زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

حکومت کی طرف سے کسانوں کے لیے بیج اور کھادوں کی بروقت دستیابی یقینی بنائی گئی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 03 FEB 2026 8:13PM by PIB Delhi

محکمہ زراعت اور کسانوں کی بہبود(ڈی اے اینڈ ایف ڈبلیو) ہر خریف اور ربیع سیزن سے پہلے منعقد کی جانے والی زراعتی معلومات کے تبادلے کی زونل کانفرنسوں کے ذریعے وقتاً فوقتاً ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور متعلقہ ایجنسیوں کے ساتھ ضرورت اور دستیابی کا اندازہ لگا کر معیاری بیجوں اور کھادوں کی بروقت دستیابی کو یقینی بناتا ہے۔

سستی قیمتوں پر بیج دستیاب کرانے کے واسطے، نیشنل فوڈ سکیورٹی اور تغذیاتی مشن،خوردنی تیل اور تلہن اور راشٹریہ کرشی وکاس یوجنا(آر کے وی وائی)کے تحت  بیج سے متعلقہ سرگرمیوں بشمول معیاری بیجوں کی تقسیم، نیشنل سیڈ ریزرو کی تشکیل، بیج کے بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی، کسانوں کی تربیت، نمائش اور دالوں کی زیادہ پیداوار دینے والی نئی اقسام (ایچ وائی وی) کی مفت منی کٹس کی تقسیم کے لیے مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ یہ مداخلتیں پیداواری صلاحیت کو بڑھاتی ہیں اور کاشت کی لاگت کو کم کرنے میں مدد کرتی ہیں۔ کسانوں کو سستی قیمتوں پر معیاری بیجوں کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے سرکاری شعبے میں بیج کی پیداوار کی بھی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔

مزید برآں، بی ٹی کپاس کے ہائبرڈ بیج کی منصفانہ قیمتوں کو یقینی بنانے کے لیے، حکومت نے ضروری اشیاء ایکٹ 1955 کے تحت کپاس کے بیجوں کی قیمت (کنٹرول) آرڈر، 2015 مطلع کیا ہے، جس کے تحت بی ٹی کپاس کے بیج کی زیادہ سے زیادہ فروخت کی قیمتیں ہر سال طے کی جاتی ہیں۔

کھاد کی ضرورت کا تخمینہ مجموعی فصل رقبہ، آبپاشی کے علاقے، استعمال کے ماضی کے اندازے اور مٹی کی زرخیزی کی بنیاد پر کیا جاتا ہے اور ہر فصل کے موسم سے پہلے ہموار دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے محکمہ کھاد کو مطلع کیا جاتا ہے۔ حکومت سستی قیمتوں پر یوریا کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے اس کی قیمت کو مطلع کرتی ہے۔

کھادوں کے نظام میں براہ راست فوائد کی منتقلی (ڈی بی ٹی) کے تحت، خوردہ دکانوں پر آدھار سے تصدیق شدہ پوائنٹ آف سیل(پی او ایس) آلات کے ذریعے کسانوں کو حقیقی فروخت کی بنیاد پر کمپنیوں کو کھادوں پر 100فیصد سبسڈی جاری کی جاتی ہے، جس سے ٹارگٹڈ سبسڈی ڈیلیوری کو یقینی بنایا جاتا ہے اوربغیر سبسڈی کی قیمت پر کھادوں کی عدم فراہمی کو یقینی بنایا جاتا ہے۔

بیج کے معیار کو ریگولیٹ کرنے اور جعلی بیجوں کی فروخت کو روکنے کے واسطے، سیڈز ایکٹ، 1966، سیڈ رولز، 1968 اور سیڈز (کنٹرول) آرڈر، 1983 سےریاستی حکومتوں کو یہ اختیار ملتا ہے کہ وہ سیڈ انسپکٹرز کو سیڈ آؤٹ لیٹس کا معائنہ کرنے، نمونے لینے  پر مامور کریں اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف انفورسمنٹ کی کارروائی کریں جس میں لائسنس کی منسوخی، اسٹاک کو روکنے کے احکامات شامل ہیں۔

اس کے علاوہ،ساتھی (سیڈ اتھنٹکیشن، ٹریس ایبلٹی اینڈ ہولیسٹک انوینٹری)پورٹل کو شروع کیا گیا ہے تاکہ سپلائی چین میں بیجوں کی شروع سے آخر تک ڈیجیٹل ٹریس ایبلٹی کو ممکن بنایا جا سکے، شفافیت میں اضافہ ہو اور خریف اور ربیع کے موسموں کے دوران جعلی اور غیر معیاری بیجوں کی گردش کو روکنے میں مدد ملے۔

(بی): حکومت ہند نے اس طرح کی کھادوں کی باقاعدہ فراہمی اور معیار کو یقینی بنانے کے لیے فرٹیلائزر (کنٹرول) آرڈر، 1985 کے تحت نامیاتی کھادوں، بایو فرٹیلائزرز، ڈی آئلڈ کیک، آرگینک  کاربن اِنہنسر اور نینو فرٹیلائزر کو نوٹیفائی کیا ہے۔

نامیاتی اور بایو فرٹیلائزر کے استعمال کوپرمپراگت کرشی ویکاس یوجنا (پی کے وی وائی) اور مشن آرگینک ویلیو چین ڈیولپمنٹ فار نارتھ ایسٹرن ریجن (ایم او وی سی ڈی این ای آر) کے ذریعے فروغ دیا جاتا ہے، جو پیداوار سے لے کر سرٹیفیکیشن اور مارکیٹنگ تک کسانوں کی مدد کرتا ہے۔ یہ اسکیمیں پائیدار نامیاتی ویلو چین تیار کرنے اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرنے کے لیے چھوٹے اور پسماندہ کسانوں، بشمول آرزو مندانہ  اضلاع کے کسانوں کو ترجیح دے کر کلسٹر پر مبنی نقطہ نظر اپناتی ہیں۔ان اسکیموں پر ریاستی/ مرکز کے زیر انتظام حکومتوں کے ذریعے عمل درآمد کیا جاتا ہے۔

(سی): نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ نیوٹریشن مشن(این ایف ایس این ایم) کے تحت، روایتی اقسام کے بیج کی پیداوار کو بڑھانے کے لیے حسب ذیل طور پر مدد فراہم کی جاتی ہے:

  • 50فیصد لاگت پر بیج کی تقسیم
  • اناج اور جوار کے لیے 1000 روپے فی کوئنٹل اور دالوں اور تیل کے بیجوں کے لیے 2000 روپےفی کوئنٹل کے حساب سے بیج کی پیداواری ترغیبات دی جاتی ہیں۔
  • صلاحیت سازی کے پروگرام
  • کمیونٹی سیڈ بینکوں کے قیام کے لیے 50 لاکھ روپے کی یکمشت امداد

مزید، پودوں کی اقسام اور کسانوں کے حقوق کے تحفظ (پی پی وی اینڈ ایف آر) ایکٹ، 2001 کے تحت، کسانوں کو مقامی روایتی اقسام کے تحفظ اور کاشت کے لیے حوصلہ افزائی کی جاتی ہے:

  • املاک  دانش کے تحفظ کے ساتھ کسانوں کی اقسام کا رجسٹریشن (اب تک 5241 اقسام رجسٹرڈہوچکی ہیں)
  • پلانٹ جینوم سیوئیر کمیونٹی ایوارڈز، فارمر ریوارڈز اور فارمر ریکگنیشنز کے ذریعے شناخت کی فراہمی (45 کمیونٹی ایوارڈز، 69 انعامات اور 88 شناختی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے)

یہ معلومات زراعت اور کسانوں کی بہبود کے وزیر مملکت جناب رام ناتھ ٹھاکر نے آج لوک سبھا میں ایک سوال کے  تحریری جواب میں دی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 (ش ح ۔  م ش ع۔ع ن)

U. No. 1562


(ریلیز آئی ڈی: 2222947) وزیٹر کاؤنٹر : 7
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी