تعاون کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

گہرے سمندر میں ماہی گیری اور نِیلی معیشت سے متعلق اقدامات

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 04 FEB 2026 6:21PM by PIB Delhi

حکومتِ ہند کا محکمہ ماہی پروری ایک اہم قومی اسکیم ’’پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا‘‘ عملا رہا ہے، جس کا مقصد ماہی پروری کے شعبے کی مجموعی ترقی اور ماہی گیروں و مچھلی پروری کرنے والوں کی فلاح و بہبود کو فروغ دینا ہے۔ اس اسکیم کے اہم مقاصد میں سے ایک مقصد یہ ہے کہ روایتی اور چھوٹے پیمانے کے ماہی گیروں کو گہرے سمندر میں ماہی گیری کرنے کے قابل بنایا جائے۔ اس اسکیم کے تحت روایتی ماہی گیروں کو گہرے سمندر میں ماہی گیری کے جہاز حاصل کرنے کے لیے مالی مدد فراہم کی جاتی ہے، اور برآمدی معیار کے مطابق بنانے کے لیے موجودہ ماہی گیری جہازوں کی اپ گریڈیشن کے لیے بھی مالی معاونت دی جاتی ہے۔

’’پورے حکومتی طریقۂ کار‘‘ کو اختیار کرتے ہوئے، وزارتِ تعاون، محکمہ ماہی پروری کے ساتھ ، مشترکہ ورکنگ گروپ کے ذریعے تعاون کر رہی ہے، تاکہ چھوٹے پیمانے کے ماہی گیروں کی گہرے سمندر میں ماہی گیری میں شمولیت، قدر افزائی کے سلسلے کی ترقی، پروسیسنگ اور برآمدات کو فروغ دیا جا سکے۔

وزارتِ تعاون اس پروگرام میں ماہی پروری کی کوآپریٹو سوسائٹیوں اور مچھلی پالن کرنے والوں کی کسان پیداوار تنظیموں کو ادارہ جاتی مالی سہولت تک رسائی، کوآپریٹو بنیاد پر اثاثہ سازی، اور نیشنل کوآپریٹو ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے ذریعے مربوط نفاذ کے ذریعہ مضبوط بناتی ہے، جبکہ محکمہ ماہی پروری گہرے سمندر میں ماہی گیری اور متعلقہ سرگرمیوں کے لیے پالیسی فریم ورک، تکنیکی رہنمائی اور اسکیم کے تحت معاونت فراہم کرتا ہے۔ دونوں وِزارتیں قریبی تال میل کے ساتھ کام کرتی ہیں تاکہ ماہی گیروں کی اجتماعی تنظیم سازی، گہرے سمندر میں ماہی گیری کے جہازوں کی تعیناتی، پروسیسنگ اور ٹھنڈک کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی، اور ماہی پروری کی کوآپریٹو سوسائٹیوں اور کسان پیداوار تنظیموں کے ذریعے سمندری ماہی پروری کی قدر افزائی کی زنجیر کو مضبوط بنایا جا سکے۔

پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا مالی سال 2020-21 سے 20,050 کروڑ روپے کی اب تک کی سب سے بڑی سرمایہ کاری کے ساتھ نافذُالعمل ہے، تاکہ ماہی پروری کی ہمہ گیر ترقی اور ماہی گیروں و مچھلی پروری کرنے والوں کی فلاح و بہبود یقینی بنائی جا سکے۔ محکمہ ماہی پروری 2018-19 سے "ماہی پروری اور آبی زراعت بنیادی ڈھانچہ ترقیاتی فنڈ" بھی نافذ کر رہا ہے، جس کا مجموعی حجم 7522.48 کروڑ روپے ہے۔ حکومتِ ہند نے دیگر اقدامات کے ساتھ ساتھ اس فنڈ کے تحت قرض ضمانت کی سہولت فراہم کرنے کی بھی منظوری دی ہے۔

کوآپریٹو اداروں کے ذریعے سمندری ماہی پروری کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے نیشنل کوآپریٹو ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے ذریعہ پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا اور بنیادی ڈھانچہ ترقیاتی فنڈ کے تحت مالی معاونت فراہم کی گئی ہے۔پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا کے تحت روزگار مضبوط بنانے والی سرگرمیوں کے لیے بھی مدد فراہم کی جاتی ہے، جیسے روایتی ماہی گیروں کو کشتیاں اور جال فراہم کرنا، رابطہ اور نگرانی کے آلات کی مدد، سمندری حفاظت کے کِٹس فراہم کرنا، ماہی گیروں کے لیے بیمہ کوریج، گہرے سمندر میں ماہی گیری کے جہاز حاصل کرنے کے لیے مدد، متبادل/اضافی روزگار کی سرگرمیاں جیسے سمندری گھاس کی کاشت اور دو خول والی آبی پیداوار کی افزائش، تربیت اور مہارت میں اضافہ، کولڈ چین اور مارکیٹنگ سہولیات کے لیے معاونت وغیرہ۔ اس کے علاوہ اس اسکیم کے تحت ماہی گیری بندرگاہوں اور مچھلی اتارنے کے مراکز کی تعمیر کا بھی تصور کیا گیا ہے، تاکہ ماہی گیری کی کشتیوں/جہازوں کی محفوظ لنگر اندازی اور اترائی ممکن ہو سکے۔ جبکہ بنیادی ڈھانچہ ترقیاتی فنڈ کے تحت اہل اداروں کو رعایتی مالی سہولت فراہم کی جاتی ہے، جن میں ریاستی حکومتیں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقے اور ریاستی ادارے شامل ہیں، تاکہ مختلف ماہی پروری اور آبی زراعت بنیادی ڈھانچے کی سہولیات تیار کی جا سکیں۔

ان میں ماہی گیری بندرگاہوں اور مچھلی اتارنے کے مراکز کی تعمیر، گہرے سمندر میں ماہی گیری کے جہاز، کولڈ چین سہولیات، مچھلی بازار، سمندری آبی زراعت یونٹس اور متعلقہ سرگرمیاں شامل ہیں، جو ساحلی روزگار کو بااختیار بنانے، مچھلی کی برآمدات میں اضافہ اور وسائل کے پائیدار انتظام میں مدد فراہم کرتی ہیں۔

یہ معلومات مرکزی وزیرِ داخلہ و تعاون، جناب امت شاہ نے راجیہ سبھا میں تحریری جواب کے ذریعے دی۔

******

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-1668


(ریلیز آئی ڈی: 2223421) وزیٹر کاؤنٹر : 5
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी