الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پچھلے 11 سالوں میں ہندوستان میں الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے


بھارت دنیا کا دوسرا سب سے بڑا موبائل مینوفیکچرر بن کر ابھرا ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 06 FEB 2026 5:19PM by PIB Delhi

عزت مآب وزیر اعظم کے میک ان انڈیا اور آتم نربھر بھارت کے وژن کے مطابق حکومت ہند نے الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کا ایک مکمل ماحولیاتی نظام تیار کرنے کے لیے کئی پالیسی اقدامات کیے ہیں ۔  جس کے نتیجے میں پچھلے 11 سالوں میں ہندوستان میں الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے ، جسے درج ذیل اعدادوشمار سے دیکھا جا سکتا ہے:

#

2014-15

2024-25

ریمارکس

الیکٹرانکس سامان کی پیداوار (روپے)

~1.9 لاکھ کروڑ

~ 11.3 لاکھ کروڑ

6 گنا اضافہ ہوا۔

الیکٹرانکس سامان کی برآمد (روپے)

~0.38 لاکھ کروڑ

~3.3 لاکھ کروڑ

8 گنا اضافہ ہوا۔

موبائل فون کی پیداوار (روپے)

~0.18 لاکھ کروڑ

~5.5 لاکھ کروڑ

28 گنا اضافہ ہوا۔

موبائل فونز کی برآمد (روپے)

~0.01 لاکھ کروڑ

~ 2 لاکھ کروڑ

127 گنا اضافہ ہوا۔

حکومت ہند نے ملک میں موبائل فون کی گھریلو مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کے لیے 2020 میں بڑے پیمانے پر الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ (ایل ایس ای ایم) کے لیے پروڈکشن سے منسلک ترغیبی (پی ایل آئی) اسکیم کا آغاز کیا ۔  موبائل فون کی پیداوار مالی سال 2019-20 میں 2.14 لاکھ کروڑ روپے سے مالی سال 2024-25 میں 5.5 لاکھ کروڑ روپے یعنی دو گنا سے زیادہ ہو گئی ہے ۔  اس کے نتیجے میں ہندوستان دنیا کے دوسرے سب سے بڑے موبائل مینوفیکچرر کے طور پر ابھرا ہے ۔  موبائل فون کی برآمدات مالی سال 2019-20 میں 0.27 لاکھ کروڑ روپے سے مالی سال 2024-25 میں 2 لاکھ کروڑ روپے یعنی    8    گنا بڑھ گئی ہیں  ۔  ہندوستان 2014 میں موبائل فون کا درآمد کنندہ ہونے  کے بجائے اب  موبائل فون کا خالص برآمد کنندہ بن گیا ہے ۔  دسمبر 2025 تک ، اس اسکیم  نے 15172 کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری کوراغب کیا ہے  اور 1,71,448 افراد کا اضافی روزگار پیدا کیا ۔

اس کے بعد ، حکومت ہند نے آئی ٹی ہارڈ ویئر (لیپ ٹاپ ، ٹیبلٹ ، سرور وغیرہ) کے لیے ایک مضبوط گھریلو مینوفیکچرنگ ایکو سسٹم بنانے ،بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کو راغب کرنے ،درآمدات پر انحصار کم کرنے  اور بھارت کو ایک بھروسہ مند عالمی سپلائی چین ہب بنانے  کے لیے  2023 میں آئی ٹی ہارڈ ویئر کے لیے پی ایل آئی 2.0  کا بھی  آغازکیا ۔  دسمبر 2025 تک ، ان اسکیموں کی وجہ سے مجموعی طور پر پیداوار16,531 کروڑ روپئے،مجموعی سرمایہ کاری   856.64 کروڑ روپئے اور مجموعی روزگار  4,776  (براہ راست  روزگار) ہوگیا۔

پی ایل آئی اسکیموں کے تحت پیداوار کی سال وار تفصیلات مندرجہ ذیل ہیں:

تفصیلات

مالی سال 2023-24

(کروڑ روپے میں)

مالی سال 2024-25

 (کروڑ روپے میں)

مالی سال 2025-26 (31.12.2025 تک)

 (کروڑ روپے میں)

مجموعی پیداوار

4,95,660

7,66,861

10,39,218

اضافی پیداوار

2,02,789

2,71,200

2,44,998

درآمدی انحصار کو کم کرنے اور روزگار پیدا کرنے کے لیے ، حکومت نے  گزشتہ 11 برسوں کے دوران موبائل فون مینوفیکچرنگ ، کنزیومر الیکٹرانکس ، صنعتی الیکٹرانکس ، اسٹریٹجک الیکٹرانکس ، آٹو الیکٹرانکس ، ٹیلی کام وغیرہ کی مدد کے لیے الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ ماحولیاتی نظام کی ترقی کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں  جس میں   شامل ہیں:

  • الیکٹرانک  پرزے اور سیمی کنڈکٹر کی تیاری کے فروغ کی اسکیم (ایس پی ای سی ایس)
  • الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کلسٹرز (ای ایم سی اور ای ایم سی 2.0)  اسکیم
  • سیمیکون انڈیا پروگرام
  • سرکاری  خریداری (میک ان انڈیا کو ترجیح)   سرکاری  خریداری میں مقامی طور پر تیار کردہ مصنوعات کو ترجیح دینے کا حکم 2017
  • ٹیرف ڈھانچے کو معقول بنانا ، کیپٹل گڈز پر بنیادی کسٹم ڈیوٹی پر چھوٹ وغیرہ سمیت ٹیکس میں اصلاحات ۔
  • قابل اطلاق قوانین/ضوابط کے تابع الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ میں 100 فیصد ایف ڈی آئی کی اجازت

یہ معلومات الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر مملکت جناب جتن پرساد نے 06.02.2026 کو راجیہ سبھا میں پیش کیں ۔

 

******

ش ح۔ ف ا۔ م ر

U-NO. 1852


(ریلیز آئی ڈی: 2224781) وزیٹر کاؤنٹر : 9
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी