تعاون کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

خواتین کے کوآپریٹیو ادارے اور معاشی تفویض اختیار

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 04 FEB 2026 6:12PM by PIB Delhi

نیشنل کوآپریشن پالیسی 2025 کوآپریٹوز میں خواتین کی شمولیت کو جامع بنانے پر زور دیتی ہے، جس کا مقصد قانونی درجہ کی فراہمی، معاون پالیسیوں، ڈیجیٹلائزیشن، مالیاتی رسائی اور شعبہ جاتی توسیع کے ذریعے خواتین کو بااختیار بنانا ہے۔ یہ پالیسی کوآپریٹوز کو سماجی مساوات اور معاشی ترقی کے مؤثر ذرائع کے طور پر متعارف کرتی ہے، جس میں خواتین کو ترجیحی اسٹیک ہولڈرز کی حیثیت دی گئی ہے۔ پالیسی میں خواتین کے لیے مخصوص شعبہ جاتی کوآپریٹیوز جیسے ڈیری، دستکاری، فوڈ پروسیسنگ، ٹیکسٹائل، کمیونٹی سروسز وغیرہ کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔اس پالیسی کو آگے بڑھاتے ہوئے، کوآپریٹیو کی وزارت نے مختلف مرکزی اداروں مثلاً نیشنل بینک فار ایگریکلچر اینڈ رورل ڈیولپمنٹ(این اے بی اے آر ڈی)، نیشنل کوآپریٹو ڈیولپمنٹ کارپوریشن(این سی ڈی سی) جو کوآپریٹیو کی وزارت کے انتظامی کنٹرول میں قائم قانونی کارپوریشن ہے، نیشنل کونسل فار کوآپریٹو ٹریننگ(این سی سی ٹی)کے تال میل اور وزارتِ دیہی ترقیات کے اشتراک سے، کوآپریٹیو تحریک کے ذریعے کوآپریٹیوز کو مضبوط بنانے اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔

دین دیال انتودیہ یوجنا – نیشنل رورل لائیولی ہڈمشن(ڈی اے وائی-این آر ایل ایم) کے تحت قائم سیلف ہیلپ گروپس (ایس ایچ جی) وہ غیر رسمی گروپس ہیں جو خواتین اراکین کی زیر ملکیت اور ان کے زیرِ انتظام ہوتے ہیں۔ یہ کسی بھی اصول کے تحت رجسٹرڈ نہیں ہوتےہیں۔ تاہم، ان ایس ایچ جی کی کلسٹر لیول فیڈریشن (سی ایل ایف) کوآپریٹو ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ ہوتی ہیں۔ اب تک ملک بھر میں 10,381سی ایل ایف کو ریاستی کوآپریٹیو ایکٹ، ملٹی  کوآپریٹیو ایکٹ یا میوچئلی ایڈیڈ کوآپریٹیو ایکٹ کے تحت رجسٹر کیا جا چکا ہے۔

مزید برآں، نیشنل کوآپریٹو ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این سی ڈی سی) خواتین کے لیے ایسے پروگراموں کا منصوبہ بناتی ہے اور فروغ دیتی ہے جو کوآپریٹیو کےاصولوں کے تحت زراعتی پیداوار، خوردونوش کی اشیاء، صنعتی مصنوعات، مویشیوں، اجناس اور خدمات جیسے سیاحت، دیہی رہائش، قابلِ تجدید توانائی، بینکاری، اسپتال و صحت کی نگہداشت اور تعلیم وغیرہ کی پروسیسنگ، مارکیٹنگ، ذخیرہ اندوزی، سپلائی چین، برآمدات اور درآمدات سے متعلق ہوں۔ ان پروگراموں کے لیے خواتین کوآپریٹیو کو مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ گزشتہ تین برسوں کے دوران خواتین کوآپریٹیو کواین سی ڈی سی کی جانب سے فراہم کی جانے والی مالی امداد درج ذیل ہے:

مالی سال

جاری کردہ تعاون کی رقم(کروڑ روپے میں)

مستفید اراکین

2022-23

1000.00

2,30,833

2023-24

756.11

1,27,646

2024-25

1754.60

3,15,211

دیہی علاقوں میں مالیاتی مصنوعات اور خدمات سے متعلق آگاہی بڑھانے کے لیے نیشنل لائیولی ہڈ مشن کے تحت تربیت یافتہ فنانشل لٹریسی کمیونٹی ریسورس پرسن(ایف ایل-سی آر پی) کے ذریعے وسیع پیمانے پر مالی خواندگی کی سرگرمیاں انجام دی جارہی ہیں۔ اب تک ملک بھر میں 56,727 خواتین ایس ایچ جی اراکین کو ایف ایل- سی آر پی کے طور پر تربیت دے کر تعینات کیا جا چکا ہے۔ یہ ایف ایل-سی آر پی کمیونٹی سطح پر مالی شمولیت کے مختلف پہلوؤں پر باقاعدہ تربیتی اور آگاہی پروگرام منعقد کرتے ہیں، جن میں بینکاری خدمات کا استعمال، بچت، قرض، ڈیجیٹل مالی لین دین، انشورنس، پنشن وغیرہ کی سرگرمیاں شامل ہیں۔ ان کی شمولیت کا مقصد مالی طرز عمل کو بہتر بنانا، رسمی مالی خدمات تک رسائی کو مضبوط کرنا اور گھریلو سطح پر باخبر فیصلہ سازی کو ممکن بنانا ہے۔ مالی سال 2025-26 کے دوران، دسمبر تک، اس طریقۂ کار کے ذریعے 2.94 کروڑ ایس ایچ جی اراکین کو مالی شمولیت کے مختلف پہلوؤں پر تربیت دی جا چکی ہے۔

مزید برآں، کوآپریٹیو کی وزارت کے قیام کے بعد نیشنل کونسل فار کوآپریٹو ٹریننگ(این سی سی ٹی) نے 2021 سے اب تک قیادت سازی، مالی خواندگی، گورننس اور انتظامی صلاحیتوں پر مرکوز طویل مدتی اور قلیل مدتی پروگراموں کے ذریعے 3,12,006 خواتین شرکاء کو تربیت فراہم کی ہے، جس سے کوآپریٹیو کی انتظامیہ میں خواتین کی شمولیت میں اضافہ ہوا ہے۔

یہ معلومات مرکزی وزیر داخلہ اور کوآپریشن،جناب امت شاہ نے راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں دی ہیں۔

****

 

(ش ح ۔م  ش ع۔ ع د)

U. No. 1685


(ریلیز آئی ڈی: 2223605) وزیٹر کاؤنٹر : 11
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी