بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی راستوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ہندوستان اور سیشلز نے ممبئی کی بزنس کی گول میز کانفرنس میں سمندری، بلیو اکانومی کی شراکت داری کا جائزہ لیا

مہاساگر وژن کے تحت ہند–سیشلز بحری شراکت داری مزید مضبوط ہو رہی ہے، جو بحرِ ہندکے خطے میں اسٹریٹجک ہم آہنگی کا واضح اشارہ ہے:سربانند سونووال

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 07 FEB 2026 8:05PM by PIB Delhi

ہندوستان اور سیشلز نے ممبئی میں منعقدہ ہند–سیشلز بزنس راؤنڈ ٹیبل کے دوران بحری تجارت، بلیو اکانومی کے شعبوں اور پائیدار ترقی میں تعاون کو مزیدمضبوط بنانے کے امکانات پر غوروخوض کیا۔ اس اجلاس میں جمہوریۂ سیشلز کے صدر عزت مآب ڈاکٹر پیٹرک ہرمینی اور بندرگاہ، جہازرانی اور آبی گزرگاہوں کےمرکزی وزیر سربانند سونووال نے شرکت کی۔

مرکزی وزیر سربانند سونووال نے کہا کہ ہندوستان اور سیشلز کے درمیان تعلقات کی جڑیں بہت قدیم ہیں اور یہ وقت کے ساتھ دیرینہ عوامی روابط کے ذریعے مزید مضبوط ہوئے ہیں، جن میں بحری تبادلے معاصر سفارت کاری سے بھی پہلے کے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ شراکت داری وقت کے ساتھ قریبی اور دوستانہ تعلق میں تبدیل ہو چکی ہے، جو مشترکہ جمہوری اقدار، تکثیریت پسندی اور باہمی احترام پر مبنی ہے اور جس کا دائرہ ترقیاتی تعاون، صلاحیت سازی، تعلیم، صحت، بحری سلامتی اور آفات کے نظم جیسے متعدد شعبوں تک پھیلا ہوا ہے۔

سیشلز کے ساتھ ہندوستان کی شراکت داری مہاساگر وژن کے تحت فروغ پارہی ہے، جوخطوں کے مابین سلامتی اور ترقی کے لیے باہمی اور ہمہ جہت پیش رفت کاوژن ہے۔ یہ وژن بحرِ ہند کے خطے میں اقتصادی تعاون، پائیداری اور سلامتی پر خصوصی زور دیتا ہے۔

مرکزی وزیر سربانند سونووال نے کہا:’’معزز وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کی بصیرت افروز قیادت میں اس شراکت داری کو نئی توانائی اور رفتار ملی ہے۔ پڑوسی ممالک کو اولیت دینے کی پالیسی، سمندروں کی سطح پر تعاون اور ہمہ گیر ترقی پر ان کا زور بحرِ ہند کے جزیرہ نما ممالک، بشمول سیشلز، کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات کے لیے واضح اسٹریٹجک سمت فراہم کرتا ہے۔ ہندوستان اور سیشلز بحرِ ہند کو امن، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کا خطہ بنانے کے مشترکہ وژن کے حامل ممالک ہیں۔‘‘

جناب سربانند سونووال نے مزید کہا کہ بندرگاہوں پرمبنی ترقی، لاجسٹکس، بحری خدمات اور قابلِ تجدید توانائی کے شعبوں میں ہندوستان کا تجربہ سیشلز کی ترقیاتی ترجیحات کو تقویت دے سکتا ہے، جبکہ ممبئی کا مالیاتی اور فِن ٹیک ماحولیاتی نظام اختراع اور مالی شمولیت سے متعلق اقدامات کی معاونت کر سکتا ہے۔

جناب سربانند سونووال نے مضبوط تعاون کے ترجیحی شعبوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا:’’بلیو اکانومی میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں، جن میں ماہی پروری، آبی زراعت، بندرگاہوں کی ترقی، بحری بنیادی ڈھانچہ، سمندر پر مبنی قابلِ تجدید توانائی اور بحری تحقیق کے شعبے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سیاحت و مہمان نوازی، قابلِ تجدید توانائی، صحت، دواسازی، مالی خدمات، فِن ٹیک، تعلیم اور ہنر مندی کی ترقی جیسے شعبے بھی باہمی تعاون کے وسیع مواقع فراہم کرتے ہیں۔‘‘

ہند–سیشلز بزنس راؤنڈ ٹیبل میں ہندوستان کی متعدد کاروباری اداروں نے شرکت کی، جو بنیادی ڈھانچے، بندرگاہوں، ماہی گیری، صحت، تعلیم، فِن ٹیک اور آٹوموبائل کے شعبوں میں سرگرم ہیں۔

مرکزی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ بندرگاہی شہر کے طور پر ممبئی کی نمایاں خصوصیات،بالخصوص اس کی بندرگاہیں، لاجسٹکس نیٹ ورک، بحری خدمات، جہاز سازی کے یارڈز اور مضبوط مالیاتی ماحولیاتی نظام،اسے ہندوستان اور سیشلز کے درمیان بحری تجارت اور سمندر پر مبنی صنعتوں کی سرگرمیوں میں تعاون کو آگے بڑھانے کے لیےفطری اور مؤثر پلیٹ فارم بناتی ہیں۔

جناب سربانند سونووال نے مزید کہا:’’صدیوں سے ممبئی دنیا کے ساتھ ہندوستان کے روابط کی علامت رہا ہے۔ سمندر، تجارت اور کاروباری سرگرمیوں سے تشکیل پانے والا یہ شہر ہندوستان اور سیشلز—دو بحری ممالک جو بحرِ ہند کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور خوشحالی و پائیدار ترقی کے مشترکہ وژن پر قائم ہیں—کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعاون پر تبادلۂ خیال کے لیے انتہائی موزوں مقام ہے۔‘‘

ہندوستان کے وسیع تر اقتصادی سفر کا ذکرکرتے ہوئے جناب سربانند سونووال نے کہا کہ ملک اس وقت ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں مضبوط اندرونی طلب، اصلاحات پر مبنی پالیسی کاماحول اور بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری اسے نمایاں بنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہندوستان نے ٹیکس کے نظام، کارپوریٹ کے قوانین اور ڈیجیٹل طرزِ حکمرانی میں ہمہ گیر اصلاحات نافذ کی ہیں، جن کے نتیجے میں شفافیت اور کاروبار کرنے کی آسانی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

 

انہوں نے مزید کہا:’’گزشتہ 11 برسوں میں ہندوستان کی بندرگاہی صلاحیت دوگنی ہو گئی ہے، ملاحوں (سی فیرر) کی تعداد تین گنا بڑھ چکی ہے، اور سمندری سیاحت سے وابستہ مسافروں کی تعداد میں چار گنا اضافہ ہوا ہے۔‘‘جناب سربانند سونووال نے کہا کہ ہندوستان کی بحری ترقی سیشلز جیسے شراکت دار ممالک کے ساتھ قدرتی ہم آہنگی پیدا کرتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی نوجوان اور ہنر مند افرادی قوت اس کی ترقی کی کہانی کا مرکزی ستون ہے اور عالمی شراکت داروں کے لیے طویل مدتی مواقع فراہم کرتی ہے۔

جناب سربانند سونووال نے کہا کہ ہندوستان اور سیشلز اس وقت مواقع کے ایک اہم موڑ پر کھڑے ہیں، جہاں دونوں ممالک کی تاریخی دوستی، سیاسی اعتماد، بڑھتی ہوئی رابطہ کاری اور مشترکہ بحری وژن اقتصادی شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا:’’ممبئی سے ماہے تک فاصلہ کم ہے اور امکانات کہیں زیادہ ہیں۔‘‘انہوں نے دونوں ممالک کے کاروباری اداروں پر زور دیا کہ وہ مل کر پائیدار اور باہمی طور پر فائدہ مند شراکت داریاں قائم کریں۔

جناب سربانند سونووال نے بتایا کہ سیشلز کوموصول ہونے والی ہندوستان کی برآمدات میں ادویات، غذائی مصنوعات، ٹیکسٹائل، انجینئرنگ کی مصنوعات، تعمیراتی مواد، آٹوموبائل اور صارفین کی اشیا شامل ہیں، جبکہ ہندوستانی کمپنیوں نے سیشلز میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی، توانائی کے منصوبوں، تعمیرات اور خدمات کے شعبوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ بہتر رابطہ ، بشمول ممبئی اور ماہے کے درمیان براہِ راست پروازوں، سے دونوں ممالک کے درمیان سیاحت، کاروباری سفر اور تجارتی سرگرمیوں کو مزید تقویت ملی ہے۔

یہ بزنس راؤنڈ ٹیبل کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری (سی آئی آئی) نے حکومتِ ہند کی وزارتِ خارجہ کے اشتراک سے منعقد کیا تھا، جس میں دونوں ممالک کے سینئر سرکاری عہدیداروں، کاروباری رہنماؤں اور صنعت کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں شریک اہم شخصیات میں وزارتِ بندرگاہیں، جہازرانی اور آبی گذرگاہیں (ایم او پی ایس ڈبلیو) کے سکریٹری وجے کمار، آئی اے ایس؛ ڈائریکٹر جنرل آف شپنگ شیام جگن ناتھن؛ شپنگ کارپوریشن آف انڈیا (ایس سی آئی)کےچیئرمین و منیجنگ ڈائریکٹرکیپٹن بی کے تیاگی؛ ممبئی پورٹ اتھارٹی (ایم بی پی اے) کے چیئرپرسن ایم انگاموتھو؛ جواہر لعل نہرو پورٹ اتھارٹی (جے این پی اے) کے چیئرپرسن گورو دیال؛ ہندوستان کے ہائی کمشنر برائے سیشلز روہت راتھش اورشاپورجی پلونجی کے اسپیشل ایڈوائزرایس کپوسوامی سمیت دیگر معزز شخصیات شامل تھیں۔

******

( ش ح ۔ م ش ع۔ م ا )

Urdu.No-1928


(ریلیز آئی ڈی: 2225330) وزیٹر کاؤنٹر : 6
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी