ارضیاتی سائنس کی وزارت
پارلیمانی سوال: بھارتی محکمۂ موسمیات کی جانب سے کسانوں کو فراہم کردہ موسم کی پیش گوئی کا ڈیٹا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
04 FEB 2026 3:26PM by PIB Delhi
بھارتی محکمۂ موسمیات (آئی ایم ڈی) ملک کی تمام ریاستوں کے کسانوں کو موسم کی پیش گوئیاں فراہم کر رہا ہے۔گرامین کرشی موسم سیوا (جی کے ایم ایس )اسکیم کے تحت،آئی ایم ڈی ضلع اور بلاک سطح پر آئندہ پانچ دنوں کے لیے بارش، درجۂ حرارت، نسبتاً نمی، بادلوں کی گردش، ہوا کی رفتار اور ہوا کی سمت سے متعلق درمیانی مدت کی موسمی پیش گوئیاں فراہم کرتا ہے، نیز موسمی ذیلی تقسیم کی سطح پر اگلے ہفتے کی بارش اور درجۂ حرارت کا منظرنامہ بھی پیش کیا جاتا ہے۔اس کے علاوہ مشاہدہ شدہ موسمی معلومات اور پیش گوئیوں کی بنیاد پر، ملک کے 127 زرعی موسمیاتی زونز میں فعال 130 ایگرو میٹ فیلڈ یونٹس (اے ایم ایف یو) ہفتے میں دو مرتبہ (ہر منگل اور جمعہ) انگریزی اور علاقائی زبانوں میں اپنے متعلقہ اضلاع کے لیے زرعی موسمی مشاورتی ہدایات تیار کرتے ہیں اور کسانوں سے رابطہ قائم کرتے ہیں تاکہ وہ روزمرہ زرعی سرگرمیوں کے حوالے سے مناسب فیصلے کر سکیں۔اس کے علاوہ، شدید موسمی حالات سے متعلق انتباہات کی بنیاد پر اثر پر مبنی موسمی پیش گوئیاں (آئی بی ایف) اور زراعت سے متعلق موزوں مشاورتی ہدایات بھی اے ایم ایف یو کے ذریعے تیار کی جاتی ہیں۔ یہ الرٹ قومی موسمی پیش گوئی مرکز (این ڈبلیو ایف سی)، نئی دہلی اور آئی ایم ڈی کے علاقائی موسمیاتی مراکز اور ریاستی سطح کے موسمیاتی مراکز کی جانب سے ملک کی مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے اضلاع کے لیے جاری کیے جاتے ہیں۔
کسانوں کی فلاح و بہبود میں سوشل میڈیا کا استعمال
کسانوں کے موبائل فون تک براہِ راست موسم کی تازہ معلومات اور بروقت انتباہات پہنچانے کے لیے، موسمی پیش گوئیاں اور زرعی موسمی مشاورتی ہدایات بر وقت یاکثیر ذرائع ابلاغ کے ذریعے فراہم کی جاتی ہیں، جن میں مطبوعہ اور الیکٹرانک میڈیا، دوردرشن، انٹرنیٹ اور پبلک–پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) کے تحت ایس ایم ایس شامل ہیں۔ پی پی پی ماڈل کے تحت تقریباً 61.6 لاکھ کسان موسمی پیش گوئیوں،الرٹ اور زرعی موسمی مشاورتی ہدایات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
شدید موسمی حالات جیسے سمندری طوفان، گہرے دباؤ وغیرہ کے دوران، مناسب تدارکی اقدامات کے ساتھ ایس ایم ایس پر مبنی انتباہات اور وارننگز کسان پورٹل کے ذریعے ارسال کی جاتی ہیں۔ ٹیکنالوجی میں ترقی کے باعث رسائی میں مزید بہتری آئی ہے، جس کے تحت کسان ’میگھدوت‘ اور ’موسم‘ جیسی موبائل ایپس اور واٹس ایپ، فیس بک وغیرہ جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعے مخصوص مقامات سے متعلق موسمی پیش گوئیاں اور مشاورتی ہدایات حاصل کر سکتے ہیں۔اس کے علاوہ بھارتی محکمۂ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے اپنی خدمات کو 21 ریاستی حکومتوں کے آئی ٹی پلیٹ فارم کے ساتھ مربوط کیا ہے، اور تقریباً 1.56 کروڑ کسان ان ریاستی حکومتوں کے آئی ٹی پلیٹ فارم پر انگریزی اور علاقائی زبانوں میں معلومات تک رسائی حاصل کر رہے ہیں۔
دور دراز اور حساس علاقوں میں موسم کی تبدیلی اورمقامی سطح پر اس کی افادیت اور آخری کونےتک رسائی کو یقینی بنانے کے لیے، بھارتی محکمۂ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے حال ہی میں وزارتِ پنچایتی راج (ایم او پی آر) کے تعاون سے گاؤں کی سطح پر موسم کی پیش گوئیاں شروع کی ہیں، جو بھارت کے تقریباً تمام گرام پنچایتوں کا احاطہ کرتی ہیں۔ یہ پیش گوئیاں ڈیجیٹل پلیٹ فارم e-Gramswaraj (https://egramswaraj.gov.in), Meri Panchayat app, e-Manchitra of MoPR, and Mausamgram of IMD, MoES (https://mausamgram.imd.gov.in) پر دستیاب ہیں۔ گرام پنچایت سطح کی موسمی پیش گوئی (جی پی ایل ڈبلیو ایف) کے بنیادی مقاصد یہ ہیں کہ گرام پنچایت کی سطح تک موسم کی پیش گوئیاں فراہم کی جائیں، جن میں اہم پیرامیٹرز جیسے درجۂ حرارت، بارش، نمی، ہوا اور بادلوں کی صورتحال شامل ہوں—یہ وہ ضروری معلومات ہیں جن کی بنیاد پر کسان اپنی بوائی، فصل کی کٹائی اور آبپاشی کے بارے میں باخبر فیصلے کر سکتے ہیں۔
یہ پلیٹ فارم ملک بھر میں پنچایت سطح پر موسم کی معلومات کو کسی بھی وقت اور کسی بھی جگہ حاصل کرنے کے قابل بنا رہا ہے۔ اس معلومات کو پشو سکھی اور کرشی سکھی کے ذریعے زیادہ لوگوں تک پہنچایا جا رہا ہے، جو وزارتِ زراعت و کسان بہبود اور وزارتِ دیہی ترقی کے تحت کام کر رہے ہیں۔
یہ معلومات مرکزی وزیر مملکت (آزاد چارج) برائے سائنسِ ارضیات، ڈاکٹر جیتندر سنگھ نے 4 فروری 2026 کو لوک سبھا میں فراہم کیں۔
*********
ش ح۔ ع و۔ ص ج
U-N-1592
(ریلیز آئی ڈی: 2223245)
وزیٹر کاؤنٹر : 3