خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

لڑکیوں کے تئیں سوچ اور رویے میں تبدیلی لانا ’بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ اسکیم‘  کا اولین مقصد


اسکیم ایک پالیسی پہل سے قومی تحریک میں تبدیل ہوئی

قومی سطح پر پیدائش کے وقت جنسی تناسب 15-2014 میں 918تھا جو اب بڑھ کر 25-2024 میں 929 ہو گیا ہے

ثانوی سطح پر اسکولوں میں لڑکیوں کے مجموعی اندراج کا تناسب15-2014  کے 75.51 فیصد  کے مقابلے اب بڑھ کر25-2024 میں 80.2 فیصد ہو گیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 06 FEB 2026 3:22PM by PIB Delhi

بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ(بی بی بی پی) اسکیم 22 جنوری 2015 کو شروع کی گئی تھی تاکہ بچوں کے جنسی تناسب(سی ایس آر) اور لڑکیوں اور خواتین کی زندگی کے مختلف مراحل میں بااختیار بنانے سے متعلق مسائل کو حل کرنے میں مدد فراہم کی جا سکے۔ بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ(بی بی بی پی) اسکیم ایک پالیسی اقدام سے قومی تحریک میں تبدیل ہو چکی ہے ،جس میں حکومتی ادارے، کمیونٹیز، میڈیا، سول سوسائٹی اور عوام سمیت مختلف اسٹیک ہولڈرز کو متحرک کیا گیا ہے۔ اس تحریک کا مقصد صرف جنسی تناسب اور جنس کی بنیاد پر امتیاز سے متعلق فوری مسائل کو حل کرنا نہیں، بلکہ لڑکی کے مقام کی اہمیت کو سمجھانے اور اس کے حقوق اور مواقع کو یقینی بنانے کے لیے ثقافتی تبدیلی کو فروغ دینا بھی ہے۔

یہ اسکیم لڑکی کے تئیں ذہن سازی اور رویوں میں تبدیلی پیدا کرنے پر مرکوز ہے، جس کے لیے مختلف اسٹیک ہولڈرز کو آگاہ کرنا، متاثر کرنا، متحرک کرنا، شامل کرنا اور بااختیار بنانا شامل ہے۔ اس مقصد کے لیے وزارت نے ایک آپریشنل مینوئل تیار کیا ہے، جس میں ضلع سطح پر مربوط سرگرمیوں کے لیے ماہانہ مخصوص موضوعات کے ساتھ تجویز کردہ ایک موضوعاتی کیلنڈر بھی شامل ہے تاکہ لڑکی کے مجموعی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے اور لڑکیوں، ان کے خاندانوں اور کمیونٹیز کی سال بھر شمولیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

اس اسکیم کے نفاذ کی ذمہ داری ریاستی حکومتوں اورمرکز کے زیر انتظام علاقوں(یو ٹی) پر ہے۔ اس کے علاوہ سال میں ایک بار پروگرام کو منظور کرنے والے بورڈ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں بشمول تمل ناڈو کی ریاست کے ساتھ اسکیم کے تحت سرگرمیوں کی پیش رفت کی نگرانی کرتا ہے اور مقاصد کے حصول کی صورتحال کا جائزہ لیتا ہے۔ اس کے علاوہ، وزارت کے اہلکار وقتاً فوقتاً ریاستوں اور  مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے دورے، اجلاس اور ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اسکیم کا مسلسل جائزہ لیتے ہیں۔

نیتی آیوگ نے مالی سال 2019 سے 2024 کے لیے خواتین و بچوں کی ترقی کی وزارت کی اسکیموں کا تیسرے فریق کے ذریعے جائزہ لیا ہے۔ مطالعے میں معلوم ہوا کہ بی بی بی پی سمیت  مشن شکتی کاایس اے ایم بی اے ایل شعبہ نہایت موزوں ہے اور مربوط اور اعداد وشمار پر مبنی خدمات کے ذریعے صنفی چیلنجز کو مؤثر طریقے سے حل کرتا ہے۔

وزارت صحت اور خاندانی بہبود (ایم او ایچ ایف ڈبلیو) کے ہیلتھ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (ایچ ایم آئی ایس) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق قومی سطح پر پیدائش کے وقت جنسی تناسب (ایس آر بی)15-2014 کے 918 سے بڑھ کر25-2024 میں 929 ہو گیا ہے ۔ وزارت تعلیم کے یو ڈی آئی ایس ای کے اعداد و شمار کے مطابق ثانوی سطح پر اسکولوں میں لڑکیوں کے مجموعی اندراج کا تناسب 15-2014 میں 75.51 فیصد سے بڑھ کر 2024-25 میں 80.2 فیصد ہو گیا ہے ۔

صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت کے  21-2020؍ کے ایچ ایم آئی ایس کے اعداد شمار کے مطابق ضلعوں کی پیدائش کے وقت جنس کاتناسب(ایس آر بی)  کی بنیاد پر ضلعوں کو فنڈز فراہم کیے جاتے ہیں۔ جن ضلعوں کاایس آر بی 918یا اس سے کم ہے، انہیں سالانہ 40 لاکھ روپے کی امداد فراہم کرائی جاتی ہے، جن ضلعوں کا ایس آر بی919 سے 952 کے درمیان ہے، انہیں سالانہ 30 لاکھ روپے کی امداد دی جاتی ہے اور جن ضلعوں کاایس آر بی 952 سے زیادہ ہے، انہیں سالانہ 20 لاکھ روپے کی امداد فراہم کرائی جاتی ہے۔ اس کےعلاوہ آئندہ برسوں میں کسی بھی نئے ضلع کی تشکیل ہونے کی صورت میں اسے بھی 30 لاکھ روپے کے زمرے میں رکھا جائے گا۔ تمام فنڈز ’سنگل نوڈل ایجنسی (ایس این اے) یا ایس این اے  اسپرش(ایس پی اےآر ایس ایچ) کے لیے محکمہ اخراجات کی جانب سے مقرر کردہ ہدایات کی بنیاد پر پبلک فنانشل مینجمنٹ سسٹم(پی ایف ایم ایس) کے تحت جاری کیے جا رہے ہیں۔
یہ معلومات آج لوک سبھا میں خواتین و بچوں کی ترقی کی مرکزی وزیر محترمہ انپورنا دیوی نے ایک سوال کے جواب میں فراہم کی۔

*********

UR-1821

(ش ح۔  م ع ن-م ذ)


(ریلیز آئی ڈی: 2224544) وزیٹر کاؤنٹر : 6
یہ ریلیز پڑھیں: हिन्दी , English