قبائیلی امور کی وزارت
اڈیشہ میں قبائلی آبادی اور اڈیشہ کو دی جانے والی مرکزی امداد
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
04 FEB 2026 1:42PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر جناب جوئیل اورام نے آج راجیہ سبھا میں ایوان میں بتایا کہ اڈیشہ ریاست میں درج فہرست قبائل ( ایس ٹی ) کی کل آبادی دستیاب تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 95,90,756 ہے ۔ یہ آبادی مردم شماری 2011 ء میں درج اعداد و شمار کے مطابق ہے۔
اڈیشہ کو قبائلی برادری کی فلاح و بہبود اور ترقی کے لیے قبائلی امور کی وزارت کی مختلف اسکیموں کے تحت درج ذیل مرکزی گرانٹس فراہم کی جاتی ہیں :
دھرتی آبا جنجاتیہ گرام اتکرش ابھیان: وزیر اعظم نے 2 اکتوبر ، 2024 ء کو ’’ دھرتی آبا جنجاتیہ گرام اتکرش ابھیان ‘‘ کا آغاز کیا۔ یہ ابھیان 17 مرکزی وزارتوں کے ذریعے نافذ کیے جانے والے 25 اقدامات پر مشتمل ہے، جس کا مقصد 63,843 گاؤوں میں بنیادی ڈھانچے کی کمی کو دور کرنا، صحت، تعلیم کی سہولیات اور آنگن واڑی مراکز تک رسائی بہتر بنانا اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ اس پروگرام سے پانچ سال کے دوران 30 ریاستوں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں 549 اضلاع اور 2,911 بلاکوں میں پانچ کروڑ سے زائد قبائلی افراد مستفید ہوں گے۔ اس کے لیے کل بجٹ 79,156 کروڑ روپے مختص کیا گیا ہے، جس میں مرکزی حکومت کی حصہ داری 56,333 کروڑ روپے اور ریاستی حکومت کی حصہ داری 22,823 کروڑ روپے شامل ہیں ۔
پردھان منتری جن جاتی آدیواسی نیائے مہا ابھیان ( پی ایم – جَن مَن ) : حکومت نے 15 نومبر ، 2023 ء کو ، جسے جنجاتیہ گورو دِوس کے طور پر منایا جاتا ہے ، ’’ پردھان منتری جن جاتی آدیواسی نیائے مہا ابھیان ( پی ایم – جَن مَن ) ‘‘ کا آغاز کیا ۔ تقریباً 24,000 کروڑ روپے کے مالی بجٹ کے ساتھ یہ مشن تین سال کے اندر پی وی ٹی جی گھروں اور گاؤوں میں محفوظ مکانات ، پینے کا صاف پانی، حفظان صحت، بہتر تعلیم، صحت، غذائیت، سڑک اور ٹیلی مواصلات رابطہ، بجلی سے محروم گھروں کی بجلی کی فراہمی اور پائیدار روزگار کے مواقع فراہم کرنے پر مرکوز ہے۔
پردھان منتری جن جاتیہ وِکاس مشن ( پی ایم جے وی ایم ) : قبائلی امور کی وزارت ’’ پردھان منتری جن جاتیہ وِکاس مشن ( پی ایم جے وی ایم ) ‘‘ کو نافذ کر رہی ہے، جو قبائلی روزگار کے فروغ کے لیے موجودہ دو اسکیموں ، چھوٹی جنگلاتی فصلوں کی پیداوار کی مارکیٹنگ کے طریقۂ کار ( ایم ایف پی ) کی مارکیٹنگ کے لیے کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی ) اور ویلیو چین کی ترقی اور قبائلی مصنوعات/ فصلوں کی مارکیٹنگ اور ترقی کے لیے مارکیٹنگ اور ادارہ جاتی تعاون کو یکجا کر کے تیار کی گئی ہے ۔
وزارت قبائلی امدادِ باہمی کے اداروں کی مارکیٹنگ کی ترقی کی بھارتی فیڈریشن (ٹرائیفیڈ) کے ذریعے ’ پردھان منتری جنجاتیہ وکاس مشن (پی ایم جے وی ایم) ‘ اسکیم کو نافذ کر رہی ہے ، جس میں قبائلی کاروباری اقدامات کو مضبوط کرنے اور قدرتی وسائل ، زرعی/ چھوٹی جنگلاتی فصلوں کی پیداوار (ایم ایف پیز)/غیر زرعی پیداوار کے زیادہ موثر ، مساوی ، خود منظم ، زیادہ سے زیادہ استعمال کو فروغ دے کر روزی روٹی کے مواقع کو آسان بنانے کا تصور کیا گیا ہے ۔ اس اسکیم کے تحت ریاستی حکومتوں کو ون دھن وکاس کیندر (وی ڈی وی کے) کے قیام کے لیے مالی مدد فراہم کی جاتی ہے ، جو ایم ایف پیز/غیر ایم ایف پیز کی قدر میں اضافے کی سرگرمیوں کے مراکز ہیں ۔
ایکلویہ ماڈل اقامتی اسکول ( ای ایم آر ایس ) : ایکلویہ ماڈل اقامتی اسکول ( ای ایم آر ایس ) کا آغاز سال 19-2018 ء میں کیا گیا تاکہ قبائلی بچوں کو ان کے اپنے ماحول میں نوودیا وِدیالیہ کے معیار کی تعلیم فراہم کی جا سکے۔ نئی اسکیم کے تحت حکومت نے فیصلہ کیا کہ 440 ای ایم آر ایس قائم کیے جائیں، یعنی ہر بلاک میں جہاں ایس ٹی آبادی 50 فی صد سے زیادہ ہو اور کم از کم 20,000 قبائلی افراد ہوں (مردم شماری 2011 ء کے مطابق) ایک ای ایم آر ایس قائم کیا جائے۔ ابتدا ء میں 288 ای ایم آر ایس اسکولوں کو آئین کی دفعہ 275(1) کے تحت فنڈز فراہم کیے گئے، جنہیں نئے ماڈل کے مطابق جدید تربنایا جا رہا ہے۔ وزارت نے کل 728 ای ایم آر ایس اسکول قائم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے، جس سے ملک بھر میں درج فہرست قبائل سے تعلق رکھنے والے تقریباً 3.5 لاکھ طلباء مستفید ہوں گے۔
آئین کی دفعہ 275(1) کے تحت گرانٹس: آئین کی دفعہ 275(1) میں مذکورہ التزامات کے تحت، وہ ریاستیں جہاں ایس ٹی آبادی موجود ہے، انہیں شیڈول ایریاز میں انتظامیہ کے معیار کو بلند کرنے اور قبائلی لوگوں کی فلاح کے لیے گرانٹس فراہم کی جاتی ہیں۔ یہ ایک اسپیشل ایریا پروگرام ہے اور 100 فی صد گرانٹس ریاستوں کو دی جاتی ہیں۔ فنڈز ریاستی حکومتوں کو ایس ٹی آبادی کی ضروریات کے مطابق جاری کیے جاتے ہیں تاکہ تعلیم، صحت، ہنر کی ترقی، روزگار، پینے کے صاف پانی، صفائی وغیرہ کے شعبوں میں بنیادی ڈھانچے کی کمی کو پورا کیا جا سکے۔
قبائلی ذیلی اسکیم کے لیے خصوصی مرکزی امداد ( ایس سی اے ٹو ٹی ایس ایس ) : قبل ازیں قبائلی امور کی وزارت ’ قبائلی ذیلی اسکیم کے لیے خصوصی مرکزی امداد( ایس سی اے ٹو ٹی ایس ایس ) ‘ نافذ کر رہی تھی۔ تاریخی طور پر یہ اسکیم 78-1977 ء میں ’ قبائلی ذیلی منصوبے کے لیے خصوصی مرکزی امداد ( ایس سی اے ٹو ٹی ایس پی ) کے نام سے شروع ہوئی۔ منصوبہ جاتی اور غیر منصوبہ جاتی اخراجات کے انضمام کے بعد 2017 ء میں اسکیم کا نام بدل کر ’ قبائلی ذیلی اسکیم کے لیے خصوصی مرکزی امداد ( ایس سی اے ٹو ٹی ایس ایس ) ‘ کر دیا گیا۔ اس اسکیم کے تحت فنڈز شمال مشرقی ریاستوں سمیت جہاں ایس ٹی آبادی نوٹیفائیڈ ہو، ریاستی حکومتوں کو جاری کیے جاتے ہیں تاکہ قبائلی لوگوں کی ترقی اور فلاح کے لیے شعبوں جیسے تعلیم، صحت، زراعت، ہنر کی ترقی، روزگار اور آمدنی کے مواقع میں فرق کو کم کیا جا سکے۔ یہ اسکیم مرکزی وزارتوں اور ریاستی حکومتوں کی اسکیموں کے ضمنی اور اضافی کردار کے طور پر قبائلی علاقوں اور لوگوں کی مجموعی ترقی اور فلاح و بہبود میں معاون رہی ہے۔ ریاستی حکومتوں کی فعال اور جوابدہ حمایت کے ساتھ، قبائلی امور کی وزارت 15-2014 ء سے اسکیم کے مختص بجٹ کو مکمل طور پر استعمال کرنے میں کامیاب رہی ہے۔
درج فہرست قبائل ٹرائب کی فلاح کے لیے رضاکارانہ تنظیموں کو امداد: درج فہرست قبائل کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی رضاکارانہ تنظیموں کو امداد کی اسکیم کے تحت وزارت تعلیم اور صحت کے شعبوں میں پروجیکٹس کو فنڈ فراہم کرتی ہے، جن میں اقامتی اسکولز، غیر اقامتی اسکولز، ہاسٹلز، موبائل ڈسپنسریز، دس یا اس سے زیادہ بستروں والے اسپتال اور روزگار کے منصوبے شامل ہیں۔
درج فہرست قبائل کے طلباء کے لیے پری میٹرک اسکالرشپ : یہ اسکیم ان طلباء کے لیے ہے ، جو نویں اور دسویں جماعت میں پڑھ رہے ہیں۔ اسے حاصل کرنے کے لیے والدین کی تمام ذرائع سے آمدنی سالانہ 2.50 لاکھ روپے سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ گھرسے آکر پڑھائی کرنے والے طلباء کے لیے ماہانہ 225 روپے اور ہاسٹل کے طلباء کے لیے ماہانہ 525 روپے کی اسکالرشپ ایک سال میں 10 ماہ کے لیے دی جاتی ہے۔ اسکالرشپ ریاستی حکومت یا مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ذریعے فراہم کی جاتی ہے۔ فنڈنگ کا تناسب تمام ریاستوں کے لیے مرکز اور ریاستوں کے درمیان 75:25 ہے، البتہ شمال مشرقی ریاستوں / اور پہاڑی ریاستوں جیسے ہماچل پردیش، اتراکھنڈ اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں جموں و کشمیر ، جہاں یہ تناسب 90:10 ہے۔ بغیر اسمبلی والے مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے لیے 100 فی صد مرکزی حصہ دیا جاتا ہے۔
درج فہرست قبائل کے طلباء کے لیے پوسٹ میٹرک اسکالرشپ : اس اسکیم کا مقصد ، وہ مالی امداد فراہم کرنا ہے ، جو درج فہرست قبائل سے تعلق رکھنے والے طلباء کو میٹرک کے بعد یا ثانوی تعلیم کے مراحل میں تعلیم مکمل کرنے میں مدد فراہم کرے۔ اس اسکیم کو حاصل کرنے کے لیے والدین کی تمام ذرائع سے آمدنی سالانہ 2.50 لاکھ روپے سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ تعلیمی اداروں کی لازمی فیس مقررہ حد کے مطابق ریاستی فیس کمیٹی کی منظوری کے تحت واپس کی جاتی ہے اور اسکالرشپ کی رقم 230 سے 1200 روپے ماہانہ کے درمیان کورس کے مطابق دی جاتی ہے۔ یہ اسکیم ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی انتظامیہ کے ذریعے نافذ کی جاتی ہے۔ فنڈنگ کا تناسب تمام ریاستوں کے لیے مرکز اور ریاستوں کے درمیان 75:25 ہے، البتہ شمال مشرقی ریاستوں / اور پہاڑی ریاستوں جیسے ہماچل پردیش، اتراکھنڈ اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں جموں و کشمیر ، جہاں یہ تناسب 90:10 ہے۔ بغیر اسمبلی والے مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے لیے 100 فی صد مرکزی حصہ دیا جاتا ہے۔
درج فہرست قبائل کے لیے ترقیاتی ایکشن پلان : حکومت ، ملک میں قبائلی علاقوں کی ترقی اور درج فہرست قبائل کی فلاح و بہبود کے لیے ترقیاتی ایکشن پلان ( ڈی اے پی ایس ٹی ) نافذ کر رہی ہے۔ قبائلی امور کی وزارت کے علاوہ ، 41 وزارتیں/محکمے اپنی کل اسکیم بجٹ کا ایک مخصوص فیصد ہر سال قبائلی ترقی کے لیے مختص کرتے ہیں تاکہ ایس ٹی آبادی اور غیر ایس ٹی آبادی کے درمیان ترقیاتی فرق کم کیا جا سکے اور تعلیم، صحت، زراعت، آبپاشی، سڑکیں، ہاؤسنگ، برقی کاری، روزگار کے مواقع، ہنر کی ترقی وغیرہ جیسے قبائلی ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈ فراہم کیا جا سکے۔ قبائلی لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے مختلف وزارتوں/محکموں کی اسکیمیں اور مختص فنڈز مرکزی بجٹ کے اخراجات کے پروفائل میں اسٹیٹمینٹ 10 بی میں دیے گئے ہیں۔
Statement 10B for 2022-23: https://www.indiabudget.gov.in/budget2022-23/doc/eb/stat10b.pdf
Statement 10B for 2023-24: https://www.indiabudget.gov.in/budget2023-24/doc/eb/stat10b.pdf
Statement 10B for 2024-25: https://www.indiabudget.gov.in/budget2024-25/doc/eb/stat10b.pdf
درج فہرست قبائل کے لیے قومی مالیاتی و ترقیاتی کمیشن ( این ایس ٹی ایف ڈی سی ) : این ایس ٹی ایف ڈی سی ایک اعلیٰ ادارہ ہے ، جو 10 اپریل ، 2001 ء کو صرف درج فہرست قبائلی کی اقتصادی ترقی کے لیے قائم کیا گیا۔ یہ کارپوریشن وزارت قبائلی امور کے تحت ایک سرکاری کمپنی کے طور پر رجسٹرڈ کی گئی اور کمپنیز ایکٹ ، 1956 کی دفعہ 25 (اب دفعہ 8 ، 2013 ) کے تحت لائسنس حاصل کیا۔ اس کے تحت درج فہرست قبائل سے تعلق رکھنے والے کاروباری افراد کو قرضے فراہم کیے جاتے ہیں۔
قبائلی تحقیقی اداروں ( ٹی آر آئیز ) کی مدد : قبائلی امور کی وزارت اسکیم ’’ قبائلی تحقیقی اداروں کی مدد ( ٹی آر آئیز ) ‘‘ کے تحت قبائلی تحقیقاتی اداروں ( ٹی آر آئیز ) کو مالی مدد فراہم کرتی ہے تاکہ ان کے بنیادی ڈھانچے، تحقیق و دستاویز سازی کی سرگرمیوں اور تربیت و استعداد کاری کے پروگرامز کو مضبوط بنایا جا سکے۔
|
ریاست اڈیشہ کے لیے اسکیم کے لحاظ سے جاری کئے گئے فنڈ ز
|
|
جاری کیا گیا فنڈ (کروڑ روپے میں)
|
زیر التواء استعمال کے سرٹیفکیٹ کی رقم
( روپے کروڑمیں )
|
|
نمبر شمار
|
اسکیمیں
|
2022-23 ء
|
2023-24 ء
|
2024-25 ء ( پی )
|
2025-26 ء ( پی )
|
|
1
|
ڈی اے جے جی یو اے
|
ناقابل اطلاق
|
ناقابل اطلاق
|
174.23
|
12.54
(21.01.26)
|
8.54
|
|
2
|
پی ایم جن من (ایم پی سی)
|
ناقابل اطلاق
|
12.68
|
23.92
|
1.45
(31.12.2025)
|
22.92
|
|
3
|
پی ایم جے وی ایم ( پی ایم – جن من وی ڈی وی کے )
|
ناقابل اطلاق
|
00.89
|
ناقابل اطلاق
|
0 .42
|
32.96
|
|
4
|
ای ایم آر ایس
|
281.64
|
489.34
|
649.65
|
519.16 (22.01.26)
|
*
|
|
5
|
آئین کی دفعہ 275(1)
|
101.50
|
68.71
|
101.08
|
109.76 (21.01.26)
|
68.7
|
|
6
|
ایس سی اے ٹو ٹی ایس ایس ( پی ایم اے اے جی وائی )
|
10.01
|
30.44
|
ناقابل اطلاق
|
ناقابل اطلاق
|
ناقابل اطلاق
|
|
7
|
رضاکارانہ تنظیموں (این جی او) کو امداد
|
20.49
|
40.95
|
28.85
|
25.86
(31.12.25)
|
0
|
|
8
|
پری میٹرک اسکالرشپ
|
93.97
|
ناقابل اطلاق
|
29.50
|
43.55
(31.12.25)
|
43.55$
|
|
9
|
پوسٹ میٹرک اسکالرشپ
|
171.33
|
135.64
|
294.00
|
407.39
(31.12.25)
|
407.39$
|
|
10
|
این ایس ٹی ایف ڈی سی
|
00.63
|
03.62
|
08.83
|
.07
(31.01.26)
|
0
|
|
11
|
ٹی آر آئیز کے لیے مدد
|
03.13
|
06.00
|
06.00
|
9.22
(31.01.26)
|
0
|
پی : عارضی
* :- قبائلی امور کی وزارت ( ایم او ٹی اے ) فنڈز این ای ایس ٹی ایس کو جاری کرتی ہے اور این ای ایس ٹی ایس مزید ریاستوں/ یو ٹیز / پی ایس یوز تعمیراتی ایجنسیوں/ریاستی سوسائٹیز کو ان کی ضروریات کے مطابق ای ایم آر ایس اسکولوں کی تعمیر اور اسکولوں کے جاری اخراجات کے لیے فنڈ فراہم کرتی ہے۔ ریاست کے حساب سے یو سی ( استعمال کے سرٹیفکیٹ ) کی کیفیت کو وزارت کی سطح پر برقرار نہیں رکھا جاتا۔
$ :- زیر التوا ( زیر التواء ) مالی سال 26-2025 ء سے متعلق ہے۔
..............................
) ش ح – م ع - ع ا )
U.No. 1573
(ریلیز آئی ڈی: 2223179)
وزیٹر کاؤنٹر : 5