سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مودی حکومت کی گزشتہ دہائی کی اصلاحات، بھارت کو سستے اور مؤثر تھراپیز اور تشخیصی آلات کے لیے عالمی مرکز بنانے کاوعدہ کرتی ہیں:ڈاکٹر جتیندر سنگھ


مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے چنڈی گڑھ میں انڈین تھائیرائڈ سوسائٹی کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ تھائیرائڈ کے امراض کے تدارک کے لیے قومی سطح پر سوچ بدلنے کی ضرورت ہے، کیونکہ یہ پیداواریت کے چیلنج سے جڑے ہوئے ہیں

بھارت میں 4 کروڑ 20 لاکھ تھائیرائڈ کے کیسز ہیں اور غیر تشخیص شدہ ہائپوتھائیرائڈزم ملک کی آبادیاتی منافع کے لیے خاموش خطرہ ہے:ڈاکٹر جتیندر سنگھ

تھائیرائڈ کی جلد تشخیص مستقبل کی نسلوں کے تحفظ اور ورک فورس کی کارکردگی و قومی ترقی کے لیے ضروری ہے:ڈاکٹر جتیندر سنگھ

بھارت غیر متعدی بیماریوں سے نمٹنے کے لیے اپنے مقامی بایوفارما ماحولیاتی نظام کو مضبوط کر رہا ہے:ڈاکٹر جتیندر سنگھ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 09 FEB 2026 4:03PM by PIB Delhi

سائنس اور ٹکنالوجی، ارضیاتی سائنس کے مرکزی وزیر مملکت(آزادنہ چارج) اور وزیراعظم کے دفتر ، عملہ ،عوامی شکایات، پنشنز، ایٹمی توانائی اور خلاء کے وزیر مملکت ڈاکٹر جیتندر سنگھ نے آج کہا کہ تھائرائڈ کے امراض کو صرف طبی حالت کے طور پر نہیں بلکہ انسانی پیداواریت، آبادیاتی طاقت، اور قومی ترقی کے وسیع مقصد سے جڑے قومی مسئلے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

معروف اینڈوکرائنولوجسٹ اور طبی ماہرین سے خطاب کرتے ہوئے، وزیر موصوف نے کہا کہ غیر تشخیص شدہ اور علاج نہ کیے گئے تھائرائڈ کے امراض، خاص طور پر ہائپو تھائرائڈ ازم، توانائی کی سطح، ورک فورس کی کارکردگی اور طویل مدتی قومی پیداوار پر اثر انداز ہوتے ہیں، خاص طور پر ایک ایسے ملک میں جہاں 70 فیصد سے زائد آبادی 40 سال سے کم عمر ہے۔

ڈاکٹر جیتندر سنگھ یہ بات انڈین تھائرائڈ سوسائٹی ( آئی ٹی ایس سی او این) کی مڈ ٹرم اینول کانفرنس کے موقع پر چنڈی گڑھ میں کر رہے تھے۔ اس کانفرنس میں ملک کے ممتاز طبی اداروں کے معروف اینڈوکرائنولوجسٹ، سینئر فیکلٹی ممبران، نیوکلئیر میڈیسن اسپیشلسٹ، سرجنز اور محققین نے حصہ لیا۔ منتظمین کی تعریف کرتے ہوئے، جنہوں نے چنڈی گڑھ کو پروگرام کے انعقاد کےلیے منتخب کیا، انہوں نے شہر کو شمالی بھارت میں ایک اہم علمی اور تحقیقی مرکز قرار دیا جو طبی سائنس میں مضبوط ادارتی موجودگی کے ذریعے نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔

ڈاکٹر جیتندر سنگھ نے تقریباً 42 ملین بھارتیوں کا حوالہ دیتے ہوئے جو تھائرائڈ کے امراض کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، کہا کہ اس چیلنج کے پیمانے کے مطابق تحقیق اور عوامی صحت کے اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہائپو تھائرائڈ ازم بالغ آبادی کے تقریباً 11 فیصد افراد کو متاثر کرتا ہے، جن میں سے ایک بڑی تعداد غیر تشخیص شدہ یا بغیر علاج کے رہ جاتی ہے۔ انہوں نے حمل کے دوران غیر تشخیص شدہ ہائپو تھائرائڈ ازم کے سنگین نتائج کی طرف توجہ دلائی، کیونکہ اگر بروقت جانچ اور مداخلت نہ کی جائے تو یہ بچوں میں پیدائشی ہائپو تھائرائڈ ازم اور ناقابلِ واپسی نیوروڈیولپمنٹل مسائل پیدا کر سکتا ہے۔

وزیرموصوف نے کہا کہ جہاں ذیابیطس اور موٹاپے جیسے امراض اکثر نمایاں توجہ حاصل کرتے ہیں، وہیں تھائرائڈ کے امراض، باوجود وسیع پیمانے پر پائے جانے کے، نسبتاً کم جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے زندگی کی سائنسز، طبی سائنسز اور متعلقہ شعبوں میں مضبوط کثیر الشعبہ تعاون کی ضرورت پر زور دیا تاکہ تھائرائڈ کے امراض کو جامع انداز میں حل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے طبی مسائل کو کسی ایک شعبے تک محدود نہیں چھوڑا جا سکتا بلکہ وسیع معاشرتی شعور اور ادارتی تعاون کی ضرورت ہے۔

حکومت کی گزشتہ دہائی کی سائنسی اصلاحات کے تناظر میں بات کرتے ہوئے، وزیرموصوف نے کہا کہ سائلو بنیاد پر کام کرنے کے نظام کو ختم کرنے اور تحقیقاتی اداروں، اکیڈمیاں، صنعت اور ٹیکنالوجی ڈویلپرز کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے مسلسل کوششیں کی گئی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جدت کو صرف لیبارٹری تحقیق تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے مارکیٹ سے منسلک اطلاق تک لے جانا ضروری ہے، اور تحقیق کے ابتدائی مراحل سے ہی صنعت کی شرکت پائیداری اور اثر کو مضبوط کرتی ہے۔

حالیہ مرکزی بجٹ کے اعلانات کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے بایوفارما شکتی مشن کے بارے میں بات کی، جس کے لیے خاطر خواہ مالی وسائل مختص کیے گئے ہیں تاکہ دواؤں اور طبی آلات کی ملکی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے بھارت کی بایوٹیکنالوجی میں پیش رفت کی مثالیں پیش کیں، جن میں ملک کے پہلے مقامی طور پر تیار شدہ اینٹی بایوٹک کی تیاری شامل ہے جو مزاحم انفیکشنز کے خلاف مؤثر ہے، ہیموفیلیا کے لیے کامیاب جین تھراپی ٹرائلز، اورکووڈ- 19 وبا کے دوران ڈی ان اے ویکسین کا نفاذ شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابیاں بھارت کی لاگت مؤثر تھراپیز اور تشخیصی صلاحیتوں میں بڑھتی ہوئی قابلیت کو ظاہر کرتی ہیں۔

ڈاکٹر جیتندر سنگھ نے انوسندھان نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن (اے این آر ایف) کے قیام اور ایک لاکھ کروڑ روپے کے ریسرچ، ڈیولپمنٹ اور انوویشن فریم ورک کے بارے میں بھی بات کی، جس کا مقصد پرائیویٹ اور فلاحی شعبوں کی شراکت سے تحقیقی ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے بھارت کے اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کی تیز رفتار ترقی، بھارتی رہائشیوں کی جانب سے پیٹنٹ فائلنگ میں اضافہ، اور اعلیٰ اثر والے سائنسی شائع شدہ مقالوں میں اضافہ کو سائنس کے بدلتے ہوئے منظرنامے کے اشارے کے طور پر نمایاں کیا۔

وزیر موصوف نے ڈاکٹروں کو ‘‘حقیقی قومی معمار’’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بروقت تشخیص، ابتدائی نوزائیدہ اسکریننگ، اور مؤثر علاج براہ راست بھارت کے مستقبل کے انسانی وسائل کی تشکیل میں مدد دیتا ہے۔ انہوں نے انڈین تھائرائڈ سوسائٹی اور وسیع طبی برادری پر زور دیا کہ وہ آگاہی، تحقیقی تعاون اور ابتدائی شناخت کی حکمت عملیوں کو مضبوط کریں تاکہ تھائرائڈ کی صحت قومی ترقی کے مباحثے کا لازمی حصہ بن جائے۔

ڈاکٹر جیتندر سنگھ نے اس امید کا اظہار کرتے ہوئے اپنی تقریر کا اختتام کیا کہ اجتماعی عزم، سائنسی ہم آہنگی اور مستقبل میں تعاون کے ذریعے بھارت مؤثر طور پر غیر متعدی بیماریوںسمیت تھائرائڈ کے امراض، کے بڑھتے ہوئے بوجھ کا سامنا کر سکتا ہے اور اپنی راہ کو مضبوط اور خود انحصار مستقبل کی جانب آگے بڑھا سکتا ہے۔

*****

ش ح- ع ح-اش ق

U.No. 1961


(ریلیز آئی ڈی: 2225479) وزیٹر کاؤنٹر : 13
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी