سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت
بزرگ شہریوں کے لیے طویل مدتی دیکھ بھال کا بنیادی ڈھانچہ
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
03 FEB 2026 6:06PM by PIB Delhi
سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت ملک بھر میں بزرگ شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے مختلف اسکیموں اور اقدامات کو نافذ کر رہی ہے، جن میں بزرگوں کے لیے طویل مدتی دیکھ بھال کے بنیادی ڈھانچے، معاون رہائشی سہولیات اور معاون نظام کو مضبوط بنانے پر خاص توجہ دی جا رہی ہے۔
وزارت صحت اور خاندانی بہبود کے تحت ہندوستان میں لانگٹیوڈینل ایجنگ اسٹڈی(طویل مدتی عمر رسیدگی کےمطالعہ) (ایل اے ایس آئی) کے مطابق، ملک میں 60 سال اور اس سے زیادہ عمر کے 23.8 فیصد افراد روزانہ کی زندگی کی سرگرمیوں (اے ڈی ایل) میں کم از کم ایک حد سے متاثر ہیں، جو دیکھ بھال پر انحصار کی مختلف ڈگریوں کی نشاندہی کرتی ہیں۔
سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت نے 01.04.2021 سے ملک بھر میں بزرگ شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے اٹل ویوابھودَیہ یوجنا (اے وی وائی اے وائی) کے نام سے ایک جامع اسکیم نافذ کی ہے۔ اس اسکیم کے تحت انٹیگریٹڈ پروگرام فار سینئر سٹیزنز (بزرگ شہریوں کے لیے مربوط پروگرام )(آئی پی ایس آر سی) کے ذریعے سینئر سٹیزن ہومز(بزرگ شہری گھروں )، ، کنٹینیوئس کیئر ہومز(مستقل دیکھ بھال مراکز )، موبائل میڈیکیئر یونٹس اور فزیوتھراپی کلینکس چلانے اور ان کی دیکھ بھال کے لیے تنظیموں کو گرانٹ ان ایڈ فراہم کی جاتی ہے۔ اس وقت آئی پی ایس آر سی کے تحت 705 سینئر سٹیزن ہومز(بزرگ شہری گھروں )، 13 کنٹینیوئس کیئر ہومز(مستقل دیکھ بھال مراکز )، 17 موبائل میڈیکیئر یونٹس اور 3 فزیوتھراپی کلینکس کی مدد کی جا رہی ہے۔
اس کے علاوہ، اے وی وائی اے وائی کے راشٹریہ ویوشری یوجنا (آر وی وائی) جزو کے تحت، عمر رسیدہ معذور یا کمزور اہل بزرگ شہریوں کو جسمانی افعال کی معمول کے قریب بحالی کے لیے معاون آلات فراہم کیے جا رہے ہیں۔ ان میں کم بینائی، سماعت کی خرابی، دانتوں کا نقصان اور لوکو موٹر کی معذوری کے لیے امداد شامل ہے۔ اس وقت آر وی وائی کے تحت 7.93 لاکھ اہل بزرگ شہری مستفید ہو چکے ہیں۔
گھر پر مبنی دیکھ بھال کی اہمیت اور تربیت یافتہ دیکھ بھال کرنے والوں کی ضرورت کو تسلیم کرتے ہوئے، محکمہ نے پی ایم-اسپیشل (سسٹم فار پروویژن آف ایلڈر کیئر ان ہاؤس اینڈ اسسٹڈ لیونگ) نامی اسکیم کے جزو کو نافذ کیا ہے، جس کا مقصد بزرگ شہریوں کے لیے پیشہ ورانہ خدمات کو بڑھانا اور جیریاٹریکس کے شعبے میں تربیت یافتہ دیکھ بھال کرنے والوں کا ایک کیڈر تیار کرنا ہے۔
حکومت نے بزرگ شہریوں کو مفت معلومات، رہنمائی اور جذباتی مدد فراہم کرنے کے لیے بزرگوں کے لیے ایک قومی ہیلپ لائن (14567) بھی قائم کی ہے۔ رسائی کو بہتر بنانے کے لیے تکنیکی بنیادی ڈھانچے میں اضافہ، کال ہینڈلنگ کی صلاحیت میں توسیع اور آؤٹ ریچ سرگرمیوں کے ذریعے عوام میں وسیع پیمانے پر آگاہی پیدا کرکے ایلڈر لائن کو مضبوط بنانے کی مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔
والدین اور بزرگ شہریوں کی دیکھ بھال اور بہبود ایکٹ، 2007، بزرگ شہریوں کو تیز رفتار، سستے اور مختصر انصاف کی فراہمی کے لیے مینٹیننس ٹریبونلز اور اپیلیٹ ٹریبونلز کے قیام کا انتظام کرتا ہے۔ ایکٹ کے سیکشن 5 (4) کے تحت، مینٹیننس ٹریبونلز کو بچوں یا رشتہ داروں کو نوٹس کی خدمت کی تاریخ سے نوے دن کے اندر دیکھ بھال کے لیے درخواستوں کو نمٹانے کا حکم دیا گیا ہے، جس میں غیر معمولی حالات میں زیادہ سے زیادہ تیس دن کی توسیع کی جا سکتی ہے۔
یہ معلومات سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کے وزیر مملکت جناب بی ایل ورما نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کی ہیں۔
***
UR-1539
(ش ح۔اس ک )
(ریلیز آئی ڈی: 2222858)
وزیٹر کاؤنٹر : 8