خلا ء کا محکمہ
azadi ka amrit mahotsav

قومی خلائی بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 04 FEB 2026 4:22PM by PIB Delhi

سال 2025 میں قومی لانچ اور خلائی بنیادی ڈھانچے کو مستحکم بنانے کی سمت حاصل ہونے والی پیش رفت:

  • ایس پی اے ڈی ای ایکس مشن نے سیٹلائٹس کے درمیان توانائی کی منتقلی کے ساتھ خودکار ڈاکنگ اور اَن ڈاکنگ کا کامیاب مظاہرہ کیا، جو مدار میں خدمات کی صلاحیتوں اور خلائی اسٹیشنوں پر ڈاکنگ آپریشنز کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس کامیابی کو ایس پی اے ڈی ای ایکس مصنوعی سیاروں کی کامیاب مداری گردش نے مزید تقویت دی۔ اس سنگِ میل کے ساتھ بھارت خلا میں ڈاکنگ کا مظاہرہ کرنے والا دنیا کا چوتھا ملک بن گیا۔
  • پی ایس ایل وی آربیٹل ایکسپیریمنٹل ماڈیول (پی او ای ایم-04)، جو پی ایس ایل وی-سی 60 / ایس پی اے ڈی ای ایکس مشن کا بھی حصہ تھا، اسرو، خلائی اسٹارٹ اپس اور تعلیمی اداروں کے متعدد پے لوڈز کے ساتھ مدار میں بھیجا گیا، جس کا مقصد مداری تجربات کے ذریعے اختراع کو فروغ دینا تھا۔ پی او ای ایم-04 نے ایک ہزار سے زائد مدار مکمل کیے اور یہ ایک نہایت کامیاب پی او ای ایم مشن ثابت ہوا۔ اس مشن کے دوران مدار میں ایک روبوٹک بازو کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ مائیکرو گریویٹی ماحول میں بیجوں کے شگفتہ ہونے کا تجربہ بھی کامیابی سے انجام دیا گیا۔
  • جنوری 2025 میں جی ایس ایل وی-ایف 15 / این وی ایس-02 مشن نے سری ہری کوٹا سے اسرو کے سوویں لانچ مشن کے طور پر پرواز کی۔ لانچ گاڑی نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیٹلائٹ کو نہایت درستگی کے ساتھ اس کے مطلوبہ مدار میں نصب کیا۔
  • جی ایس ایل وی-ایف 16 / نیسار مشن نے اسرو اور ناسا کے پہلے مشترکہ مشن کے طور پر ایک اور اہم کامیابی حاصل کی۔ قابل ذکر ہے کہ ناسا کا 12 میٹر انفولیبل اینٹینا، جو زمینی مشاہداتی شعبے کے مہنگے ترین پے لوڈز میں شمار ہوتا ہے، ایک ہندوستانی سیٹلائٹ بس میں ضم کیا گیا اور اسے ہندوستانی لانچ گاڑی کے ذریعے خلا میں بھیجا گیا۔ ناسا کے ایل-بینڈ ایس اے آر پے لوڈ اور اسرو کے ایس-بینڈ ایس اے آر پے لوڈ سے لیس دنیا کا پہلا دوہری فریکوئنسی ایس اے آر سیٹلائٹ، این آئی ایس اے آر، اب مکمل طور پر فعال ہو چکا ہے۔
  • ایل وی ایم 3-ایم 5 / سی ایم ایس-03 مشن ایک اور منفرد کامیابی ہے، جس کے ذریعے اسرو نے ہندوستانی سرزمین سے اب تک کے سب سے بھاری جی ٹی او سیٹلائٹ کو کامیابی سے لانچ کرنے کا سنگِ میل عبور کیا۔
  • اسی طرح، ایل وی ایم 3-ایم 6 / بلیو برڈ بلاک-2 مشن نے ہندوستانی سرزمین سے اب تک کا سب سے بھاری سیٹلائٹ لانچ کرنے کا ریکارڈ قائم کیا۔ اس مشن کے دوران سی 25 اسٹیج کے لیے کمپوزٹ تھرسٹ فریم اور دیگر تکنیکی ترامیم کے ساتھ ایس 200 موٹر کے لیے الیکٹرو مکینیکل ایکٹیویشن کی بھی توثیق کی گئی، جس کے نتیجے میں پے لوڈ کی صلاحیت میں 176 کلوگرام تک اضافہ ممکن ہوا۔ یہ اعتماد کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ ایس 200 ای ایم اے، ٹھوس موٹروں کے لیے الیکٹرو مکینیکل ایکٹیویشن استعمال کرنے والے دیگر لانچرز کے مقابلے میں عالمی سطح پر سب سے طاقتور اسپیس-کوالیفائیڈ الیکٹرک ایکٹیویشن سسٹم ہے۔
  • محکمہ نے اگلی نسل کی لانچ گاڑیوں کے لیے ضروری لانچ انفراسٹرکچر کے تحت سری ہری کوٹا میں تیسرے لانچ پیڈ کے قیام کے لیے حکومت سے مالی منظوری حاصل کر لی ہے۔ اسی طرح، تمل ناڈو کے کلسیکاراپٹنم میں اسمال سیٹلائٹ لانچ وہیکل (ایس ایس ایل وی) کے لیے ایک علیحدہ لانچ سائٹ قائم کی جا رہی ہے، جہاں لانچ پیڈ کی سہولیات اور انضمامی عمارت کی تعمیر کا کام شروع ہو چکا ہے۔
  • ٹھوس موٹروں کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنے کے لیے امونیم پرکلوریٹ پلانٹ، الوی (کیرالہ) میں دوسری پروسیس لائن کا آغاز کیا گیا ہے، جبکہ سری ہری کوٹا، آندھرا پردیش میں ٹھوس پروپیلنٹ کی تیاری کے لیے 10 ٹن صلاحیت کا عمودی مکسر بھی فعال کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، کریوجینک انجن کے ذیلی نظاموں کی جانچ اور منظوری کے عمل کو تیز کرنے کے لیے ایک کریوجینک ٹربو پمپ ٹیسٹ سہولت قائم کی گئی ہے۔ مزید برآں، خلائی جہازوں کے پروپیلنٹ ٹینکوں اور پی ایس ایل وی کے اپر اسٹیج ٹینکوں کی تیاری کے لیے ایک منفرد اینڈ ٹو اینڈ انٹیگریٹڈ ٹائٹینیم الائے ٹینک پروڈکشن سہولت 2025 میں کرناٹک کے تمکورو میں شروع کی گئی ہے۔

 

اسرو نے پاورڈ اسپیس کرافٹ پروپلشن سسٹمز کے لیے 300 ایم این تھرسٹ ریٹنگ کے حامل ہائی تھرسٹ الیکٹرک پروپلشن سسٹم کی تیاری اور اہلیت کا عمل مکمل کر لیا ہے، جس کا تصور ٹیکنالوجی ڈیمونسٹریشن سیٹلائٹ میں کیا گیا تھا۔
مزید برآں، اسرو نے نومبر 2025 میں ایل وی ایم-3 ایم-5 مشن کے دوران تھرسٹ چیمبر کے دوبارہ اگنیشن کا کامیاب مظاہرہ کیا، جس سے آئندہ ایل وی ایم-3 پروازوں میں کریوجینک مرحلے کو دوبارہ شروع کرنے کی راہ ہموار ہوئی اور مشن کی لچک میں اضافہ ہوا۔

اسی طرح، نومبر 2025 میں اسرو نے گراؤنڈ ٹیسٹ کے ذریعے بغیر کسی معاون اسٹارٹ اَپ سسٹم کے گیس جنریٹر سائیکل کریوجینک انجن کو شروع کرنے کے بوٹ اسٹریپ موڈ کا بھی کامیاب مظاہرہ کیا۔
اسرو دوبارہ قابلِ استعمال خلائی نقل و حمل کی ٹیکنالوجیز پر کام کر رہا ہے، جن کے تحت اسٹیج ریکوری کے مظاہرے کے لیے ٹیکنالوجی ڈیمونسٹریشن پروازوں کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اس ضمن میں وکاس انجن کی تھرٹلنگ کو ظاہر کرنے کے لیے زمینی آزمائشیں بھی کامیابی سے انجام دی گئی ہیں۔

اسرو نے سیمی کنڈکٹر لیبارٹری (ایس سی ایل)، چندی گڑھ کے اشتراک سے 32 بٹ دیسی پروسیسر (وِکرم 3201) کو ڈیزائن اور تیار کیا ہے، جو ملک کا پہلا خلائی ایپلی کیشنز کے لیے اہل 32 بٹ پروسیسر ہے۔
اس سے قبل تیار کیا گیا 16 بٹ ورژن (وِکرم 1601) اسرو کی تمام لانچ گاڑیوں کے ایوینکس سسٹمز میں پہلے ہی شامل کیا جا چکا ہے۔
اس کے علاوہ، اسرو نے ایس سی ایل کے تعاون سے ایک اور مقامی مائیکرو پروسیسر کلپنا-32 بھی تیار کیا ہے، جو اسپارک (ایس پی اے آر سی )فنِ تعمیر پر مبنی ہے۔
مائیکرو پروسیسرز کے میدان میں دیسی کوششوں میں آن بورڈ کنٹرولر، پے لوڈ کنٹرولر، ڈیٹا حصول اور بیم فارمنگ یونٹس شامل ہیں۔

اسرو اپنے خلائی ٹیکنالوجی انکیوبیشن سینٹرز (ایس ٹی سی )پروگرام کے ذریعے تعلیمی اداروں کی معاونت کرتا ہے، جس کا مقصد نوجوان اختراع کاروں کی حوصلہ افزائی اور ان کے خیالات کو ہندوستانی خلائی پروگرام کے لیے خلائی معیار کے اجزا میں تبدیل کرنا ہے۔

اسرو نے اسمال سیٹلائٹ لانچ وہیکل (ایس ایس ایل وی )کی ٹیکنالوجی ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (ایچ اے ایل) کو منتقل کر دی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ لیتھیم آئن بیٹری، انٹیگریٹڈ ماڈیولر ایوینکس (آئی ایم اے ٌبس، ڈسٹریس الرٹ سسٹم اور مختلف سینسرز جیسی ٹیکنالوجیز بھی نجی صنعتوں کو منتقل کی گئی ہیں۔

ایس ایس ایل وی کو صنعت کے ذریعے حاصل کرنے کی اسرو کی کوششوں میں متعدد ہندوستانی صنعتیں شامل ہیں۔
کئی ہندوستانی صنعتیں اور اسٹارٹ اپس مائیکرو ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹس اور متعلقہ گراؤنڈ سیگمنٹ انفراسٹرکچر کی تیاری میں سرگرم ہیں۔
ماہی گیروں کی کشتیوں وغیرہ میں نصب کیے جانے والے تقریباً ایک لاکھ دو طرفہ ایم ایس ایس ٹرمینلز کی تیاری میں تین صنعتیں شامل ہیں۔
مزید برآں، نیو اسپیس انڈیا لمیٹڈ (این ایس آئی ایل)نے اسرو اور اِن-اسپیس کے ذریعے ملک میں خلائی ماحولیاتی نظام کو فروغ دینے کے مقصد سے اب تک 100 ٹیکنالوجی ٹرانسفر معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔

انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) خلائی سفر اور خلائی خواہش مند ممالک کے ساتھ کامیاب بین الاقوامی خلائی تعاون جاری رکھے ہوئے ہے۔

  • سال 2025 کے دوران بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ 10 اشتراکی دستاویزات پر دستخط کیے گئے، جن میں جنوبی افریقہ میں نیویک ریفرنس اسٹیشن کا قیام، ہندوستانی خلاباز کا بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کا سفر، یورپی خلائی ایجنسی کے ساتھ انسانی خلائی پرواز میں تعاون، آسٹریلیا میں عارضی گراؤنڈ اسٹیشن کا قیام، ماریشس میں گراؤنڈ اسٹیشن کا مسلسل آپریشن، جاپان کے ساتھ مشترکہ قمری مشن، آئندہ وینس آربٹر مشن پر سویڈش آلے کی تنصیب، اور سعودی عرب، فلپائن اور جمہوریہ کوریا کے نئے خلائی اداروں کے ساتھ تعاون کا آغاز شامل ہے۔
  • نیسر سیٹلائٹ، جسے اسرو اور ناسا نے مشترکہ طور پر تیار کیا، جولائی 2025 میں اسرو کی لانچ گاڑی کے ذریعے خلا میں بھیجا گیا۔
  • اسرو نے اطالوی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف میٹرولوجیکل ریسرچ (آئی این آر آئی ایم)میں ایک نیویک ٹائمنگ رسیور بھی نصب کیا ہے۔
  • مزید یہ کہ، ہندوستانی حکام اقوام متحدہ کی کمیٹی برائے پرامن استعمالِ خلاء(یو این سی او پی یو او ایس) کی سائنسی و تکنیکی ذیلی کمیٹی کے تحت دو ورکنگ گروپس میں قائدانہ کردار ادا کر رہے ہیں۔

بین الاقوامی چارٹر اسپیس اینڈ میجر ڈیزاسٹرز اور سینٹینل ایشیا جیسے بین الاقوامی آفاتِ نظم و نسق کے اقدامات میں اسرو کی فعال شمولیت نے گزشتہ تین برسوں کے دوران ہندوستان کو 2,260 سے زائد سیٹلائٹ ڈیٹا سیٹس حاصل کرنے میں مدد فراہم کی، تاکہ اس مدت میں ملک کو متاثر کرنے والی بڑی آفات کے مؤثر نظم و نسق کے لیے بروقت معلومات دستیاب ہو سکیں۔

اس کے علاوہ، اسرو نے عالمی سطح پر آفات کے نظم و نسق کے اقدامات کے لیے 725 سے زائد آئی آر ایس سیٹلائٹ ڈیٹا سیٹس بھی فراہم کیے، جس سے عالمی انسانی ہمدردی کی کوششوں کے لیے ہندوستان کے عزم کو مزید تقویت ملی۔

اسرو نے سال 2025 میں چھ ماہ کی مدت کے لیے بین الاقوامی چارٹر اسپیس اینڈ میجر ڈیزاسٹرز میں لیڈ رول کامیابی کے ساتھ ادا کیا۔ اس مدت کے دوران اسرو نے تیز رفتار معلومات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے چارٹر کی 39 سرگرمیوں کو مربوط کیا، چار نئے مجاز صارفین کو شامل کیا، ترقی پذیر ممالک کے لیے خلاء پر مبنی خدمات تک وسیع رسائی کو یقینی بنایا، اور چارٹر کے ہموار اور مؤثر آپریشن کو مربوط کیا۔
مزید برآں، اسرو نے جی ایچ جی سیٹ (گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کی پیمائش کرنے والا سیٹلائٹ) کو ایک نئے ڈیٹا ماخذ کے طور پر شامل کیا اور چارٹر کے پورٹل کے تصور کو مزید بہتر بنایا۔

اسرو سینٹینل ایشیا اسٹیئرنگ کمیٹی کی مشترکہ صدارت بھی انجام دے رہا ہے، جو ایشیا-بحرالکاہل خطے میں آفات کے نظم و نسق کے لیے خلائی ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال سے متعلق اسٹریٹجک رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
سال 2026 میں ہندوستان درج ذیل اہم بین الاقوامی اجلاسوں کی میزبانی کرے گا:
(1)
عالمی نیویگیشن سیٹلائٹ سسٹم پر بین الاقوامی کمیٹی (آئی سی جی )،
(2) برکس ممالک کی خلائی ایجنسیوں کے سربراہان کا اجلاس، اور
(3) بین الاقوامی سیاروی ڈیٹا الائنس کی سالانہ میٹنگ۔

یہ معلومات سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی سائنس کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات و پنشن، جوہری توانائی اور خلاء کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب کے ذریعے فراہم کیں۔

***

(ش ح۔اس ک  )

UR-1615


(ریلیز آئی ڈی: 2223353) وزیٹر کاؤنٹر : 7
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी