امور صارفین، خوراک اور عوامی تقسیم کی وزارت
خوردنی تیل کمپنیوں کو وی او پی پی اے کی عدم تعمیل پروجہ بتاؤ نوٹس جاری
ڈی ایف پی ڈی نے ترمیم شدہ وی او پی پی اے آرڈر 2025 کے نفاذ کے لیے معائنہ سے متعلق مہم تیز کر دی
وی او پی پی اے کے تحت لازمی ریٹرن جمع نہ کرانے والی یونٹس کے خلاف کارروائی کا انتباہ
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
03 FEB 2026 5:50PM by PIB Delhi
حکومتِ ہند نے ویجیٹیبل آئل پروڈکٹس، پروڈکشن اینڈ اویلیبیلٹی (ریگولیشن) ترمیمی حکم، 2025 (وی او پی پی اے آرڈر، 2025) کے ذریعے خوردنی تیل کی پوری ویلیو چین میں ضابطہ جاتی نگرانی کو مضبوط بنایا ہے۔ ترمیم شدہ حکم کے تحت تمام خوردنی تیل بنانے والے، پراسیسرز، بلینڈرز اور ری پیکرز کے لیے نیشنل سنگل ونڈو سسٹم (این ایس ڈبلیو ایس) اور وی او پی پی اے پورٹل (https://www.edibleoilindia.in) پر لازمی رجسٹریشن ضروری قرار دی گئی ہے، ساتھ ہی پیداوار، ذخیرہ اور دستیابی سے متعلق تفصیلی ماہانہ رپورٹس جمع کرانا بھی لازمی ہوگا۔
ترمیم شدہ وی او پی پی اے آرڈر 2025 کے تحت تمام رجسٹرڈ اداروں کو ماہانہ بنیاد پر پیداوار، اسٹاک، درآمدات، ترسیل، فروخت اور کھپت سے متعلق معلومات فراہم کرنی ہوں گی، جن میں خام اور ریفائنڈ ویجیٹیبل آئلز، سالوینٹ ایکسٹریکٹڈ آئلز، بلینڈڈ آئلز، ونسپتی، مارجرین اور دیگر نوٹیفائڈ مصنوعات شامل ہیں۔ اس نظام کا مقصد شفافیت کو فروغ دینا، ڈیٹا پر مبنی پالیسی سازی کو ممکن بنانا اور قومی غذائی تحفظ کو مضبوط کرنا ہے۔
ملک گیر تعمیلی مہم کے تحت محکمہ خوراک و عوامی نظام تقسیم (ڈی ایف پی ڈی) نے کرنال (ہریانہ) اور جے پور (راجستھان) سمیت مختلف مقامات پر معائنہ مہمات چلائیں تاکہ این ایس ڈبلیو ایس/وی او پی پی اے رجسٹریشن کی تصدیق کی جا سکے، ماہانہ رپورٹس کی درستگی اور بروقت جمع آوری کا جائزہ لیا جا سکے اور صنعت سے وابستہ افراد کو قواعد پر عمل کی ترغیب دی جا سکے، تاکہ خوردنی تیل کے شعبے کی مؤثر نگرانی یقینی بنائی جا سکے۔

نفاذی اقدامات کے ساتھ ساتھ محکمہ تعمیل کو آسان بنانے کے لیے استعداد سازی کی سرگرمیاں بھی انجام دے رہا ہے۔ اس سلسلے میں 30 جنوری 2026 کو آر آئی سی، جے پور میں ایک ورکشاپ منعقد کی گئی جس میں درست ڈیٹا رپورٹنگ، این ایس ڈبلیو ایس رجسٹریشن، وی او پی پی اے پورٹل کے استعمال اور بروقت ریٹرن جمع کرانے پر توجہ دی گئی۔ اسی نوعیت کی ورکشاپس دیگر بڑی ریاستوں میں بھی منعقد کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس اقدام کے تسلسل میں تیسری آگاہی ورکشاپ 16 فروری 2026 کو راجکوٹ، گجرات میں منعقد کرنے کی تجویز ہے، کیونکہ اس خطے میں خوردنی تیل پراسیسنگ یونٹس کی بڑی تعداد موجود ہے۔
معائنوں اور بعد ازاں جائزوں کی بنیاد پر محکمہ نے چند بڑی خوردنی تیل کمپنیوں کو لازمی ماہانہ پیداواری رپورٹس جمع نہ کرانے پر شوکاز نوٹس جاری کیے ہیں، حالانکہ انہیں ای میل اور ٹیلی فون کے ذریعے بارہا یاد دہانی کرائی گئی تھی۔ اس نوعیت کی کوتاہی وی او پی پی اے آرڈر 2025 کی خلاف ورزی تصور کی جاتی ہے، جو ضروری اشیاء ایکٹ 1955 کی دفعہ 3 کے تحت جاری کیا گیا ہے۔
متعلقہ اداروں کو مطلع کیا گیا ہے کہ ضروری اشیاء ایکٹ 1955 کی دفعہ 6اےکے تحت خلاف ورزی کی صورت میں معائنہ اور ضبطی سمیت کارروائی کی جا سکتی ہے۔ مزید برآں، دفعہ 6بیکے مطابق کسی بھی ضبطی کے حکم سے قبل وضاحت کا مناسب موقع فراہم کرنا ضروری ہے۔ اسی بنا پر متعلقہ یونٹس کو سات دن کے اندر تحریری جواب جمع کرانے کی مہلت دی گئی ہے کہ ان کے خلاف کارروائی کیوں نہ کی جائے۔ محکمہ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وی او پی پی اے فریم ورک کے تحت رجسٹر نہ ہونے یا لازمی ریٹرن جمع نہ کرانے والی دیگر تمام یونٹس کو بھی اسی نوعیت کے شوکاز نوٹس جاری کیے جائیں گے تاکہ پورے شعبے میں یکساں تعمیل یقینی بنائی جا سکے۔ ضرورت کے مطابق خوردنی تیل پراسیسنگ یونٹس میں معائنہ مہمات جاری رہیں گی۔
حکومت نے مؤثر پالیسی سازی اور قومی غذائی تحفظ کے مفاد میں خوردنی تیل کے شعبے میں شفافیت، جوابدہی اور سخت تعمیل کو یقینی بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
************
ش ح ۔ ف ا ۔ م ص
(U :1529 )
(ریلیز آئی ڈی: 2222794)
وزیٹر کاؤنٹر : 3