قبائیلی امور کی وزارت
ای ایم آر ایس میں ملازمت
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
05 FEB 2026 2:19PM by PIB Delhi
مرکزی وزیرِ مملکت برائے قبائلی امور، جناب درگاداس اوئیکے نے آج لوک سبھا کو اطلاع دی کہ ای ایس ایس ای-2023کے ذریعے مجموعی طور پر 7,083 تدریسی عملے کی بھرتی کی گئی، جن میں سے 2,765 خواتین اساتذہ شامل ہیں۔
اساتذہ اور دیگر عملے کی ملازمت سے متعلق شرائط و ضوابط نیشنل ایجوکیشن سوسائٹی فار ٹرائبل اسٹوڈنٹس (این ای ایس ٹی ایس)کی گورننگ باڈی کے ذریعے طے کیے جاتے ہیں۔
499 فعال ای ایم آر ایس میں سے 458 ای ایم آر ایس سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (سی بی ایس ای) سے وابستہ ہیں ۔ بقیہ اسکول متعلقہ ریاستی بورڈوں خصوصی طور پر بہار ، ناگالینڈ ، تمل ناڈو اور مغربی بنگال میں سے وابستہ ہیں ۔
متعلقہ ریاستوں کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق، 2024-25 کے دوران ای ایم آر ایس اسکولوں کے طلبہ کا جماعت دہم میں کامیابی کا تناسب 89 فیصد اور جماعت بارہویں میں 85 فیصد رہا۔129 ای ایم آر ایس نے جماعت دہم میں سو فیصد نتائج حاصل کیے، جبکہ 72 اسکولوں نے جماعت بارہویں میں سو فیصد نتائج حاصل کیے۔اسی سال 219 ای ایم آر ایس کے طلبہ نے آئی آئی ٹی-جے ای ای (مین) کوالیفائی کیا، 34 نے آئی آئی ٹی-جے ای ای (ایڈوانسڈ) کوالیفائی کیا، اور 344 طلبہ نے نیٹ امتحان میں کامیابی حاصل کی۔
ای ایم آر ایس میں مختلف نصابی اور ہم نصابی سرگرمیاں انجام دی جا رہی ہیں، جن میں جیاکار پروگرام بھی شامل ہے جو ہندوستانی خلائی تحقیقاتی ادارے (اسرو) کے اشتراک سے شروع کیا گیا، تاکہ ای ایم آر ایس کے طلبہ میں خلائی تعلیم کو فروغ دیا جا سکے۔ مختلف ریاستوں میں قائم مراکزِ امتیاز کے ذریعے آئی آئی ٹی-جے ای ای اور نیٹ کے لیے خصوصی اور مرکوز تیاری فراہم کی جاتی ہے۔ عملی طور پرسیکھنے کے لیے اسٹیَم کِٹس، اے آئی ماڈیولز، الیکٹرانکس اور تھری ڈی پرنٹرز سے لیس 26 اٹل ٹنکرنگ لیبز قائم کی گئی ہیں۔ایمزون فیوچر انجینئر پروگرام کے تحت اے آئی اور کوڈنگ کے منظم نصاب نافذ کیے گئے ہیں۔ وزارتِ ہنر مندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت (ایم ایس ڈی ای) اور نیشنل اسکل ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این ایس ڈی سی) کے اشتراک ، این ای ایس ٹی ایس نے سنکلپ پروجیکٹ کے تحت 200 ای ایم آر ایس کیمپس میں 400 ہنر مندی کی(اسکل )لیبز قائم کی ہیں۔ یہ لیبز جدید آلات اور ٹیکنالوجی سے لیس ہیں اور روبوٹکس، الیکٹرانکس، بڑھئی گری اور ڈیجیٹل بناوٹ جیسے شعبوں میں تربیت فراہم کرتی ہیں۔ عملی تعلیم پر مبنی یہ ماحول طلبہ میں تخلیقی صلاحیت،اختراع اور کاروباری ذہنیت کو فروغ دیتا ہے۔
ان اسکولوں میں طلبہ کے اندر قیادت، حوصلہ اور اعتماد پیدا کرنے کے لیے مختلف اوقات میں متعدد ہم نصابی سرگرمیاں اور اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان میں کوہ پیمائی اور مہماتی کورسز، قومی ثقافتی و ادبی میلہ اور کلا اتسو، قومی سطح کی جی آئی ٹیگ شدہ قبائلی فنون کی ورکشاپ اور نمائش، ای ایم آر ایس قومی کھیل مقابلے، قومی سطح کی جسمانی تعلیم و یوگا اولمپیاڈ، اور “ایک پیڑ ماں کے نام” جیسی سرگرمیاں شامل ہیں۔
ہندوستان بھر میں34 ای ایم آر ایس نے یوگا کو ایک مہارت پر مبنی مضمون کے طور پر اختیار کیا ہے۔ اس کے علاوہ، یوگا روزمرہ کی جسمانی سرگرمیوں کا لازمی حصہ بھی ہے، جس کے تحت صبح اور شام کی اسمبلی کے دوران منظم سیشن منعقد کیے جاتے ہیں، تاکہ طلبہ کی ہمہ جہتی نشوونما کے لیے جسمانی صحت اور ذہنی تندرستی کو فروغ دیا جا سکے۔
این ای ایس ٹی ایس نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی ای ایم آر ایس سوسائٹیوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ ای ایم آر ایس اسکولوں کے تمام طلبہ کی سِکل سیل بیماری کے لیے سو فیصد اسکریننگ کی جائے۔ یہ اسکریننگ ضلعی انتظامیہ اور ضلعی کلکٹروں کے ساتھ تال میل کے ذریعے، ضلع سطح پر موجود عوامی صحت کے ڈھانچے سے استفادہ کرتے ہوئے کی جاتی ہے۔یہ عمل ریاستی/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی حکومتوں اور ضلعی صحت مشینری کے تعاون سے انجام دیا جاتا ہے۔ اس مشق کا مقصد بیماری کی بروقت شناخت اور جہاں ضرورت ہو وہاں وقت پر طبی مداخلت کو یقینی بنانا ہے۔ اس کے بعد کی کارروائی اور طبی نگہداشت متعلقہ ریاستوں یا مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کی صحت کے حکام کے طے شدہ ضوابط کے مطابق کی جاتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ش ح۔ ش آ۔ن ع)
U. No.1698
(ریلیز آئی ڈی: 2223748)
وزیٹر کاؤنٹر : 6