قانون اور انصاف کی وزارت
ادارہ جاتی ثالثی اور آئی آئی اے سی کو اپنانا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
05 FEB 2026 1:05PM by PIB Delhi
قانون اور انصاف کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) نیز پارلیمانی امور کے وزیر مملکت جناب اردج رام میگھوال نے آج راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ حکومتِ ہند نے تنازعات کے متبادل حل کے طریقۂ کار، بشمول ادارہ جاتی ثالثی، کو فروغ دینے اور مضبوط بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ ادارہ جاتی ثالثی کو ترجیحی بنیادوں پر اختیار کرنے کے لیے انڈیا انٹرنیشنل آربیٹریشن سینٹر ایکٹ، 2019 نافذ کیا گیا، جس کے نتیجے میں ثالثی سے متعلق بھارت کے بین الاقوامی مرکز (آئی آئی اے سی)کا قیام عمل میں آیا۔ اس طرح ادارہ جاتی ثالثی کو سہولت فراہم کرنے کے لیے ایک خود مختار اور آزاد ادارہ وجود میں آیا۔
اپنے قیام کے بعد سے، ثالثی سے متعلق بھارت کے بین الاقوامی مرکز نے ملکی اور بین الاقوامی ثالثی سے متعلق آگاہی اور تربیت کے مقصد سے ورکشاپس، کانفرنسز اور سیمینارز کا انعقاد کیا ہے، جن میں مرکزی سیکٹر کی سرکاری کمپنیوں (سی پی ایس ایز/ پی ایس یوز) نے بھی شرکت کی ہے۔
جون 2025 کے مہینے میں، محکمۂ امورِ قانون نے انڈیا انٹرنیشنل آربیٹریشن سینٹر اور ایک مرکزی سیکٹر کے ایک سرکاری ادارے آئل اینڈ نیچرل گیس کارپوریشن (او این جی سی)کے اشتراک سے ایک کانفرنس منعقد کی، جس کا مقصد مرکزی سیکٹر کے سرکاری اداروں میں ادارہ جاتی ثالثی کے فوائد سے متعلق آگاہی بڑھانا تھا۔ اس کانفرنس نے ادارہ جاتی ثالثی اور انڈیا انٹرنیشنل آربیٹریشن سینٹر کی سرپرستی میں ادارہ جاتی ثالثی کو اپنانے کی اہمیت پر تبادلۂ خیال کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کیا۔
ستمبر 2025 میں، انڈیا انٹرنیشنل آربیٹریشن سینٹر نے معزز دہلی ہائی کورٹ میں ادارہ جاتی ثالثی کے موضوع پر آکسفورڈ طرز کی بحث کی میزبانی کی، جس میں ممتاز مقررین کی جانب سے مضبوط اور مدلل دلائل پیش کیے گئے۔ اس کے بعد، ستمبر 2025 ہی میں، بھارتی برآمداتی تنظیموں کے فیڈریشن (ایف آئی ای او)کے اشتراک سے ادارہ جاتی ثالثی کے موضوع پر ایک ویبینار کا انعقاد بھی کیا گیا، جس میں برآمد کنندگان نے شرکت کی اور تجارتی تنازعات کے حل میں ادارہ جاتی ثالثی کی اہمیت کو سمجھا۔
ثالثی سے متعلق بھارت کے بین الاقوامی مرکز نے متبادل تنازعات کے حل کے طریقۂ کار سے متعلق قوانین اور ضوابط کے بارے میں معلومات کی ترسیل کے لیے اپنی سالانہ میگزین کے پہلے شمارے کا بھی اجرا کیا ہے۔ اس میگزین میں نمایاں قومی اور بین الاقوامی ثالثی ماہرین کے مضامین شامل ہیں۔
مالی سال 25-2024 کے دوران، بعض مرکزی سیکٹر کے سرکاری اداروں ، جن میں آئل اینڈ نیچرل گیس کارپوریشن، گیس اتھارٹی آف انڈیا لمیٹڈ (جی اے آئی ایل)اور بھارت پٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ (بی پی سی ایل )شامل ہیں، نے اپنے تنازعات کے حل سے متعلق شقوں میں انڈیا انٹرنیشنل آربیٹریشن سینٹر کو نامزد ثالثی ادارے کے طور پر اختیار کیا ہے۔
مزید برآں، انڈیا انٹرنیشنل آربیٹریشن سینٹر مسلسل اقدامات کر رہا ہے اور ویبینارز اور کانفرنسز کا انعقاد کر رہا ہے تاکہ فریقین، بشمول مرکزی سیکٹر کے سرکاری اداروں ، کو انڈیا انٹرنیشنل آربیٹریشن سینٹر کے ماڈل ثالثی شق کو اختیار کرنے کے فوائد سے آگاہ کیا جا سکے، تاکہ انڈیا انٹرنیشنل آربیٹریشن سینٹر (کنڈکٹ آف آربیٹریشن) ریگولیشنز، 2023 کے تحت تصور کیے گئے یکساں اور مؤثر طریقۂ کار کے مطابق ثالثی کا انعقاد ممکن ہو سکے۔
****
( ش ح۔م ع ۔ ا ک م)
U.No. 1712
(ریلیز آئی ڈی: 2223898)
وزیٹر کاؤنٹر : 3