ایٹمی توانائی کا محکمہ
azadi ka amrit mahotsav

پارلیمانی سوال: نایاب ارضی معدنیات

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 29 JAN 2026 6:00PM by PIB Delhi

بھارت نایاب ارضی معدنیات تک رسائی کے لیے چین پر انحصار نہیں کرتا، جو بھارت میں نایاب ارضی عناصر (آر ای) کی اصل کان یعنی ساحلی ریت کے معدنیات (بیچ سینڈ منرلز ـ  بی ایس ایم) میں پائے جاتے ہیں۔ بی ایس ایم کی کان میں مقررہ مادہ مونازائٹ پایا جاتا ہے، جو نایاب ارضی عناصر پر مشتمل ایک فاسفیٹ معدنیات ہے اور جس میں یورینیم اور تھوریم شامل ہوتے ہیں۔

آئی آر ای ایل (انڈیا) لمیٹڈ (آئی آر ای ایل) ، جو محکمۂ جوہری توانائی کے تحت ایک عوامی شعبے کا ادارہ ہے، بھارت میں نایاب ارضی عناصر پیدا کرنے والے معدنیات مونازائٹ سے اعلیٰ خالص نایاب ارضی آکسائیڈز تیار کرتا ہے۔ آئی آر ای ایل تین مقامات پر کام کر رہا ہے جہاں معدنی ریت کی مربوط کان کنی اور پروسیسنگ کی سہولیات موجود ہیں، جبکہ نایاب ارضی عناصر کے اخراج اور تطہیر کے لیے الگ الگ سہولیات بھی قائم ہیں۔ ملک میں نایاب ارضی عناصر کی ویلیو چین کو فروغ دینے کے لیے درج ذیل اقدامات شروع کیے گئے ہیں:

اسٹریٹجک شعبے کے لیے وشاکھاپٹنم (ویزاگ) میں نایاب ارضی مستقل مقناطیس تیار کرنے کا ایک پلانٹ قائم کر کے فعال کر دیا گیا ہے، جہاں سامیریم کوبالٹ مقناطیس تیار کیے جا رہے ہیں۔

ملک میں نایاب ارضی عناصر کی ویلیو چین کو فروغ دینے کے تحت آئی آر ای ایل نے بھوپال میں واقع ریئر ارتھ اینڈ ٹائٹینیم تھیم پارک میں لینتھینم، سیریم اور نیوڈیمیم دھاتوں کی پیداوار کے لیے چھوٹے پلانٹس قائم کیے ہیں۔

آئی آر ای ایل نے بھوپال کے ریئر ارتھ ٹائٹینیم تھیم پارک میں ایک نایاب ارضی عناصر کی ری سائیکلنگ پلانٹ بھی قائم کیا ہے، جس کا مقصد اپنی عمر پوری کر چکے مقناطیسوں سے مقناطیسی نایاب ارضی عناصر کی بازیافت کرنا ہے۔

مرکزی کابینہ نے 26 نومبر 2025 کو سِنٹرڈ نایاب ارضی مستقل مقناطیس (آر ای پی ایم) کی تیاری کو فروغ دینے کے لیے ایک اسکیم کی منظوری دی ہے، جس کے تحت 7,280 کروڑ روپے کی مالی لاگت کے ساتھ ملک میں سالانہ 6,000 میٹرک ٹن (ایم ٹی پی اے) مربوط آر ای پی ایم مینوفیکچرنگ صلاحیت قائم کی جائے گی۔ اس اسکیم کے تحت عالمی مسابقتی بولی کے ذریعے پانچ مستفیدین کا تصور کیا گیا ہے۔ ایک شفاف کم از کم لاگت نظام (ایل سی ایس) اختیار کیا جائے گا، جس میں دو لفافوں پر مشتمل طریقۂ کار یعنی تکنیکی بولی اور مالی بولی شامل ہوگی۔ اسکیم کی مدت کے لیے فروخت سے منسلک ترغیب کی مد میں 6,450 کروڑ روپے اور سرمایہ جاتی سبسڈی کی مد میں 750 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس اسکیم کا مقصد ملک میں آر ای پی ایم کی گھریلو تیاری کو فروغ دینا ہے، جس کے ذریعے برقی نقل و حرکت، قابلِ تجدید توانائی، الیکٹرانکس اور دفاع جیسے اہم شعبوں میں درآمدات پر انحصار کم کیا جا سکے گا، نیز روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور ملک کی ویلیو چینز مضبوط ہوں گی۔

یہ معلومات آج راجیہ سبھا میں وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج) برائے سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم، اور وزیرِ مملکت برائے وزیراعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات و پنشن، جوہری توانائی اور خلائی امور، ڈاکٹر جیتندر سنگھ نے ایک سوال کے تحریری جواب میں دی ہیں۔

***

ش ح ۔ ش ت۔ م الف

U. No.1300


(ریلیز آئی ڈی: 2220829) وزیٹر کاؤنٹر : 22
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी