صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیرِ صحت جناب جگت پرکاش نڈا نے قومی کمیشن برائے خواتین (این سی ڈبلیو) کے یومِ تاسیس پروگرام سے خطاب کیا


وزیرِ اعظم مودی کی قیادت میں بھارت علاج پر مبنی نظام سے بچاؤ اور حفظان صحت  کے فروغ  کی جانب منتقل ہو رہا ہے: مرکزی وزیرِ صحت

بروقت طبی مداخلت کے لیے یو-وِن پلیٹ فارم کے ذریعے 5 کروڑ سے زائد ماؤں اور بچوں کی نگرانی: جناب جے پی نڈا

گزشتہ دہائی میں 7.5 کروڑ سے زائد قبل از زچگی طبی  چیک اپ ؛ ادارہ جاتی زچگی میں 89 فیصد اضافہ

بھارت میں زچگی کے دوران اموات کی شرح کم ہو کر 88 رہ گئی، جو عالمی سطح پرہونے والی کمی میں  تیز ترین ہے: جناب جے پی نڈا

ٹیلی-مانس 20 زبانوں میں 24×7 ذہنی صحت کی مشاورت فراہم کرتا ہے، جو رسائی کو  آسان اور بدنامی سے پاک مدد یقینی بناتا ہے

مرکزی وزیرِ صحت نے خواتین کی قیادت میں ترقی کو بھارت کی پیش رفت کی کلید قرار دیا

وزیرِ اعظم مودی کی دوراندیش قیادت میں خواتین  پرمرکوز حکمرانی قومی پالیسی کا محور بنی رہے گی: مرکزی وزیرِ صحت

प्रविष्टि तिथि: 30 JAN 2026 7:18PM by PIB Delhi

صحت و خاندانی بہبود اور کیمیکلز و فرٹیلائزرزکے مرکزی وزیر جناب جگت پرکاش نڈا نے آج قومی کمیشن برائے خواتین (این سی ڈبلیو) کے یومِ تاسیس کے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے خواتین کی صحت، تحفظ، وقار اور ہمہ گیر بااختیاری کے فروغ کے لیے حکومتِ ہند کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001Y1YF.jpg

کلیدی خطبہ دیتے ہوئے، مرکزی وزیر برائے صحت و خاندانی بہبود اور کیمیکلز و فرٹیلائزرز، جناب جے پی نڈا نے خواتین کی قیادت میں ترقی سے متعلق حکومت کے وژن کو اجاگر کیا اور کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانا بھارت کی جامع ترقی اور سماجی تبدیلی کا بنیادی ستون ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کمیشن کے 34 سالہ سفر سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ادارے صرف قانون سازی کے ذریعے نہیں بلکہ عزم، حساسیت اور خواتین سے متعلق پیچیدہ مسائل کے حل کے لیے مسلسل عملی اقدامات کے ذریعے اپنی شناخت اور اعتبار قائم کرتے ہیں۔

محترم وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں بھارت کی صحت پالیسی میں آنے والی بنیادی تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے مرکزی وزیر صحت نے کہا کہ ملک نے محض علاج پر مبنی نظام سے نکل کر ایک جامع، احتیاطی اور حفظان صحت  کے  فروغ  پر مبنی ماڈل اختیار کر لیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قومی صحت پالیسی 2017 نے مربوط صحت نظام کی بنیاد رکھی، جس میں احتیاط، فروغ، علاج، تسکین اور بحالی پر مبنی  خدمات شامل ہیں۔ اس وژن کو عملی شکل دینے کے لیے ملک بھر میں ایک لاکھ 81 ہزار سے زائد آیوشمان آروگیہ مندر قائم کیے جا چکے ہیں، جو ایک ارب چالیس کروڑ سے زیادہ شہریوں کو خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ ان مراکز میں ماں اور تولیدی صحت کی دیکھ بھال کو خصوصی اہمیت حاصل ہے، جو جامع صحت کی بارہ سروس پیکجز میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002AR84.jpg

مرکزی وزیر صحت نے مزید بتایا کہ عورت کے حاملہ ہونے کے وقت سے لے کر بچے کے 16 برس کی عمر تک حکومت مسلسل صحت نگرانی کو یقینی بناتی ہے، جس میں بنیادی کردار آشا کارکنان ادا کرتی ہیں۔ یو-وِن ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے اس وقت 2.5 کروڑ سے زائد حاملہ خواتین اور 2.5 کروڑ بچوں کا ریکارڈ مانیٹر کیا جا رہا ہے، تاکہ بروقت حفاظتی ٹیکہ جات، دورانِ حمل طبی نگہداشت اور دیگر ضروری صحت مداخلتیں یقینی بنائی جا سکیں۔

انہوں نے بتایا کہ 2016 سے 2024 کے دوران 7.5 کروڑ سے زائد قبل از ولادت طبی معائنے کیے گئے، جبکہ گزشتہ ایک دہائی میں ادارہ جاتی زچگیوں میں 89 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ماں اور بچے کی صحت کے اشاریوں میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ مرکزی وزیر نے اس موقع پر آشا کارکنان کے کلیدی کردار کو بھی سراہا، جو مفت ادویات، تشخیصی سہولیات اور صحت مراکز تک بروقت رسائی کے لیے نقل و حمل کی فراہمی کو یقینی بناتی ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image003XYRZ.jpg

جناب نڈا نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ بھارت میں زچگی کے دوران اموات کی شرح(ایم ایم آر) میں نمایاں کمی آئی ہے، جو 2014–15 میں فی ایک لاکھ  لائیو پیدائشوں پر 130 تھی اور اب کم ہو کر 88 رہ گئی ہے۔ یہ کمی عالمی اوسط کے مقابلے میں زیادہ تیز رفتاری سے حاصل کی گئی ہے۔ صحت کے احتیاطی پہلو پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آیوشمان آروگیہ مندر بیماریوں کی ابتدائی اسکریننگ اور بروقت تشخیص میں انقلابی کردار ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اب تک 40 کروڑ سے زائد افراد میں ہائی بلڈ پریشر کی اسکریننگ کی جا چکی ہے، جس کے نتیجے میں 6.8 کروڑ کیسز کی تشخیص ہوئی، جبکہ 40 کروڑ افراد میں ذیابیطس کی جانچ کے بعد 4.6 کروڑ مریضوں کی نشاندہی کی گئی۔ اسی طرح 33.8 کروڑ افراد کی منہ کے کینسر کی اسکریننگ سے دو لاکھ سے زائد کیسز سامنے آئے، 8.5 کروڑ سروائیکل کینسر اسکریننگ کے نتیجے میں 90 ہزار مریضوں کی تشخیص ہوئی، جبکہ 15.8 کروڑ بریسٹ کینسر اسکریننگ کے دوران 75,800 کیسز کی نشاندہی ممکن ہوئی۔ ان اقدامات سے بروقت علاج اور بہتر بقا کے امکانات میں اضافہ ہوا ہے۔

ذہنی صحت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مرکزی وزیر نے ٹیلی-مانس کی اہمیت پر روشنی ڈالی، جو 20 زبانوں میں چوبیس گھنٹے ذہنی صحت سے متعلق مشاورت فراہم کرتا ہے اور مختلف سماجی و ثقافتی پس منظر رکھنے والی خواتین کو بغیر کسی جھجھک قابلِ رسائی مدد فراہم کرتا ہے۔

مزید برآں، مرکزی وزیر صحت نے بتایا کہ گزشتہ برس حکومت نے ’سوستھ ناری، سشکت پریوار ابھیان‘ کا آغاز کیا، جس میں ملک بھر سے 11 کروڑ سے زائد خواتین نے بھرپور شرکت کی۔ اس مہم کے تحت غیر متعدی بیماریوں (این سی ڈیز)، تپِ دق، جذام اور دیگر امراض کی بڑے پیمانے پر اسکریننگ کی گئی، جو صحت کے احتیاطی اور فروغی نقطۂ نظر کے لیے حکومت کے فعال عزم کی عکاس ہے۔ ان کے مطابق اس نوعیت کی ہدفی مداخلتیں خواتین میں بیماریوں کی بروقت تشخیص، مناسب علاج اور مجموعی صحت کے بہتر نتائج کے لیے نہایت مؤثر ثابت ہو رہی ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image004I597.jpg

اپنے اختتامی کلمات میں جناب جگت پرکاش نڈا نے اس بات کی توثیق کی کہ معزز وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کی دوراندیش قیادت میں خواتین مرکز حکمرانی قومی پالیسی سازی میں بدستور اولین ترجیح بنی رہے گی۔ انہوں نے تمام شراکت داروں سے اپیل کی کہ وہ پائیدار اصلاحات، مضبوط عمل درآمد اور تیز رفتار پیش رفت کے لیے اپنے عزم کی تجدید کریں، تاکہ خواتین کے لیے بہتر نتائج یقینی بنائے جا سکیں اور ایک زیادہ ہمہ گیر، منصفانہ اور بااختیار بھارت کی تعمیر ممکن ہو۔

یومِ تاسیس کے پروگرام کے دوران متعدد اہم مطبوعات کی رونمائی اور کلیدی اقدامات کا آغاز کیا گیا، جو خواتین میں آگاہی، صلاحیت سازی اور بااختیاری کے حوالے سے قومی کمیشن برائے خواتین کے جامع نقطۂ نظر کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان میں جاگریتی”—قومی کمیشن برائے خواتین (این سی ڈبلیو) کا ماہانہ رسالہ—کا اجرا شامل ہے، جس کا مقصد خواتین سے متعلق قوانین، حقوق، سرکاری اقدامات اور متاثر کن کامیابیوں کی کہانیوں پر آگاہی بڑھانا ہے۔ اس کے علاوہ زچگی فائدہ ایکٹپر ہینڈ بک (انگریزی اور ہندی نسخے) بھی جاری کی گئی، جس کا مقصد زچگی سے متعلق قانونی دفعات کی بہتر تفہیم اور مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے، تاکہ خواتین کے حقوق کے تحفظ اور کام کی جگہ پر مساوات کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image005EK7R.jpg

اس پروگرام کے دوران قبل از ازدواج مواصلات — ڈیجیٹل تربیتی ماڈیولز کا بھی اجرا کیا گیا، جو ایک جدید ڈیجیٹل اقدام ہے۔ اس کا مقصد جوڑوں کے درمیان صحت مند ابلاغ، باہمی احترام، جذباتی فلاح و بہبود اور باخبر فیصلہ سازی کو فروغ دینا ہے، تاکہ مضبوط خاندانی رشتوں اور سماجی ہم آہنگی میں اضافہ ہو سکے۔

اس کے علاوہ خواتین سائنس دانوں پر این سی ڈبلیو کیلنڈربھی جاری کیا گیا، جس کا مقصد خواتین سائنس دانوں کی کامیابیوں اور خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنا اور نوجوان لڑکیوں کو سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (اسٹیم) کے شعبوں میں کریئر اپنانے کی ترغیب دینا ہے۔ اس موقع پر آنگن سے انترکشکے عنوان کے تحت آٹھ خواتین خلائی سائنس دانوں کو اعزاز سے نوازا گیا، جس کے ذریعے بھارت کے لیے ان کی نمایاں خدمات کو سراہا گیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0064UKW.jpg

اس پروگرام کے دوران شکتی اسکالرز یوتھ ریسرچ فیلوشپکے تحت وظائف بھی عطا کیے گئے، جن کا مقصد نوجوان خواتین محققین اور اسکالرز کی حوصلہ افزائی کرنا ہے تاکہ وہ اختراعی تحقیق کریں اور قوم کی تعمیر میں بامعنی کردار ادا کر سکیں۔

اس موقع پر محترمہ ان پورنا دیوی، معزز وزیر برائے خواتین و اطفال کی ترقی، محترمہ ساوتری ٹھاکر، مملکت وزیر برائے خواتین و اطفال کی ترقی، جناب سدھیپ جین، رکن سکریٹری، قومی کمیشن برائے خواتین (این سی ڈبلیو)، اور محترمہ وجیا راہتکر، چیئرپرسن، قومی کمیشن برائے خواتین کے علاوہ وزارت کے سینئر افسران، سول سوسائٹی کے نمائندگان اور ماہرینِ تعلیم بھی موجود تھے۔

 

************

ش ح ۔   ف ا  ۔  م  ص

(U :     )


(रिलीज़ आईडी: 2221059) आगंतुक पटल : 8
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी