جل شکتی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ندیوں کی بحالی اور آلودگی کی کمی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 02 FEB 2026 4:27PM by PIB Delhi

 راجیہ سبھا  میں آج  جل شکتی کے وزیر مملکت جناب راج بھوشن چودھری  نے تحریری جواب میں بتایا کہنمامی گنگا پروگرام  کے تحت، آلودہ ندیوں کے علاقوں کی بحالی کے لیے کل 218 سیوریج انفراسٹرکچر منصوبے شروع کیے گئے ہیں جن کی مجموعی لاگت 35,698 کروڑ روپے ہے اور ان میں 6,610 ملین لیٹر فی دن (ایم ایل ڈی ) کی گنجائش والے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس (ایس ٹی پیز) شامل ہیں۔ ان میں سے 138 منصوبے، جن کی صلاحیت 3,977 ایم ایل ڈی  ہے، مکمل ہو چکے ہیں اور فعال کر دیے گئے ہیں۔

 

 سینٹرل پولوشن کنٹرول بورڈ (سی پی سی بی)  کی 2018 اور 2025 کی رپورٹس کے مطابق، آلودہ ندیوں کے حصوں(پی آر ایس) میں گنگا ندی کے اہم حصوں کے پانی کے معیار میں بہتری دیکھی گئی ہے۔ گنگا کے مرکزی دھارے میں 2018 کے مقابلے 2025 میں پانی کے معیار کی تفصیل منسلک ہے۔

 

سال 2025 (جنوری تا اگست) کے پانی کے معیار کے ڈیٹا (میڈین ویلیوز) کے مطابق، گنگا ندی کے تمام مقامات پر پی ایچ  اور ڈیزولوڈ آکسیجن (ڈی او)  نہانے دھونے کے معیار پر پورا اترتے ہیں۔ تاہم بایو کیمیکل آکسیجن ڈیمانڈ(بی او ڈی)  پورے  گنگا کے حصے میں (اترکھنڈ، جھارکھنڈ، بہار اور مغربی بنگال) مناسب ہے، سواۓ ان مقامات/حصوں کے یعنی اترپردیش کے  کانپورمیں فرخ آباد سے پرانا راجاپور ،  رائے بریلی میں  ڈلماؤ ، غازی پورمیں مرزاپور سے تری گھاٹ۔

 

25-2024 میں گنگا اور اس کے معاون ندیوں کے 50 مقامات اور یمنا اور اس کے معاون ندیوں کے 26 مقامات پر کیے گئے  بایو مانیٹرنگ  کے مطابق،  بایو لوجیکل واٹر کوالٹی (بی ڈبلیو کیو)  زیادہ تر ‘اچھی’ سے ‘درمیانی’ رینج میں رہی۔ مختلف  بینتھک مارکوانورٹ بریٹ انواع کی موجودگی ندیوں کے ماحولیاتی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہیں جو آبی حیات کو برقرار رکھنے کے قابل ہیں۔

ندیوں کی صفائی ایک مسلسل عمل ہے اور یہ بنیادی طور پر ریاستی حکومتوں/مرکزی علاقوں (یو ٹیز)، مقامی اداروں اور صنعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ سیوریج اور صنعتی فضلہ کو ندیوں یا دیگر آبی ذرائع میں خارج کرنے سے پہلے مناسب طریقے سے صفائی کریں تاکہ آلودگی کو کنٹرول کیا جا سکے۔ حکومت ہند  نمامی گنگا پروگرام کے مرکزی شعبے کے ذریعے ریاستی حکومتوں/ یو ٹیز کو گنگا اور اس کے معاون ندیوں  میں آلودگی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے مالی اور تکنیکی معاونت فراہم کرتی ہے، جبکہ  نیشنل ریور کنزرویشن پلان (این آر سی پی )  کے مرکزی معاونت شدہ اسکیم کے ذریعے ملک کی دیگر ندیوں کے طاس میں بھی اقدامات کیے جاتے ہیں۔

 

 دریاؤں کے تحفظ سے متعلق قومی منصوبہ  (این آر سی پی ) کی مرکزی معاونت شدہ اسکیم کے تحت، تلنگانہ کے  حیدرآباد  میں  4 سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس (ایس ٹی پیز) ، جن کی مجموعی صلاحیت  593 ملین لیٹر فی دن (ایم ایل ڈی )  ہے، موسی ندی کی آلودگی کم کرنے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ،  بھدرچلّم، منچیریال اور راماگنڈم  میں  5 مزید ایس ٹی پیز ، جن کی مجموعی صلاحیت  28.46 ایم ایل ڈی   ہے، گوداوری ندی کی آلودگی کم کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔

‘‘حالات جائزہ اور انتظامی منصوبہ (سی اے  ایم پی )، کے تحت این آر سی پی  میں چھ ندیوں کےطاس - گوداوری، کرشنا، نرمدا، کاویری، مہانادی اور پیریارأکے لیے  12 مختلف اداروں/تنظیموں  کو شامل کیا گیا ہے۔

صاف کیے گئے پانی کے  دوبارہ استعمال  کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے، صاف کئے گئے پانی کے دوبارہ استعمال کے لیےقومی فریم ورک   تیار کیا گیا ہے۔ گنگا کے طاس  اور ملک کی دیگر ندیوں کے طاس  کے تعلق سے  تمام ریاستوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے دوبارہ استعمال کے متعلقہ پالیسیز کو قومی فریم ورک کے مطابق ڈھالیں۔  این ایم سی جی  نے شہر کی سطح پر بھی عملی منصوبے تیار کیے ہیں تاکہ پالیسی کو زمین پر قابل عمل بنایا جا سکے۔

 نمامی گنگا پروگرام اور این آر سی پی   کے تحت عوامی شعور اجاگر کرنے کے لیے جامع مہمات چلائی گئی ہیں تاکہ عوام میں گنگا اور دیگر ندیوں کی صفائی اور تحفظ کے لیے ذمہ داری اور شمولیت کا احساس  پیدا ہو۔ یہ مہمات تعلیمی مواد، کمیونٹی آؤٹ ریچ، اسکول پروگرام، ماس میڈیا مہمات، صفائی مہمات اور آن لائن سرگرمیوں کے ذریعےانجام  دی جاتی ہیں۔

صفائی مہمات اور شعور بیدار کرنے والی سرگرمیوں میں  تعلیمی ادارے، رضاکار گروپس، شراکتی تنظیمیں، اور ضلعی  گنگا کمیٹیاں  شامل ہیں تاکہ گنگا کے کنارے رہنے والے کمیونٹیز کو ماحولیاتی تحفظ، پانی کی آلودگی کم کرنے اور ماحول دوست طریقے اپنانے کی تربیت دی جا سکے۔ کمیونٹی شمولیت اور شعوری طور پر بیداری کو  سوشل میڈیا  کے ذریعے بھی بیداری پھیلایا جاتا  ہے، کیونکہ یہ خاص طور پر نوجوانوں سے جڑنے کا اہم ذریعہ ہے۔ سوچھتا پکھواڑا گنگا اتسو ، گنگا رن ، گنگا رافٹنگ مہمات ، ٹریکس ، سماجی پیغام کے ساتھ گھاٹ پے ہاٹ اور اس طرح کی کئی دیگر سرگرمیاں بھی منعقد کی جاتی ہیں ۔


ANNEXURE

Ganga Main Stem – State-wise Comparison (2018 vs 2025)

State

2018 Polluted

Stretches

Priority

(2018)

2025 Polluted Stretches

Priority

(2025)

Trend/Observation

Uttarakhand

Haridwar →

Sultanpur

IV

No PRS

Improved and PRS stretch removed

Uttar Pradesh

Kannauj →

Varanasi

IV

Bijnor → Tarighat

IV / V

Partially improved

Bihar

Buxar to

Bhagalpur

V

Bhagalpur D/S→

Khalgaon D/S

V

Marginal pollution remains

Jharkhand

No PRS

No PRS

West Bengal

Triveni →

Diamond

Harbour

III

Baharampore →

Diamond Harbour

V

Improved

   

********

ش ح۔ ع ح ۔ت ا

U-NO-1456


(ریلیز آئی ڈی: 2222259) وزیٹر کاؤنٹر : 4
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी