں اور 12ویں کلاس کے بچوں سے ‘‘پریکشا پے چرچا’’ کے ذریعے بات چیت کرتا رہتا ہوں اور میں یہ گفتگو اس لیے کرتا ہوں کہ کچھ سیکھ سکوں۔ میرے لیے یہ سیکھنے کا پروگرام ہے، سکھانے کا نہیں۔ تو آج میں تمل ناڈو کے نوجوانوں سے اس لیے مل رہا ہوں کہ مجھے کچھ سیکھنا ہے۔ تو اگر آپ میں سے کوئی کچھ بات کرنا چاہتا ہے، اپنی رائے دینا چاہتا ہے، تو میں سننا چاہتا ہوں۔ کون شروع کرے گا؟

طالب علم: میرا نام چھوی جین ہے۔ میں اسٹارٹ اپ کرنا چاہتی ہوں تو مجھے کن کن موضوعات کی معلومات چاہیے اور تعلیمی سطح پر مجھے کیا کرنا ہوگا تاکہ مجھے اسٹارٹ اپ کے لیے مدد مل سکے؟

وزیرِ اعظم: آپ کی بات بالکل درست ہے۔ آجکل جب بھی میں کسی نوجوان سے ملتا ہوں تو وہ فوراً اسٹارٹ اپ کی بات کرتا ہے۔ سب سے پہلے آپ کا دھیان اس بات پر ہونا چاہیے کہ آپ واقعی کیا کرنا چاہتے ہیں۔ کچھ اسٹارٹ اپ ایسے ہیں جو صرف ٹیکنالوجی میں جدت لانا چاہتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے میں ڈرون بناؤں گا، کوئی کہتا ہے میں گھر میں بجلی کا انتظام ایسا کر دوں۔ آپ کے چار دوست ہوں جو ٹیکنالوجی میں ماہر ہیں، ایک دو دوست ہیں جو فنانس میں ماہر ہیں، تو پھر چار لوگوں کی ٹیم بنائیں اور ساتھ میں اپنا اسٹارٹ اپ شروع کریں۔ ضروری نہیں کہ اسٹارٹ اپ کے لیے عمر 25 سال ہو۔ آپ کسی بھی وقت شروع کر سکتے ہیں، چھوٹے چھوٹے اسٹارٹ اپ سے بھی آغاز کیا جا سکتا ہے۔ اگر آپ کی دلچسپی ہے، تو یہ بہت اچھی بات ہے۔ کچھ اسٹارٹ اپ چلتے ہیں تو ان کے پاس جائیں، ایک پروجیکٹ رپورٹ تیار کریں اور انہیں بتائیں کہ میں اسکول کی پروجیکٹ کر رہا/رہی ہوں، وہ چھپائیں گے نہیں، آپ کو بتائیں گے۔ اس طرح آپ آہستہ آہستہ علم بھی حاصل کر لیں گے کہ کیسے کیا جا سکتا ہے۔

طالب علم:سر، مجھے ہمیشہ یہ ڈر رہتا ہے کہ اگر میں پڑھائی پر زیادہ دھیان دوں تو اپناجنون چھوٹ جائے گا۔ اگر میں اپنےجنون پر زیادہ دھیان دوں تو میری پڑھائی متاثر ہو جائے گی، دونوں میں توازن کیسے لایا جائے؟

وزیرِ اعظم: دیکھیں، پہلی بات یہ ہے کہ یہ دونوں الگ چیزیں نہیں ہیں۔ آپ ایسا کیوں سمجھتی ہیں؟ دونوں فائدہ مند ہیں۔ فرض کریں آپ کو آرٹ کا شوق ہے اور آپ نے سائنس کا کوئی مضمون پڑھا جس میں کوئی لیب کی بات ہے اور کچھ کیمیکل ملا کر تجربہ کرنا ہے تو آپ ایسا کریں کہ کاغذ لیں، لیب بنائیں، کاغذ پر پینٹنگ کریں، لیب بنائیں، پھر ہر بوتل پر کیمیکل کا نام لکھیں۔ پھر دیکھیں کہ یہ کیمیکل ملنے سے کیا رنگ بنتا ہے۔ تو ایک دوسرا نقشہ بنائیں، اس پینٹ کے اندر وہ رنگ ڈالیں۔ اس طرح آپ کا آرٹ بھی ہو گیا اور سبق بھی یاد ہو گیا۔ یعنی ایک ساتھ دونوں چیزیں بہت اچھی طرح کی جا سکتی ہیں۔ آپ کی تھکن دور کرنے کے لیے بھی یہ جو آرٹ یا کرافٹ کی چیزیں ہیں، آپ کی سیکھنے کی خواہش کو پورا کرنے میں مدد کر سکتی ہیں۔ روزانہ یا ہفتے میں دو دن آدھا گھنٹہ اس کے لیے دیں۔ سماجی زندگی میں جس چیز کی ضرورت ہے، وہ تعلیم تو لازمی ہے، لیکن ذاتی زندگی میں جو مفید ہے، وہ آپ اس سے حاصل کر سکتے ہیں۔

طالب علم:ہمارا ملک بھی2047 میں ترقی  یافتہ ممالک کے ساتھ شامل ہونے والا ہے تو میرا سوال یہ ہے کہ ہم نوجوان اس کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟

وزیرِ اعظم:مجھے بہت خوشی ہوئی کہ میرے ملک کے 10ویں اور 12ویں کے بچوں کے ذہن میں بھی2047 میں ایک ترقی یافتہ بھارت کا خواب ہے۔ یہ میرے لیے بہت بڑی خوشی کی بات ہے۔ یعنی آج مجھے واقعی خوشی محسوس ہو رہی ہے۔ دیکھیں2047 میں ترقی یافتہ بھارت یعنی کیا؟ آپ نے کبھی سنگاپور کے بارے میں سنا ہوگا۔ سنگاپور ایک وقت میں ایک چھوٹا سا ماہی گیروں کا گاؤں تھا اور آج یہ بہت بڑا ملک بن گیا۔ لی کوان یو کہتے تھے کہ اگر ہمیں ترقی یافتہ ملک بننا ہے تو ہمیں اپنی عادات بھی ترقی یافتہ ملک کے لوگوں جیسی اپنانی ہوں گی۔ ہم تھرڈ ورلڈ کنٹری کی طرح کہیں بھی کچرا پھینک دیں، کہیں تھوک دیں،یہ نہیں چل سکتا۔ صرف کہیں جانا ہے کہ یہاں پر ریڈ لائٹ ہے، مجھے اسکوٹر کھڑا کر دینا چاہیے۔ چھوٹی چھوٹی چیزیں جیسے کہ اگر ہم خاندان میں یہ فیصلہ کریں کہ ہمارے گھر میں کھانے کے بعد کچھ بھی ضائع نہیں ہوگا تو بتائیں سب لوگ ایسا کریں، تو کتنا کھانا بچے گا، کتنا بڑا فائدہ ہوگا۔ ایک شہری کی حیثیت سے اگر میں یہ چیزیں اپنی زندگی میں اپناؤں، تو میں ترقی یافتہ بھارت میں اپنا کردار ادا کر رہا ہوں۔اب جیسے کہ “ووکَل فار لوکل”یعنی میں اپنے ملک کی چیزیں خریدوں گا، بھارت میں بنی ہوئی چیزیں لوں گا، جیسے میں کہتا ہوں “ویڈ ان انڈیا”۔ کچھ لوگوں کو لگتا ہے کہ امیر لوگ دبئی میں جا کر شادی کریں، لیکن بھارت میں کیا کمی ہے؟ ہم سب ملک کے شہری چھوٹی چھوٹی چیزیں کریں، ہم یقینی طور پر ترقی یافتہ بھارت بنانے میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں، اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

طالب علم : ہم چونک گئے، اے میرے خدا طالب علم کو دراصل اس کی فکر ہے اور اس نے ہمیں بتایا کہ یہ چھوٹا قدم ہے جو بڑا نہیں ہوتا۔

طالب علم:میرا آپ سے سوال یہ ہے کہ جب کوئی طالبہ یا کوئی انسان اپنی زندگی گزار رہا ہوتا ہے تو اسے بہت سی مشکلات اور چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جب حالات مشکل ہو جاتے ہیں، تب ہمارے اندر زندگی گزارنے کی حوصلہ افزائی کم ہو جاتی ہے۔ تو ایسی صورتحال میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے ہمیں حوصلہ افزائی (موٹیویشن) کی ضرورت ہے یا نظم و ضبط (ڈسپلن) کی؟

وزیرِ اعظم:زندگی میں دونوں چیزیں اہم ہیں۔ اگر نظم و ضبط ہی نہیں ہے، تو چاہے کتنا ہی حوصلہ افزائی ہو، وہ حوصلہ افزائی کیا کام آئے گی؟ فرض کریں ایک کسان ہے جسے حوصلہ افزائی مل رہی ہے، اس کے پاس ایک ایکڑ زمین ہے، اور پاس والے کسان کے پاس زیادہ فصل ہو رہی ہے۔ وہ کہتا ہے، ‘‘یار، میں بھی اتنی کمائی کروں۔’’ تو اسے حوصلہ افزائی تو وہاں سے ملتی ہے، لیکن اگر اس نے بارش سے پہلے زمین نہ جوتی اور سوچے کہ اب ہفتے بعد جوئیں گے، تو بارش کے بعد چاہے وہ کچھ بھی کرے، اس کی حالت خراب رہے گی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں نظم و ضبط نہیں تھا۔ حوصلہ افزائی تو تھی کہ میں اس کی جتنی کمائی کروں، لیکن یہ نظم و ضبط نہیں تھا کہ مجھے وقت پر زمین جوتنی چاہیے، بیج تیار کرنے اور رکھنے کا کام کرنا چاہیے۔ زندگی میں نظم و ضبط بہت ضروری ہے اور حوصلہ افزائی اس میں اضافی سہولت یا ‘‘سونے میں سہاگہ’’ کا کام کرتی ہے۔ اگر نظم و ضبط نہ ہو تو چاہے کتنا ہی حوصلہ افزائی ہو وہ بوجھ بن جاتی ہے اور مایوسی پیدا کرتی ہے۔

طالب علم :جب میں نے اپنا سوال پوچھا تو یہ ایک ایسا سوال تھا جس میں اتنے سالوں سے میں الجھا ہوا تھا، اب آخر کارمیں نے ایک ایسے شخص سے وضاحت حاصل کر کے بہت اچھا اور اعزاز محسوس کیا جسے میں نے بھی دیکھا ہے۔

طالب علم :سر، آج کل کے زمانے میں اے آئی(مصنوعی ذہانت) کا اثر بڑھتا جا رہا ہے۔ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ کئی کمپنیوں میں انسان نہیں بلکہ اے آئی ملازمین بھی ہوتے ہیں۔ تو میرا سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں اے آئی سے ڈرنا چاہیے اور اپنے مستقبل کے کیریئر کے انتخاب کے وقت ہمیں کیا چیزیں ذہن میں رکھنی چاہئیں؟

وزیرِ اعظم: دیکھیں، ہر دور میں جب بھی کوئی نئی ٹیکنالوجی آتی ہے، تو بحث ہوتی ہے۔ جب کمپیوٹر آیا تو کہا گیا،‘‘اب کیا ہوگا؟’’یہ ہر دور کی بحث رہی ہے۔ ہمیں کسی چیز سے ڈرنا نہیں چاہیے، ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ہم اُس کے غلام نہ بنیں۔ میں اپنی زندگی میں خود فیصلہ کرنے والا ہوں، وہ میرا مالک نہیں بنے گا۔ جیسے بعض بچوں کے لیے موبائل ان کا مالک بن گیا ہے—اگر موبائل نہیں، تو کھانا نہیں کھا سکتے، ٹی وی نہیں، تو جی نہیں سکتے۔ مطلب یہ کہ آپ اُس کے غلام بن گئے ہیں۔ میں غلام نہیں بنوں گا۔ ایک بار یہ عزم دل میں پختہ کر لیں۔

ہر ٹیکنالوجی کا ہم زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پراگر میں اے آئی سے پوچھوں کہ مجھے اس موضوع پر اچھی کتاب کہاں ملے گی یا کون سی کتاب اچھی ہے، تو یہ میری رہنمائی کر سکتا ہے اور آپ کے لیے کام آئے گا۔ لیکن اگر آپ کہیں‘‘میں نہیں پڑھوں گا، تم ہی مجھے بتا دو اندر کیا ہے’’ تو پھر مسئلہ ہے۔

ہمیشہ کام کی نوعیت بدلتی رہے گی۔ پہلے جب لوگ بیل گاڑی میں جاتے تھے، تو کام کی نوعیت ایک تھی، اب وہ ہوائی جہاز میں سفر کرتے ہیں، تو بہت کچھ بدل گیا، لیکن زندگی چلتی رہی۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں ٹیکنالوجی کو سمجھنا ہوگا، اپنے آپ کو اس میں وسیع کرنا ہوگا، اور اپنی مہارت میں اس ٹیکنالوجی کی طاقت کو شامل کرنا ہوگا۔ اپنے کاموں میں ویلیو ایڈیشن کریں۔ اگر یہ ہوتا ہے، تو میں پختہ یقین رکھتا ہوں کہ چاہے کتنی بھی جدید ٹیکنالوجی کیوں نہ آئے، ہم اسے استعمال کریں گے، اور ہمیں ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

طالب علم :مجھے کبھی یقین نہیں آیا کہ مجھے منتخب کیا جائے گا اور مجھے ہمارے وزیرِ اعظم کے ساتھ اتنی شاندار ملاقات کا موقع ملے گا۔

طالب علم:یہ واقعی ایک شاندار تجربہ تھا، میں مکمل طور پر متأثر اور دلبرداشتہ ہوں اوریہ بہت حقیقی محسوس ہوا۔

طالب علم:وہ وزیرِ اعظم کی حیثیت سے زیادہ ایک خاندان کے رکن کی طرح محسوس ہوئے۔

وزیرِ اعظم: ساتھیوں کوئمبٹور کے ہمارے نوجوان ساتھی پڑھائی کے ساتھ ساتھ اے آئی، اسٹارٹ اپ اور مستقبل کی ٹیکنالوجی کے حوالے سے بہت باشعور ہیں اور میں کہہ سکتا ہوں یہی ہے نوجوان بھارت کی نوجوان سوچ جو 2047 کے ترقی یافتہ بھارت کے عزم کو نئی طاقت دے رہی ہے۔

ساتھیو!

‘‘پریکشا پے چرچا’’ کا مقصد ہی ہے کہ ساتھ بیٹھ کر بات کریں اور ایک دوسرے سے سیکھیں۔ اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے ہماری گفتگو کچھ ہفتوں کے بعد کوئمبٹور سے نکل کر چھتیس گڑھ کی راجدھانی رائے پور پہنچ گئی۔ وہاں بھی بچوں سے میری بہت دلچسپ باتیں ہوئیں اور میں کہہ سکتا ہوں کہ صرف بات چیت ہی نہیں، بلکہ مزیدار چیزیں کھانے کا موقع بھی ملا۔ آپ بھی اس کا لطف اٹھائیے۔

طالب علم: جے جوہار سر۔

وزیرِ اعظم: جے جوہار۔

وزیرِ اعظم: کچھ کھلایایا نہیں؟

طالب علم:جی سر۔

طالب علم:سر، آپ بھی بہت ساری میٹنگز کے بعد آئے ہیں۔ آپ بھی ہمارے یہاں آ کر کھانا کھائیں گے؟

وزیرِ اعظم:یہ کیسے بنتا ہے؟

طالب علم: سر، یہ بیسن کو گول گول شکل دے کر تلتے ہیں۔

وزیرِ اعظم: اچھا، اور؟

طالب علم:یہ نمکین ہوتا ہے۔

وزیرِ اعظم: تو یہ لوگ کب کھاتے ہیں؟

طالب علم:سر، یہ دیوالی کے وقت بنتا ہے۔

وزیرِ اعظم:دیوالی کے وقت بنتا ہے۔

طالب علم:زیادہ تر دیوالی کے وقت بنتا ہے۔

وزیرِ اعظم: مہاراشٹر میں اسے کیا کہتے ہیں؟

طالب علم:نہیں معلوم۔

طالب علم:مہاراشٹر میں بھی ایسا بنتا ہے، اسے چکلی کہتے ہیں۔

طالب علم:ہاں سر۔

وزیرِ اعظم:یہ کیا ہے؟

طالب علم:سر، یہ خرمی ہے۔

وزیرِ اعظم: ہاں۔

طالب علم:ہماری کھورمی گڑ، آٹے اور سوئی سے بنتی ہے۔

وزیرِ اعظم:تو مزے سے کھلانے کے لیے شکریہ بیٹے۔

طالب علم:وہاں پر انہیں خرمی  ملی تو انہوں نے سب کو اپنے ہاتھ سے ایک ایک خرمی کھلائی اور یہ واقعی حیرت انگیز تھا۔

وزیرِ اعظم: آپ کے دل میں بھی کچھ سوالات ہوں گے، آج آپ لوگوں کو یہاں آنے کا موقع ملا ہے، تو؟

طالب علم:جی سر۔

وزیرِ اعظم: بتائیے۔

طالب علم:ہم طلبہ بھی امتحانات کے بعد چھٹیوں میں جانا چاہتے ہیں، تو آپ بھارت میں پانچ ایسی جگہیں بتا سکتے ہیں جہاں ہم جا سکیں؟

وزیرِ اعظم: آپ جس تحصیل سے ہیں، کون سی تحصیل ہے آپ کی؟

طالب علم:سر، میں رائے پور سے…

وزیرِ اعظم: رائے پور سے رائے پور تحصیل میں کون کون سی چیزیں ہیں، اس کی ایک لسٹ بناؤ، ایک گھنٹہ لگے گا، دو گھنٹے لگیں گے میں جاؤں گا۔ پھر لسٹ بناؤ کہ ضلع میں کون سی جگہیں دیکھیں نہیں، پھر طے کریں کہ ریاست میں کون سی، چھتیس گڑھ میں کون سی جگہ ہےمیں گیا نہیں۔ ہمیں کہیں بھی بطور اسٹوڈنٹ جانا چاہیے، تب ٹورزم کا مزہ آتا ہے۔ ریلوے کے ڈبے میں جانا اور خاص طور پر ساتھ کھانا بھی لے جانا۔ دیکھنا چاہیے کیسا تجربہ ہوتا ہے، بھیڑ ہوتی ہے، لوگ کیا کرتے ہیں، باتیں کرتے ہیں، اس کا لطف ہے اور زندگی میں سیکھنے کو ملتا ہے۔ بھارت اتناتنوع سے بھرا ہوا ہے، ایک زندگی بھی کم پڑ جائے دیکھنے کے لیے۔

طالب علم:سر، میرا سوال یہ ہے کہ کبھی کبھی ہم امتحان کے دوران ریویژن نہیں کر پاتے، جس سے ہمارا دل بے چین ہو جاتا ہے، تو سر ہم اپنے دل کو کیسے پرسکون رکھیں، امتحان کے دوران بھی اور ہال میں جانے سے پہلے بھی؟

وزیرِ اعظم: ایک ہفتہ دیکھ لیجئے امتحان سے پہلے، سب کچھ اوپر نیچے کر ہی لیا ہوگا۔ مان لیجئے جو کچھ سنا، جو کچھ پڑھا، وہ بے کار نہیں گیا، کہیں نہ کہیں اسٹوریج ہو گیا ہے۔ آپ پرسکون ہو کر بیٹھیں، فکر نہ کریں، جیسے پیپر آئے گا ویسے دیکھیں۔ دوسری چیز، آپ اچھا طالب علم بننا چاہتے ہیں، تو آپ کو اس مضمون پر گرفت ہونی چاہیے، تبھی اچھے طالب علم بنیں گے۔ مضمون پر گرفت کیسے آئے گی؟ ایک اچھا کھلاڑی کیسے بنتا ہے؟

طالب علم:پریکٹس، مستقل مزاجی، نظم و ضبط اور روٹین کے ساتھ۔

وزیرِ اعظم:سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ مسلسل مقابلہ کرتا رہتا ہے، گرتا ہے، اٹھتا ہے، ہارتا ہے، جیتتا ہے، یہ سب کرکے وہ کھلاڑی بنتا ہے۔ میں آپ کو ایک تجویز دیتا ہوں، کریں۔ آپ کی کلاس میں کچھ طلبہ ہوں، جنہیں پڑھائی میں تھوڑا کم دھیان ہے، ایسے ایک دو دوست بنائیں۔ یہ تکنیک بہت کام آئے گی۔ اسے کہیں، ‘‘میں آج تمہیں میتھ سکھانا چاہتا ہوں۔’’ اب میتھ سکھانے کے لیے جو محنت کریں گے، دماغ فوکس ہوگا، آپ کا میتھ پکا ہوگا، کیا نہیں ہوگا؟

طالب علم:ہوگا سر۔

طالب علم:میں ٹائیکوانڈو کھیلتی ہوں اور آگے جا کر سپورٹس پرسن بننا چاہتی ہوں، اپنی پڑھائی اور کھیل کو کیسے بیلنس رکھ سکتی ہوں؟

طالب علم:تعلیم زندگی میں ضروری ہے، معاشرتی زندگی میں بھی ضروری ہے، اس کو کم نہ سمجھیں۔ یہ غلطی کبھی نہ کریں کہ کھیل میں اچھا ہوں، پڑھائی کی ضرورت نہیں۔ لیکن تعلیم سب کچھ نہیں کر لے گی، آپ میں ہنر ہے، اسے ترقی دینی چاہیے۔ کھلاڑی بننے کے لیے کھیلیں،یہ ایک مضمون ہے، لیکن زندگی میں کھیل ہونا چاہیے،یہ بھی ضروری ہے۔ کھیلیں تاکہ زندگی بھر فعال رہیں اور پڑھائی بھی کریں تاکہ لوگ کہیں کہ اس کو پڑھائی بھی آتی ہے۔ اس طرح آپ میدان میں بھی مضبوط اور پڑھائی میں بھی مضبوط رہیں گے۔

طالب علم:انہوں نےجو کچھ بھی بتایا، میں اسے اپنی زندگی میں نافذ کرنے کی کوشش کروں گی اور میں الفاظ میں بیان نہیں کر سکتی کہ آج کیا ہوا۔

طالب علم:سر، میرا سوال یہ ہے کہ جیسے کچھ سال پہلے آپ نے “سوچھ بھارت” شروع کیا تھا، ہمارا نیا رائے پور بھی ترقی کی طرف جا رہا ہے، تو ہم بطور اسٹوڈنٹ اس ترقی میں یا اپنے ماحول کے تحفظ کے لیے کیا حصہ ڈال سکتے ہیں؟

طالب علم:قدرتی وسائل کو بچانا ہمارا فطری رویہ ہونا چاہیے اور آہستہ آہستہ ہمیں دوسروں کو بھی شامل کرنا چاہیے۔ جب ہم لوگوں کو شامل کرتے رہیں گے، تو تبدیلی آتی ہے۔ خود اپنی زندگی میں کچھ اصولوں پر عمل کریں۔ مثال کے طور پر پانی: فرض کریں میں برش کر رہا ہوں اور پانی بہ رہا ہے، تو اسے بند کریں، جب منہ دھوئیں تب پانی لیں۔ یہ چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں۔ ایک بار میں ایک گاؤں میں گیا۔ دور سے دیکھا کہ ایک جگہ بالکل جنگل جیسی ہری بھری جگہ ہے، پوچھا کیا ہے، بتایا یہ تو اسکول ہے۔ وہاں ایک ٹیچر نے بچوں کو سکھایا کہ گھر میں بچا ہوا پانی اور سبزی کے ٹکڑے روزانہ اسکول لائیں، پھر انہوں نے وہاں درخت لگائے۔ ہر بچے کو ایک درخت دیا گیا اور پانی ڈال کر وہ کھاد کا کام کرتا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پورا اسکول سر سبز ہو گیا۔ ایک ٹیچر نے اتنی بڑی تبدیلی لائی۔ انسانی رویے سے ہی تبدیلی شروع ہوتی ہے۔ چھوٹی چیزیں ہیں ہم آسانی سے کر سکتے ہیں۔

طالب علم: آپ اتنے سالوں سے ملک سنبھال رہے ہیں، ملک کے لیڈر ہیں تو آپ آنے والی نسل سے، یعنی ہم بچوں میں، کس قسم کی خصوصیات دیکھنا چاہتے ہیں کہ ہمیں ایک لیڈر کے طور پر آنی چاہیے؟

طالب علم:ایسا لیڈر بننا چاہیے جو بے خوف ہو۔

طالب علم:دونوں ہونا چاہیے۔

طالب علم:دیکھیں پہلے بے خوف بنیں۔

طالب علم:جی سر۔

وزیرِ اعظم: جو کام ہے دل میں طے کریں، کوئی کرے یا نہ کرے میں کروں گا۔ جب یہ آ جائے آپ خود سے شروع کریں، تو آپ دیکھیں گے کہ خود بخود قیادت آنا شروع ہو جائے گی۔ مثال کے طور پر یہاں کچرا ہے، آپ نے اٹھا لیا، آپ کے ساتھ جو لوگ چل رہے ہیں وہ بھی دیکھ کر اٹھا لیں گے۔ یعنی آپ لیڈر بن گئے، یا نہیں؟ اچھی بات ہے، ہمیں خود کو ہمیشہ لیڈر رول میں تیار کرنا چاہیے۔ یہ اچھا اعتماد ہے، اچھا سوچ ہے۔ لیکن لیڈر کا مطلب یہ نہیں کہ انتخاب لڑنا یا پارٹی بنانا، لمبا خطبہ دینا۔ لیڈر کا مطلب یہ ہے کہ ایک خاص صلاحیت ہونا چاہیے:آپ دس لوگوں کو اپنی بات سمجھا سکیں۔ تھوپنا نہیں، سمجھانا ہے۔ سمجھانے کے لیے پہلے خود سمجھنا ضروری ہے، جو سمجھ پائے گا، وہ سمجھا پائے گا۔

طالب علم:انہوں نے بہت اچھے سے بتایا کہ کسی میں قیادت کی خصوصیات اس وقت آتی ہیں جب وہ کسی چیز کے لیے ذمہ دار ہوتا ہے۔ اگر میں اس پورے تجربے کو بیان کروں تو کہوں گی،یہ ایک خواب جیسا ہے۔

طالب علم:میں وزیرِ اعظم سے ملی۔

طالب علم:میں بہت خوش قسمت ہوں۔

طالب علم:بہت اچھا تھا، مطلب ایسا تجربہ جو زندگی میں بہت کم لوگوں کو ملتا ہے۔

وزیرِ اعظم:امتحان کی تیاری کے تجربات، امتحان کے دوران خیالات، دباؤ اور توقعات سے جڑے سوالات مسلسل بات چیت کا حصہ بنتے ہیں، اور ‘‘پریکشا پے چرچا’’ کا مقصد یہی ہے کہ ہمارے نوجوان ساتھی اس پر کھل کر بات کریں۔ یہ صرف بورڈ امتحان کی تیاری تک محدود نہیں ہے۔ جب میں آپ کے سوال سنتا ہوں، تو وہ دل کو چھو جاتے ہیں۔ میں اندازہ لگاتا ہوں کہ زندگی کے کئی پہلوؤں سے جڑی باتیں ہمارے نوجوان دوستوں کے ذہن میں مسلسل چل رہی ہیں۔ اب میں آپ کو گجرات لے جاؤں گا، وہاں کے بچوں نے، اور خاص طور پر ٹریبل بیلٹ کے میرے آدیواسی بچوں نے جو سوال پوچھے، انہوں نے مجھے واقعی حیران کر دیا۔

طالب علم:نمستے سر۔ دیو موگرا گاؤں میں آپ کا استقبال ہے۔

وزیرِ اعظم:واہ مجھے بتایا گیا تھا کہ آج سب کو ہندی میں بولنا ہے۔

طالب علم:ہاں سر۔

وزیرِ اعظم:چلیے۔

طالب علم:سر، جب آئے تو ہم نے دیکھا کہ انہوں نے ایک کوٹی پہنی ہوئی تھی جس پر وارلی آرٹ تھا۔ ہمارے آدیواسی معاشرے میں وارلی آرٹ کی بہت اہمیت ہے، ہمیں یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔

طالب علم:ہم بہت پرجوش تھے آپ سے ملنے کے لیے۔ کسی اور بچے کو آپ سے ملنے اور بات کرنے کے لیے کتنے سوال ہوتے ہیں۔ لیکن ہم خوش قسمت ہیں کہ آپ سے بات کر پائے۔

وزیرِ اعظم:آپ لوگ کتنی دور سے آئے ہیں؟

طالب علم:ہم یہاں ڈیڈیاپارہ سے۔

وزیرِ اعظم:ڈیڈیاپارہ سے آئے ہیں، اچھا۔

طالب علم:ہم مانڈوی سے سر۔

طالب علم: مانڈوی، اچھا،نام کیا ہے؟

طالب علم: جے۔

وزیرِ اعظم: جے اور ابھی؟ اتنے بڑے ہو گئے آپ لوگ؟ پہنچانتے،ان کو بتایا کیسامیرا تعارف ہے آپ سے ؟

طالب علم: ہاں۔

وزیرِ اعظم: ان کی ہمت آئی کہ نہیں آئی سب کو؟

طالب علم:آئی سر، آئی۔

وزیرِ اعظم:یہ مجھے پہلے بھی ایک بار ملنے آئے تھے۔

وزیرِ اعظم: چلیں، بتائیں آپ کچھ پوچھنا چاہتے ہیں؟ کچھ جاننا چاہتے ہو بتائیے؟

طالب علم:سر، ہمارے ماں باپ نے بتایا کہ پہلے کچھ آدیواسی علاقے بہت پسماندہ تھے۔ آپ کا ان سے بہت لگاؤ ہے اور آپ نے وہاں تبدیلی کی، تو آپ کو اس کی تحریک کہاں سے ملی؟

وزیرِ اعظم: آپ کو پال-چتریا کی واقعہ معلوم ہے؟

طالب علم:ہاں۔

وزیرِ اعظم:وہاں آدیواسیوں نے آزادی کے لیے بڑی جدوجہدکی تھی۔ ایک بار شدید قحط پڑا۔ میں اس علاقے میں کئی دن کام کرتا رہا۔ تب مجھے لگا کہ تعلیم پر توجہ دینی چاہیے۔ بعد میں جب میں وزیراعلی ٰبنا تو توجہ دینے لگا۔ آپ کو حیرت ہوگی کہ ایک وقت ایسا تھا کہ عمر گاؤں سے امباجی تک ایک بھی سائنس اسکول نہیں تھا۔ اب دو یونیورسٹیاں، سائنس اسکول، انجینئرنگ، آئی ٹی آئی، بہت تبدیلی آئی اور فائدہ ہو رہا ہے۔

طالب علم:ہاں سر۔

وزیرِ اعظم: آج بھی، جیسے میں نے پی ایم جن من اسکیم بنائی، کچھ آدیواسی علاقے پیچھے رہ گئے، ان کے لیے الگ اسکیم اور بجٹ بنانا پڑا۔ تب مجھے لگا کہ تعلیم پر زور دینا سب سے زیادہ ترقی دے گا۔ ساتھ ہی پورے آدیواسی علاقے میں امراگاؤں سے امباجی تک ہائی وے بنایا، تو ترقی کے لیے انفراسٹرکچر ضروری تھا، لوگ آنا جانا شروع ہوئے، اس پر توجہ دی۔

طالب علم:میرا سوال یہ ہے کہ پہلگام حملے کے بعد سب گھروں میں بحث ہو رہی تھی کہ آگے کیا ہوگا، پورا ملک آپ کی طرف دیکھ رہا تھا۔ پھر آپریشن سندور ہوا اور ہماری فوج نے کامیابی حاصل کی۔ ایسے موقع پر آپ نے اپنےذہنی تناؤ کو کیسےقابو میں کیا؟ ہم تو صرف امتحان کے تناؤ سے۔

وزیرِ اعظم: آپ لوگوں کو امتحان کا دباؤ آ جاتا ہے۔

طالب علم:ہاں، یس سر۔

وزیرِ اعظم: جب پرانےامتحانات کو یاد کریں، تو لگتا ہے ہاں یار، دباؤ تھا، لیکن جب کر لیا، تو کچھ نہیں تھا۔

طالب علم: ہاں سر۔

وزیرِ اعظم:ایسا ہوتا ہے، ہے نا؟

طالب علم:ہوتا ہے سر۔

وزیرِ اعظم:امتحان کے لیے سب سے اچھی چیز یہ ہے کہ آپ پیپر حل کرنے کی عادت ڈالیں، لکھیں۔ زیادہ تر لوگ صرف پڑھتے ہیں۔

طالب علم:ہاں، یس سر۔

وزیرِ اعظم:اگر خود اس طرح پریکٹس کریں، تو یقین ہے کہ کبھی دباؤ نہیں آئے گا۔

طالب علم:ہاں سر۔

وزیرِ اعظم:ہم کیا کرتے ہیں، پورا دن کتاب، ارے کبھی ہنسیں۔ سب سے بڑی چیز جو آج لوگ نہیں سمجھتے، وہ ہے نیند۔ اچھی نیند لینی چاہیے۔ آپ کہیں گے یہ کیسا وزیراعظم ہے جو نیند کی بات کر رہا ہے، ہم تو امتحان کے بارے میں پوچھ رہے تھے۔ لیکن اچھی نیند سے باقی وقت تازہ دم رہتا ہے، نئے خیالات اور توانائی رہتی ہے۔

طالب علم:ہاں سر۔ ہم ڈاکٹر، انجینئر یا افسر بننا چاہتے ہیں، تو کریئر کیسے منتخب کریں؟

وزیرِ اعظم: اگر ایک مہینے میں10 چیزیں الگ الگ بتائیں تو گھر والے کیا کہیں گے؟ یہ اچھی بات ہے کہ آپ کو کچھ دیکھ کر لگے میں بھی ایسا کرتا۔ بڑے بننے کی خواہش برا نہیں ہے، لیکن بڑے بننے والے سے اپنے آپ کو جوڑیں نہیں۔ کہاں سے شروع کریں؟ اگر آپ اس پر دھیان دیں، تو آگے چلیں۔ کوئی کہے میں کرکٹر بنوں، لیکن جب میں آٹھویں کلاس میں تھا، صبح 4 بجے اٹھ کر اسٹیدیم جاتا، دو گھنٹے پریکٹس کرتا۔ تب لگا اچھا محنت کرنی پڑتی ہے۔ چلیں شروع کرتے ہیں۔ پھر کامیابی آپ کا انتظار کرے گی۔

طالب علم:ہاں۔

وزیرِ اعظم:جیسے ہی نمبر ون بن جائیں گے، کامیابی کا شور ہوگا؟

طالب علم:ہوگا۔

وزیرِ اعظم: پورے اسکول کو پتا چلے گا؟

طالب علم:چلے گا۔

وزیرِ اعظم:پورے گاؤں کو پتا چلے گا؟

طالب علم:چلے گا۔

وزیرِ اعظم: ہماری کوشش یہی ہونی چاہیے۔

طالب علم:سر، جو باتیں آپ نے  بتائیں، میں اپنی زندگی میں آگے بڑھنے اور کچھ بننے کے لیے استعمال کروں گی،سب اپنے لئے سوچا

وزیرِ اعظم:آئیے۔

طالب علم:سر، اب ہم آپ کو اپنے کلچر سے متعلق کچھ چیزیں دکھائیں گے۔ یہ وارلی پینٹنگز ہیں جو کارڈ بورڈ پر بنائی گئی ہیں۔ یہ ہماری ثقافت کی نمائندگی کرتی ہیں، جیسے پٹھورا آرٹ۔

وزیرِ اعظم:خود بنائیں؟

طالب علم:جی سر، آپ کے لیے بنایا ہے۔

وزیرِ اعظم: کیا نام ہے آپ کا ؟

طالب علم:کشن۔

وزیرِ اعظم:یہ آپ کی ہینڈ رائٹنگ ہے؟

طالب علم:یس سر۔

وزیرِ اعظم:واہ، کتنی خوبصورت ہے۔

طالب علم: گھر کی دیواروں پر بھی یہ بناتے ہیں اور ان کی پوجا بھی کرتے ہیں۔

وزیرِ اعظم:واہ، تو آپ تو بڑے آرٹسٹ بن گئے  بھئی۔

طالب علم: جی سر۔ مجھے بہت اچھا لگ رہا ہے کہ ہمارے بھارت کے وزیراعظم نے میری پینٹنگز دیکھیں اور سر نے ہمارے ساتھ بہت دوستانہ طریقے سے بات کی، ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے ہم اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر بات کر رہے ہوں۔

طالب علم:مجھے آپ سے یہ سوال ہے کہ آپ کی زندگی میں آپ کے اساتذہ کا کیا کردار رہا؟

وزیرِ اعظم: بہت بڑا کردار رہا، بہت بڑا۔ جیسے میں نے بتایا، میرے ٹیچرز ہمیں روزانہ کہتے تھے کہ آپ لائبریری جائیں، ٹائمز آف انڈیا میں ایڈیٹوریل کے اوپر ایک جملہ ہوتا تھا، وہ لکھ کر آئیں اور اگلے دن اس پر بحث کرتے تھے۔ اسی طرح بہت سی چیزیں تھیں۔ فٹنس کے معاملے میں میرے یہاں پرمار صاحب تھے، جب میں پرائمری میں تھا، وہ جسمانی فٹنس کے بہت سخت پرستار تھے، یوگا سکھاتے، ملکھمب سکھاتے۔ ہم پروفیشنل کھلاڑی نہیں بنے، لیکن ہمیں سمجھ آیا کہ یہ صحت کے لیے ضروری ہے۔ ہر استاد کا ہر ایک کے زندگی میں بڑا اثر ہوتا ہے۔ دنیا کے بڑے عظیم شخصیات میں دو چیزیں ضرور ملیں گی: ایک کہ ان کی زندگی میں ان کی ماں کا بہت بڑا کردار رہا، دوسرا کہ ان کے اساتذہ کا بہت بڑا کردار رہا۔

طالب علم:ہاں۔

طالب علم:ہر شعبے میں ہمارا ملک آگے بڑھ رہا ہے۔ تو آپ بتائیں کہ ہمارے ملک سے آدیواسی کمیونٹی کے لوگ ملک کو آگے بڑھانے میں کیا کر سکتے ہیں؟

وزیرِ اعظم: بہت کچھ! دیکھیں، جو ملک آج آگے بڑھا ہے، وہ آدیواسی معاشرے کی وجہ سے آگے بڑھا ہے۔ آج ملک کا ماحول محفوظ ہے، آدیواسی معاشرے کی وجہ سے۔ وہ فطرت کی پرستش کرتے ہیں اور فطرت کی حفاظت کرتے ہیں۔ آج بھی ہماری فوج میں زیادہ تر آدیواسی بچوں کی تعداد ہے۔ آج ملک کے ہر شعبے میں فرق نہیں رہنا چاہیے۔ ہمارے پاس جیسے کھلاڑی ہیں، ہمارے آدیواسی بچے بھی بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ ان کی ترقی ہوئی، ملک کا نام روشن ہوا۔ آپ کو معلوم ہے، ابھی خواتین کرکٹ ٹیم نے جیت حاصل کی۔

طالب علم:ہاں سر۔

وزیرِ اعظم: کرانتی گاؤڑ نام کی بچی ہیں، مدھیہ پردیش سے، وہ آدیواسی لڑکی ہے۔

طالب علم:ہاں سر۔

وزیرِ اعظم: اس نے کھیلوں میں نام کمایا ہے۔

طالب علم:ہاں سر۔

وزیرِ اعظم:اور ہمارے ملک کے کئی کھلاڑی آدیواسی معاشرے سے ہیں اور انہوں نے بہت بڑا نام بنایا ہے۔ اسی طرح آپ کے پاس جو ہنر ہے، اگر آپ ٹیکنالوجی بھی سیکھ لیں تو آپ کی صلاحیت کتنی آگے بڑھ جائے گی۔

طالب علم:ہاں سر۔

وزیرِ اعظم: تو ایک بات ہے کہ زندگی صرف نوکری کے لیے نہیں ہونی چاہیے۔

طالب علم:نہیں۔

وزیرِ اعظم: خواب ایسا ہونا چاہیے کہ میں ایک ایسی زندگی جینا چاہتا ہوں اور اس کے لیے میں زندگی کو ڈیزائن کروں گا۔ اگر ہم ایسا کریں تو ہمیں بہت فائدہ ہوگا۔

طالب علم:گانا گائیں، چلیں سنائیں۔

طالب علم:’’جنگلو ریناری تُو پہاڑو ریناری جنگلو ریناری تُو پہاڑو ریناری …" (پورا گانا واضح نہیں)

طالب علم:ہم سب نے مل کر ایک گانا گایا جو موگی ماتا کے بارے میں تھا۔ وہ کہاں رہتے ہیں، کیسے رہتے ہیں، وہ سب اس گانے میں شامل تھا۔

طالب علم:ہماری بہت ساری بات چیت ہوئی سر کے ساتھ کہ زندگی میں ہمیشہ خوش کیسے رہیں، تمام دباؤ کو کیسے دور کریں، اپنے وقت کا انتظام کیسے کریں، اور امتحانات کے بارے میں کیسے پڑھائی کریں، اور امتحان سے ڈرنا نہیں چاہیے۔

طالب علم:پہلے تو مجھے یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ وزیراعظم سر ہمارے سامنے ہیں۔ وقت کا پتہ ہی نہیں چلا۔

وزیرِ اعظم: ’’پریکشا پے چرچا‘‘ کا ہمارا سفر شمال مشرقی بھارت بھی پہنچا، اور گوہاٹی میں بھی یہ پروگرام جاری رہا، وہ بھی برہماپترا کے بہتے ہوئے پانی کے کنارے، خوب مزے سے۔

طالب علم: نمسکار سر۔

وزیرِ اعظم: چلئے بیٹھئے۔

طالب علم: پرنام معزز وزیراعظم جی۔ ہم سب آپ کو گموچا پہنانا چاہتے ہیں۔

وزیرِ اعظم: ضرور، آسام میں آیا اور گموچا نہ ہو، واہ۔

طالب علم:ان کی موجودگی بہت آرام دہ تھی، جیسے ریلیکسیشن محسوس ہوا۔ بیٹھنے سے جو اینگزائٹی تھی، وہ سب ختم ہو گئی۔ ہم نے ان کے ساتھ بہت باتیں کیں۔

وزیرِ اعظم: اچھا، آپ لوگوں نے ’’پریکشا پے چرچا‘‘ پہلے کبھی ٹی وی پر دیکھا ہے؟

طالب علم: ہاں سر، دیکھا ہے۔

وزیرِ اعظم: اچھا، کبھی آپ نے وہ کتاب بھی دیکھی؟

طالب علم:ہاں سر، ’’ایگزام واریئر‘‘۔

وزیرِ اعظم: تو اس کے بعد جو آپ پہلے سوچتے تھے اور اب سوچتے ہیں، کیا فرق آیا؟ کتاب پڑھنے یا پروگرام دیکھنے کے بعد کیا فائدہ ہوا؟

طالب علم:امتحان سے اتنا ڈر نہیں لگتا۔ آپ نےجو منتر دیے ہیں، جیسے امتحان کو ایک تہوار کی طرح منانا، تو اب تھوڑا تھوڑا ڈر کم ہوا ہے۔

وزیرِ اعظم: لیکن ڈر تو گھر والے بھی بڑھاتے ہیں، ہے نا؟

 

طالب علم:ہاں سر۔

وزیرِ اعظم: ہاں۔

طالب علم:پوچھتے ہیں، جیسے وہ ایک نمبر کہاں گیا، کیوں کٹا ایک نمبر؟

وزیرِ اعظم: زندگی میں اگر اطمینان ہو جائے، بس بہت ہو گیا، اب کیا، تو پھر زندگی میں ترقی نہیں ہوتی۔

طالب علم:جی سر۔

وزیرِ اعظم:یہ کامیابی تو دل میں رہنی چاہیے، لیکن اس کے لیے میں نے ایک بات اپنے منتر میں بتائی ہے۔

طالب علم:سر، ہمیں کسی اور سے مقابلہ نہیں کرنا چاہیے۔

وزیرِ اعظم:ہاں، شاباش!بالکل۔ میں نے یہی کہا ہے کہ ہمیں مسلسل خود سے ہی مقابلہ کرتے رہنا چاہیے۔ کوئی ہمیں کہتا ہے،’’یار، تمہیں99 نمبر آئے، ایک کیوں نہیں آیا؟‘‘ ٹھیک ہے، یہ الگ بات ہے۔ لیکن ہمیں خود سے بھی پوچھنا چاہیے کہ میرے زندگی میںیہ تبدیلی کیوں آئی؟یہ کمی کیوں رہی؟ اس کی وجہ کیا تھی؟ اچھا، آپ کے ذہن میں کچھ سوالات ہوں تو ضرور پوچھیں۔

طالب علم:میرا سوال یہ ہے کہ میں نے سنا ہے کہ آپ اپنی روزمرہ زندگی میں ایک خاص خوراک (ڈائٹ) فالو کرتے ہیں تاکہ صحت مند رہیں، تو ہم طلبہ کونسی جادوی خوراک فالو کریں، جس سے ہم توانائی سے بھرپور اور فوکسڈ رہیں اور ہمارے امتحانات میں بہترین کارکردگی آئے؟

وزیرِ اعظم: حقیقت یہ ہے کہ میرا کوئی خاص ڈائٹ سسٹم نہیں ہے، کیونکہ میں پہلے مختلف خاندانوں میں کھاتا تھا۔ تو بس یہ رہتا تھا کہ میں سبزی خور ہوں، تو سبزی خور کھاؤں گا۔ پھر جس گھر میں جو ہوتا تھا، وہ کھاتا تھا۔ کبھی مجھے خود پکانا پڑتا تھا، کبھی کھچڑی پکائی۔

طالب علم:جی ہاں سر۔

وزیرِ اعظم:خوراک آپ کی پسند کی ہونی چاہیے۔ یعنی یہ نہیں کہ دوا کی طرح ڈائٹ کھائیں۔ فیصلہ کریں کہ پیٹ بھر کے کھانا ہے یا دل بھر کے کھانا ہے۔

طالب علم:دل بھر کے کھانا ہے۔

وزیرِ اعظم:اور زیادہ تر لوگوں کے ساتھ یہ ہوتا ہے کہ منع نہ کیا جائے تو کھاتے رہتے ہیں۔ اناج پیٹ بھر کے کھاتے ہیں، لیکن سانس سینے بھر کے نہیں لیتے۔ یہاں الٹا کرنا چاہیے۔ دن میں جب بھی موقع ملے، جسم بھر کے سانس لینا چاہیے اور ممکن ہو تو کچھ پل روک کر پھر آہستہ آہستہ خارج کریں۔ ہم لوگ کھانے کے علاوہ باقی50 کاموں میں جسم کو سب سے آخری ترجیح دیتے ہیں، لِسٹ میں آخری۔ اچھا آپ میں سے کتنے لوگ ہیں جنہوں نے فیصلہ کیا کہ ہم سورج نکلنے دیکھیں گے؟

وزیرِ اعظم:سنرائز۔

طالب علم:دیکھیں گے سر!

وزیرِ اعظم:یہ جسم کو تازگی دیتا ہے، توانائی دیتا ہے۔ ہمیں یہ عادت ڈالنی چاہیے۔ جسم کو سب سے پہلے ترجیح دینی چاہیے۔

طالب علم:سر، اکثر ہمارے والدین ہمیں ہمارے دوستوں سے موازنہ کرتے ہیں۔ لیکن اس سے زیادہ دباؤ تب پڑتا ہے جب ہمارے گھر والے یا بھائی بہن ہمارے ساتھ موازنہ کرتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

وزیرِ اعظم:فرض کریں کہ والد صاحب نے کہا کہ تمہاری بہن کی لکھاوٹ کتنی خوبصورت ہے۔ تو اچھا انسان کیا کرے گا؟ وہ بہن سے کہے گا،’’بہن، مجھے سکھاؤ کہ میں اپنی لکھائی کو کیسے بہتر بنا سکتا ہوں۔‘‘دوسری صورت یہ ہے کہ اکثر والدین کسی ایک بچے کی تعریف کرتے ہیں، جیسے والدین کو بہن کی لکھائی اچھی لگتی ہے اور دوسرے بچے کی محنت نظر انداز ہو جاتی ہے۔ تو ہمیں چاہیے کہ خاندان میں کسی کی خوبی دیکھیں اور اسے اپنا استاد مان لیں، بغیریہ بتائے کہ وہ ہمارا استاد ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی دوست بیڈمنٹن کھیل میں اچھا ہے تو آپ کہہ دیں’’میری غلطی کیا ہے؟ مجھے سکھاؤ۔‘‘ اس سے وہ خود کو بڑا نہیں سمجھے گا بلکہ خوشی سے سکھائے گا اور آپ کے لیے استاد بن جائے گا۔

طالب علم: گھبراہٹ(نروسنیس) تو ظاہر ہے تھی، لیکن ساتھ میں بہت خوشی اور جوش بھی محسوس ہو رہا تھا۔ بہت خوشی ہوئی کہ میں وزیرِ اعظم سے ملنے والی ہوں۔

طالب علم:اکثر طلبہ کو اسٹیج یا لوگوں کے سامنے بات کرنے میں مشکل ہوتی ہے۔ اس میں خود اعتمادی بڑھانے کے لیے آپ کیا مشورہ دیں گے؟

وزیرِ اعظم: تو سب لوگ میرے پاس آئیں، آگے آئیں۔ اگر کسی کو ایک، دو، تین الفاظ میں بات کرنی ہو تو کیسے؟

طالب علم:سر، خود پر اعتماد رکھنا چاہیے۔

وزیرِ اعظم:یہ خود اعتمادی دو الفاظ سے بنی ہے:’’آتما‘‘ اور ’’وِشواس‘‘۔

طالب علم:آتما اور وِشواس۔

وزیرِ اعظم:جس کو اپنے آپ پر یقین ہے، اسے کبھی ڈر نہیں لگتا۔ کیا آپ کو اپنے پر یقین ہے؟

طالب علم:جی سر ہے۔

وزیرِ اعظم:اگر خود پر یقین ہے تو ہر چیز پار کر سکتے ہیں۔ جس کو خود پر یقین ہوتا ہے، وہ پوری صورتحال کا تجزیہ ذہن میں کرتا ہے۔ جیسا کہ آپ نے سوا می ویویکانند جی کا شکاگو میں مشہور خطاب دیکھا ہوگا۔

طالب علم:جی ہاں سر۔

وزیرِ اعظم:ویویکانند جی نے اپنے شاگرد کو خط لکھا کہ میں بہت نروس تھا، لیکن میں نے ماں سرسوتی سے دعا کی کہ جو کچھ میں نے سیکھا ہے وہ صحیح طریقے سے میرے زُبان پر آئے اور جب میں اسٹیج پر گیا اورمیرے سسٹرس اینڈ بردرس آف امریکہ بولتے ہی دو منٹ تک تالیاں بجتی رہیں۔ بس وہ ایک ایسا لمحہ تھا جس نے ماحول کو تبدیل کر دیا۔ اس سے مجھ خود اعتمادی آئی۔نہیں ، نہیں ،نہیں ،میں جیسا سوچتا تھا ویسا میں نہیں ہوں۔میرے اندر تو کچھ ہے  ہر ، میرے اندر اعتماد پیدا ہو گیا تو ہرشخص کے زندگی میں کیوں نہیں پیدا ہو سکتا ۔آج چاہے کتنے بڑے مقرر  کیوں نہ ہوں ، کتنے ہی بڑے اچھے کھلاڑی،آپ نے دیکھا ہوگا کہ کیا سچن تندولکر بھی کبھی صفر سے آؤٹ ہوئے۔

طالب علم :ہوئے ہیں

وزیر اعظم: تو وہ سر پکڑ کے بیٹھ گئے کیا ؟

طالب علم : نہیں  سر

وزیرِ اعظم:“اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہمیں جو بھی صورتحال ہےاس پرپہلے غور  کرنا چاہیے۔ اس کا اندازہ لگائیں، حالات کو سمجھیں، کہ یہ ہوا تو اب میں کیا کر سکتا ہوں۔ جب یہ سمجھ لیں، تو یہ لگے گا، ’ہاں، یہ میں کر لوں گا۔‘جو لفظ ’خود اعتمادی‘ ہے، اس کا اصل مطلب یہی ہے کہ یہ خود کی بات ہے، اپنی ذات کی بات ہے۔ کوئی اور آپ کے لیے یہ نہیں کرے گا۔ ہمیں خود یہ کرنا ہوتا ہے۔‘‘

طالب علم:میں آپ کے سامنے گانا پیش کرنا چاہوں گی۔

وزیرِ اعظم:ہاں، سناؤ گی۔

طالب علم:ہاں، ڈاکٹر بھوپین ہزاریکا کا ۔

وزیرِ اعظم: ارے واہ، بتائیے۔

طالب علم:(گانا، آسامی زبان میں)

وزیر اعظم :واہ

طالب علم:ہمارے گاؤں میں، ہمارے گھر کے پاس۔۔۔( نام واضح نہیں ) ایک چائے کا باغ ہے۔ میری ماں وہاں آٹھ سال سے چائے کی پتی توڑنے کا کام دیکھتی ہیں۔

وزیرِ اعظم: اوہ، تو آپ چائے باغان سے ہیں۔

طالب علم:یس۔

وزیرِ اعظم: آپ اچھی طرح پڑھتی ہیں، ماں پڑھاتی ہیں اور چائے کا بھی کام کرتی ہیں۔ تو کیا لائی ہو؟

طالب علم:میں آپ کے لیے چائے کی پتی لائی ہوں۔

وزیرِ اعظم:تو مجھے چائے بنانی ہوگی۔ بہت شکریہ، آپ کی ماں کو ہمارا سلام کہہ دینا۔

طالب علم:میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ چائے کے باغ کے بچے کے طور پر میں وزیرِ اعظم سے مل پاؤں گا۔مجھے یقین نہیں ہو رہا ہے کہ میں وزیر اعظم سے ملا ۔

طلبہ: اتنے جنریشن گیپ کے باوجود بھی جب وہ ہماری باتیں سمجھتے ہیں، بہت اچھا لگا۔

وزیرِ اعظم:آپ نے دیکھا کہ امتحان کی بات  توہوئی ہی، ساتھ ہی علاقائی موسیقی، آسام کی چائےوہ بھی’’پریکشا پے چرچا‘‘ کا یادگار حصہ بن گئی۔ امتحان ایک موقع ہے اور امتحان کے لیے صحت مند مقابلہ کا خیال ہماری تیاری کو بہتر بناتاہے۔ان سبھی چرچاؤن کے مقامات الگ الگ تھے، طلبہ بھی مختلف تھے، تجربات الگ تھے۔لیکن ہر  چرچاکا مقصد ایک ہی تھا:ہر طالب علم کو سننا، سمجھنا اور ساتھ مل کر کچھ نہ کچھ سیکھنا۔ آپ سبھی کو میری بہت بہت نیک تمنائیں۔ بہت بہت شکریہ۔

*****

ش ح۔ م ح ۔ ن ع

U. No-1955


(ریلیز آئی ڈی: 2225507) وزیٹر کاؤنٹر : 10
یہ ریلیز پڑھیں: हिन्दी , English , Gujarati