ایٹمی توانائی کا محکمہ
پارلیمانی سوال: جوہری توانائی سے بجلی کی پیداوار
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
04 FEB 2026 5:51PM by PIB Delhi
اس وقت ملک میں مجموعی طور پر 24 جوہری بجلی گھر ( آر اے پی ایس-1 کو چھوڑ کر، جو طویل المدتی بندش کے تحت ہے) تجارتی بنیادوں پر فعال ہیں، جن کی مجموعی پیداواری صلاحیت 8,780 میگاواٹ ہے۔
فی الحال حکومت کی جانب سے تھرمل پاور(حرارتی توانائی) کے متبادل کے طور پر جوہری بجلی کی صلاحیت میں اضافے کی کوئی تجویز نہیں ہے۔ تاہم حکومت نے سی ای اے، این پی سی آئی ایل اور اٹامک انرجی ریگولیٹری بورڈ کے افسران پر مشتمل اسٹینڈنگ سائٹ سلیکشن کمیٹی کی ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی ہے، جو اُن موجودہ حرارتی توانائی پلانٹس کے مقامات کا جائزہ لے گی جنہیں ریٹائر کرنے کی تجویز ہے، تاکہ وہاں جوہری بجلی گھروں کے قیام کی موزونیت کا تعین کیا جا سکے۔
2034-35 تک بجلی کی زیادہ سے زیادہ طلب 446 گیگاواٹ اور برقی توانائی کی ضرورت 3215 بلین یونٹس (BU) تک پہنچنے کا امکان ہے۔ اس متوقع طلب کو پورا کرنے کے لیے 2034-35 میں تقریباً 1029 گیگاواٹ نصب شدہ بجلی پیداوار صلاحیت درکار ہوگی، جس میں 327 گیگاواٹ تھرمل، 22 گیگاواٹ جوہری اور 679 گیگاواٹ قابلِ تجدید توانائی شامل ہوگی۔ قابلِ تجدید توانائی میں 73 گیگاواٹ بڑے آبی منصوبے، 447 گیگاواٹ شمسی توانائی، 138 گیگاواٹ ہوا سے بجلی اور 21 گیگاواٹ بایوماس و چھوٹے آبی ذرائع شامل ہوں گے۔ اس کے علاوہ بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز اور پمپڈ اسٹوریج پلانٹس کی ممکنہ نصب شدہ صلاحیت بالترتیب تقریباً 99 گیگاواٹ اور 62 گیگاواٹ تک پہنچنے کی توقع ہے۔
وزیر اعظم کے سی او پی-26 میں کیے گئے اعلان کے مطابق وزارتِ نئی و قابلِ تجدید توانائی 2030 تک غیر حیاتیاتی ایندھن ذرائع سے 500 گیگاواٹ نصب شدہ بجلی صلاحیت حاصل کرنے کی سمت کام کر رہی ہے۔ بھارت جون 2025 میں اپنی مجموعی نصب شدہ بجلی صلاحیت کا 50 فیصد غیر حیاتیاتی ایندھن پر مبنی ذرائع سے حاصل کرنے کا ہدف بھی حاصل کر چکا ہے، جو عالمی عزم سے پانچ سال پہلے حاصل کیا گیا۔ حکومت ہند نے 2030 تک 500 گیگاواٹ غیر حیاتیاتی توانائی صلاحیت کے ہدف کو پورا کرنے کے لیے قابلِ تجدید توانائی کے فروغ اور رفتار بڑھانے کے متعدد اقدامات کیے ہیں۔
یہ معلومات آج لوک سبھا میں تحریری جواب کے دوران سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم کے مرکزی وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج) اور وزیرِ اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات و پنشن، جوہری توانائی اور خلائی امور کے وزیرِ مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے فراہم کی
************
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U : 1660 )
(ریلیز آئی ڈی: 2223404)
وزیٹر کاؤنٹر : 3