سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
پارلیمانی سوال: مصنوعی حیاتیات میں تحقیق اور ضابطہ کاری
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
05 FEB 2026 3:56PM by PIB Delhi
بایو ای3 پالیسی (معیشت ، ماحولیات اور روزگار کے لیے بائیو ٹیکنالوجی( کے تحت، جو کہ ’’اعلیٰ کارکردگی والی بایومینوفیکچرنگ کے فروغ‘‘ کے لیے مرتب کی گئی ہے، حیاتی بنیاد پر مصنوعات کی بایومینوفیکچرنگ کے لیے سنتھیٹک بایولوجی پروگرام تیار کیا جا رہا ہے۔
ڈی ایس آئی آر کے تحت، کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (سی ایس آئی آر) کی ذیلی تجربہ گاہیں سنتھیٹک بایولوجی کے شعبے میں تحقیق، صنعتی اطلاق اور مقامی اختراع کی حمایت کر رہی ہیں۔ سی ایس آئی آر-این سی ایل، پونے میں سنتھیٹک بایولوجی کے تحت جاری تحقیقی کام کا مقصد پولی ہائیڈروکسی الکانوایٹس (پی ایچ اے) سمیت متعدد کیمیائی اقسام کے مرکبات اور رنگ دار مادّوں جیسے وائیولیسیئن اور ونیلین کی تیاری کے لیے جرثومی اقسام (اسٹرینز) کا ڈیزائن تیار کرنا ہے۔ سی ایس آئی آر-سی ایف ٹی آر آئی، میسورو میں انجینیئرڈ سیکرومائسز سیریویسیائی کے ذریعے اسکوالین اور لینالول کی پائیدار پیداوار کے توسیعی مرحلے (اسکیل اپ) کے لیے منصوبوں پر کام کیا جا رہا ہے۔ سی ایس آئی آر-سیماپ، لکھنؤ میں سنتھیٹک بایولوجی کے ذریعے اعلیٰ قدر کے ٹرپینز کی پیداوار کے منصوبے پر کام جاری ہے۔ سی ایس آئی آر-سیماپ، لکھنؤ میں سنتھیٹک بایولوجی کے اطلاقات سے متعلق بایو پروسیسنگ کے لیے ایک پائلٹ پلانٹ سہولت بھی تیار کی جا رہی ہے۔ ان تجربہ گاہوں میں متعدد بیرونی مالی اعانت (ایکسٹرامیورل) سے چلنے والے تحقیقی منصوبے بھی نافذ کیے جا رہے ہیں۔
محکمۂ بایوٹیکنالوجی (ڈی بی ٹی) کی عوامی شعبے کی اکائی، بایوٹیکنالوجی انڈسٹری ریسرچ اسسٹنس کونسل (بیرک)، ایک مخصوص ’’سنتھیٹک بایولوجی پروگرام‘‘ کے ذریعے سنتھیٹک بایولوجی میں تحقیق، صنعتی اطلاق اور مقامی اختراع کی حمایت کر رہی ہے۔ بیرک کی جانب سے اس شعبے میں تجاویز طلب کرنے کے لیے دو کالز جاری کی گئیں اور متعدد عملی تربیتی پروگرام اور ویبینار منعقد کیے گئے۔ اس کال کے تحت جن اداروں، اسٹارٹ اپس اور صنعتوں کی مدد کی گئی، ان میں شامل ہیں: آئی آئی ٹی، مدراس (ہائیلورونک ایسڈ کے لیے)؛ آئی بی آر آئی سی این آئی آئی، نئی دہلی (ڈیلٹا-ڈیکانولیکٹون/ڈیلٹا-ڈوڈی کینولیکٹون کے لیے)؛ فرمنٹیک جی ایس وی پرائیویٹ لمیٹڈ (نائسن کے لیے)؛ سیماپ اور ایم/ایس ایم نین بایوسائنسز پرائیویٹ لمیٹڈ (الفا-فارنیسین کے لیے)؛ ہائی ٹیک بایوسائنسز انڈیا لمیٹڈ اور آئی آئی ایس سی بنگلورو (اسٹرائیڈ دوائی کے درمیانی اجزاء کے لیے)؛ ایس آر ایم انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (ہوموبیوٹانول کے لیے)؛ آئی سی جی ای بی، نئی دہلی (اعلیٰ قدر کے میٹابولائٹس کے لیے)؛ سی ایس آئی آر-سیماپ، لکھنؤ (صندل کی لکڑی کے سیسکوئی ٹرپینز کے لیے)؛ جنانوم پرائیویٹ لمیٹڈ اور آئی بی اے بی، بنگلورو (روز آکسائیڈ کے لیے)؛ سی ایس آئی آر-سی ایف ٹی آر آئی (اینٹھوسائنن کے لیے) اور سہہ انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر فزکس (خمیر میں سنتھیٹک میٹابولک انجینئرنگ کے لیے ایک مؤثر کریسپی برک کے لیے)۔ مزید برآں، بایو ای3 پالیسی کے تحت آئی بی آر آئی سی+ اداروں، این سی سی ایس، پونے اور آئی سی جی ای بی، نئی دہلی میں قائم کیے جا رہے بایوفاؤنڈریز کا مقصد تیز رفتار اسٹرین انجینئرنگ اور حیاتی بنیاد پر مصنوعات کی بایومینوفیکچرنگ کے لیے جرثومی چیسیس کی ترقی ہے۔
قومی تحقیقی اداروں، اسٹارٹ اپس اور صنعتوں میں جاری تحقیقی کام سے متعلق اخلاقی، حیاتیاتی تحفظ (بایوسےفٹی) اور حیاتیاتی سلامتی (بایوسیکورٹی) کے خدشات کے ازالے کے لیے مناسب حفاظتی انتظامات موجود ہیں۔ بھارت میں بایوسےفٹی سے متعلق حفاظتی انتظامات قواعد، 1989 (خطرناک خردنامیوں/جینیاتی طور پر ترمیم شدہ جانداروں یا خلیات کی تیاری، استعمال/درآمد/برآمد اور ذخیرہ سے متعلق قواعد) کے تحت نافذ ہیں، جو کہ ماحولیاتی تحفظ ایکٹ، 1986 کے تحت بنائے گئے ہیں۔ یہ قواعد ’’جینیاتی انجینئرنگ‘‘ کی واضح تعریف فراہم کرتے ہیں اور سنتھیٹک بایولوجی جیسی نئی جینی ٹیکنالوجیز کو بھی محیط ہیں۔ ماحولیاتی تحفظ ایکٹ، 1986، وزارتِ ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی (ایم او ای ایف اینڈ سی سی) کے زیرِ انتظام ہے۔ ریویو کمیٹی آن جینیٹک مینیپولیشن (آر سی جی ایم) خطرناک خردنامیوں، جینیاتی طور پر ترمیم شدہ (جی ای) جانداروں، خلیات اور مصنوعات سے متعلق تحقیق و ترقی کے حفاظتی پہلوؤں کی نگرانی کرتی ہے، صحت اور ماحول کے لیے ممکنہ خطرات کے اعتبار سے منصوبوں کا جائزہ لیتی ہے، اور جی ای جانداروں سے متعلق کام کے لیے رہنما خطوط اور معیاری عملی طریقۂ کار (ایس او پیز) جاری کرتی ہے۔ انسٹی ٹیوشنل بایوسےفٹی کمیٹیاں (آئی بی ایس سیز) اُن اداروں میں نہایت اہم ادارہ جاتی ڈھانچے ہیں جو جینیاتی طور پر ترمیم شدہ جانداروں یا خطرناک خردنامیوں کے ساتھ کام کرتے ہیں، اور یہ کمیٹیاں بایوسےفٹی پروٹوکولز کے نفاذ، محفوظ تحقیق کو یقینی بنانے اور قومی رہنما خطوط کی پابندی کو ممکن بناتی ہیں۔
بایو ای3 پالیسی کے تحت سنتھیٹک بایولوجی جیسے ابھرتے ہوئے ٹولز کے ذریعے حیاتی بنیاد پر مصنوعات کی بایومینوفیکچرنگ سے متعلق تحقیق کا مقصد تحقیق، صنعتی اطلاق اور پائیدار معاشی اہداف کے درمیان موجود خلا کو پُر کرنا ہے۔ یہ پالیسی بھارت کے گرین گروتھ کے وژن (جو یونین بجٹ 2023-24 میں اعلان کیا گیا) اور وزیرِ اعظمِ ہند کے ’’لائف اسٹائل فار انوائرنمنٹ (ایل آئی ایفای)‘‘ کے نعرے سے ہم آہنگ ہے، جو پائیداری کے لیے اجتماعی طرزِ عمل کا تصور پیش کرتا ہے۔ اس پالیسی کے تحت مختلف اقدامات وزیرِ اعظم کے نیٹ زیرو کاربن معیشت کے وژن سے بھی مطابقت رکھتے ہیں۔ مزید برآں، بایومینوفیکچرنگ ہبز، بایوفاؤنڈریز اور بایو-اے آئی ہبز کے قیام کا مقصد میک اِن انڈیا کو مضبوط بنانا اور بایوٹیکنالوجی شعبے کے جی ڈی پی میں حصے اور برآمدی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے، جس کے ذریعے ’’وکست بھارت 2047‘‘ کے اہداف سے ہم آہنگی پیدا کی جا سکے۔
یہ معلومات آج راجیہ سبھا میں سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم کے مرکزی وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج)، اور وزیرِ اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات و پنشن، جوہری توانائی اور خلاء کے امور کے وزیرِ مملکت، ڈاکٹر جتندر سنگھ نے ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔
***
(ش ح۔اس ک )
UR-1759
(ریلیز آئی ڈی: 2224000)
وزیٹر کاؤنٹر : 5