تعاون کی وزارت
گوا میں امدادِ باہمی قرض سوسائٹیوں کے تحت مالیاتی ادارے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
04 FEB 2026 6:22PM by PIB Delhi
امدادِ باہمی کی ایسی سوسائٹیاں جن کے مقاصد ایک ریاست تک محدود نہیں ہیں، دستورِ ہند کے ساتویں شیڈول کی فہرست اوّل (یونین فہرست) کے اندراج 44 کے تحت زیرِ انتظام ہیں، اور ان پر مرکز کے زیرِ انتظام کثیر ریاستی امدادِ باہمی سوسائٹیوں کا قانون، 2002 اور اس کے تحت بنائے گئے ضوابط لاگو ہوتے ہیں۔ وہ امدادِ باہمی سوسائٹیاں جن کے مقاصد صرف ایک ہی ریاست تک محدود ہیں، دستورِ ہند کے ساتویں شیڈول کی فہرست دوم (ریاستی فہرست) کے اندراج 32 کے تحت زیرِ انتظام ہیں، اور ان پر متعلقہ ریاست کے امدادِ باہمی سوسائٹیوں کے قانون کی دفعات لاگو ہوتی ہیں۔
مزید یہ کہ، امدادِ باہمی قرض سوسائٹیوں کے تحت مالیاتی اداروں سے متعلق تفصیلات، جو ریاستوں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں (بشمول ریاست گوا) کے امدادِ باہمی سوسائٹیوں کے قانون کے تحت درج شدہ ہیں، وزارت میں مرکزی سطح پر محفوظ نہیں کی جاتیں۔ کثیر ریاستی امدادِ باہمی سوسائٹی، جو کثیر ریاستی امدادِ باہمی سوسائٹیوں کے قانون، 2002 اور اس کے تحت بنائے گئے قواعد کے مطابق اندراج شدہ ہو، ایک خود مختار امدادِ باہمی ادارہ کے طور پر کام کرتی ہے اور اپنے اراکین کے سامنے جواب دہ ہوتی ہے۔
کثیر ریاستی امدادِ باہمی سوسائٹیوں کے قانون، 2002 کی دفعہ 49 کی دفعات کے مطابق، کاروباری معاملات مثلاً اراکین کو داخل کرنا، جمع رقوم قبول کرنا، ان رقوم کو سرمایہ کاری میں لگانا، عملے سے متعلق امور وغیرہ، سوسائٹی کے بورڈ کے اختیارات اور فرائض کے دائرے میں آتے ہیں۔ اسی طرح، کثیر ریاستی امدادِ باہمی سوسائٹیوں کے قانون، 2002 کی دفعہ 52 کی دفعات کے مطابق، سوسائٹی کے روزمرہ انتظامی امور سوسائٹی کے چیف ایگزیکٹو کے اختیارات اور فرائض کے تحت آتے ہیں۔ اس کے علاوہ، کثیر ریاستی امدادِ باہمی سوسائٹیوں کے جمع کنندگان/اراکین کے حقوق کے تحفظ کے لیے، کثیر ریاستی امدادِ باہمی سوسائٹیوں (ترمیمی) قانون اور قواعد، 2023 میں متعدد دفعات متعارف کرائی گئی ہیں، تاکہ کثیر ریاستی امدادِ باہمی سوسائٹیوں کے کام کاج میں شفافیت لائی جا سکے اور ان میں مالی بے ضابطگیوں کو روکا جا سکے، جن میں دیگر کے علاوہ درج ذیل شامل ہیں: —
- ملٹی اسٹیٹ کوآپریٹو سوسائٹیز میں انتخابات کے بروقت، باقاعدہ اور شفاف انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے کوآپریٹو الیکشن اتھارٹی قائم کی گئی ہے۔
- اراکین کی شکایات کے ازالے کے لیے ایک مؤثر طریقۂ کار فراہم کرنے کے مقصد سے مرکزی حکومت نے کوآپریٹو اومبڈسمین مقرر کیا ہے۔
- شفافیت میں بہتری کے لیے ملٹی اسٹیٹ کوآپریٹو سوسائٹیز میں اراکین کو معلومات فراہم کرنے کے لیے انفارمیشن آفیسر کی تقرری کی گئی ہے۔
- ملٹی اسٹیٹ کوآپریٹو سوسائٹیز جن کا ٹرن اوور/ڈپازٹس 500 کروڑ روپے سے زیادہ ہے، ان کے لیے ہمہ وقتی آڈٹ متعارف کرایا گیا ہے، جو مرکزی رجسٹرار کی منظور شدہ آڈیٹرز کی فہرست (پینل) میں سے کیا جائے گا۔
- شفافیت بڑھانے کے لیے اعلیٰ سطح کی ملٹی اسٹیٹ کوآپریٹو سوسائٹیز کی آڈٹ رپورٹس پارلیمنٹ میں پیش کی جائیں گی۔
- ملٹی اسٹیٹ کوآپریٹو سوسائٹیز کے لیے اکاؤنٹنگ اور آڈٹنگ کے معیارات یکسانیت کو یقینی بنانے کے لیے مرکزی حکومت کے ذریعے طے کیے جائیں گے۔
- گورننس اور شفافیت میں بہتری کے لیے ملٹی اسٹیٹ کوآپریٹو سوسائٹیز کی سالانہ رپورٹ میں اُن بورڈ فیصلوں کو بھی شامل کیا جائے گا جو متفقہ نہ ہوں۔
- مرکزی حکومت نے بچت اور قرض کے کاروبار سے وابستہ ملٹی اسٹیٹ کوآپریٹو سوسائٹیز کے لیے احتیاطی ضوابط (جیسے لیکویڈیٹی، ایکسپوژر وغیرہ) طے کیے ہیں۔
- ملٹی اسٹیٹ کوآپریٹو سوسائٹیز میں اقربا پروری اور جانبداری کو روکنے کے لیے یہ طے کیا گیا ہے کہ کسی ملٹی اسٹیٹ کوآپریٹو سوسائٹی کا ڈائریکٹر اُن معاملات پر بحث اور ووٹنگ کے دوران موجود نہیں ہوگا جن میں وہ خود یا اس کے رشتہ دار بطور دلچسپی رکھنے والا فریق شامل ہوں۔
- گورننس میں بہتری، واجبات کی بہتر وصولی اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ کوتاہی، بدعنوانی یا دھوکہ دہی کے ایسے اقدامات کہیں اور دوبارہ نہ دہرائے جائیں، ڈائریکٹرز کے لیے نااہلی کی اضافی وجوہات شامل کی گئی ہیں۔
- ملٹی اسٹیٹ کوآپریٹو سوسائٹیز کے ذریعے فنڈز کی سرمایہ کاری سے متعلق دفعات کو ازسرِنو متعین کیا گیا ہے تاکہ سرمایہ کاری زیادہ محفوظ ہو اور نوآبادیاتی دور کی سیکیورٹیز سے متعلق حوالہ جات ختم کیے جا سکیں۔
- اگر مرکزی رجسٹرار کو یہ اطلاع ملے کہ کاروبار دھوکہ دہی کے طریقے سے یا غیر قانونی مقاصد کے لیے چلایا جا رہا ہے تو وہ انکوائری کر سکتا ہے۔
- اگر رجسٹریشن غلط بیانی، دھوکہ دہی وغیرہ کے ذریعے حاصل کی گئی ہو تو سماعت کا موقع فراہم کرنے کے بعد ملٹی اسٹیٹ کوآپریٹو سوسائٹی کو تحلیل کرنے کی شق رکھی گئی ہے۔
- اراکین کو ملٹی اسٹیٹ کوآپریٹو سوسائٹی کے اجتماعی مفادات کے خلاف عمل کرنے سے روکنے کے لیے، کسی نکالے گئے رکن کی کم از کم اخراج کی مدت ایک سال سے بڑھا کرتین سال کر دی گئی ہے۔
یہ معلومات مرکزی وزیر داخلہ اور تعاون، جناب امیت شاہ نے راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کی۔
******
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-1669
(ریلیز آئی ڈی: 2223423)
وزیٹر کاؤنٹر : 5