جدید اور قابل تجدید توانائی کی وزارت
مرکزی وزیر مملکت شری پد یسو نائک نے پی ایم-کوسوم ، پی ایم-جنمان اور ڈی اے-جے جی یو اے کے مستفیدین کے ساتھ بات چیت کی
حکومت غیر محفوظ علاقوں میں جامع ترقی اور آخری میل کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے: شری پد یسو نائک
مستفیدین نے بجلی اور صاف توانائی تک رسائی کےتبدیلی بخش اثرات کے تجربات شیئر کیے
प्रविष्टि तिथि:
24 JAN 2026 7:30PM by PIB Delhi
ستّھترواں(77 ) ویں یومِ جمہوریہ کے موقع پر، بجلی اور نئی و قابل تجدید توانائی کے وزیر مملکت جناب شری پد یسو نائک نے حکومت ہند کی فلیگ شپ اسکیموں — پی ایم-جنمان، ڈی اے-جے جی یو اے اور پی ایم-کوسم— کے مستفیدین سے بات چیت کی، جنہیں اس سال یومِ جمہوریہ کی تقریب میں خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا۔
یہ بات چیت وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کی دوراندیش قیادت میں جامع ترقی اور آخری میل تک فراہمی کے لیے حکومت کے پائیدار عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
بات چیت کے دوران، قبائلی اور دیہی پس منظر سے تعلق رکھنے والے مستفیدین نے براہِ راست تجربات شیئر کیے کہ کس طرح بجلی اور صاف ستھری توانائی تک رسائی نے ان کی روزمرہ زندگی کو تبدیل کیا ہے، تعلیمی نتائج، صحت کی دیکھ بھال تک رسائی، معاش، تحفظ اور مجموعی وقار کو بہتر بنایا ہے۔
وزیر موصوف نے خاص طور پر کمزور قبائلی گروپوں (پی وی ٹی جی) سے تعلق رکھنے والے گھرانوں کو بجلی فراہم کرنے کے لیے نومبر 2023 میں جنجاتیہ گورو دیوس پر شروع کیے گئے پردھان منتری جنجاتیہ آدیواسی نیائے مہا ابھیان (پی ایم-جنمان) کے تحت حاصل کی گئی اہم پیش رفت پر روشنی ڈالی۔ تقریباً 1.43 لاکھ شناخت شدہ گھروں میں سے تقریباً 1.36 لاکھ گھروں میں بجلی کاری مکمل ہو چکی ہے، جس میں بجلی کی وزارت، ریاستی حکومتوں اور ڈسکوم کی مربوط کوششوں کے ذریعے تقریباً 95 فیصد پیش رفت حاصل ہوئی ہے۔
وزیر موصوف نے درج فہرست قبائل کی بستیوں کو ترقیاتی فوائد فراہم کرنے کے لیے اکتوبر 2024 میں شروع کیے گئے دھرتی آبا جنجاتیہ گرام اتکرش ابھیان (ڈی اے-جے جی یو اے) کے تحت پیش رفت کا بھی خاکہ پیش کیا۔ اس اسکیم کے تحت 2.83 لاکھ سے زیادہ گھروں اور 4,200 سے زائد عوامی مقامات کی بجلی کاری کے لیے 4,203 کروڑ روپے کی مرکزی گرانٹ منظور کی گئی ہے، جس میں تقریباً 56,000 گھروں کو پہلے ہی بجلی فراہم کی جا چکی ہے۔ دور دراز اور پہلے سے غیر منسلک بستیوں کی بجلی کاری کو یقینی بنانے کے لیے لاگت کے اصولوں میں خصوصی نرمی فراہم کی گئی ہے۔
وزیر موصوف نے زراعت کی شمسی کاری کے لیے دنیا کے سب سے بڑے پروگرام پی ایم-کوسوم اسکیم کے تبدیلی لانے والے اثرات پر بھی زور دیا۔ اب تک 10.4 گیگا واٹ شمسی صلاحیت نصب کی جا چکی ہے، 21.7 لاکھ سے زیادہ شمسی پمپ لگائے گئے ہیں، جس سے 21 لاکھ سے زائد کسانوں کو فائدہ پہنچا ہے، اور اس کے نتیجے میں ڈیزل کی کھپت اور کاربن کے اخراج میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے۔
وزیر موصوف نے پی ایم سوریا گھر: مفٹ بجلی یوجنا کا بھی مختصر ذکر کیا، جس میں گھروں کو سستی چھتوں پر شمسی توانائی تک رسائی، بجلی کے بلوں میں کمی، اور توانائی پر خود کفالت کی جانب پیش رفت کو اجاگر کیا گیا۔
ملک بھر کی 15 ریاستوں سے مذکورہ اسکیموں کے کل 249 مستفیدین کو یومِ جمہوریہ کی تقریبات میں شرکت کے لیے مدعو کیا گیا ہے۔ دہلی میں تین روزہ پروگرام کا آغاز عزت مآب وزیر کے ساتھ بات چیت سے ہوا۔
بات چیت کا اختتام وزیر موصوف کے اس اعادہ کے ساتھ ہوا کہ مستفیدین کی رائے عمل درآمد کو بہتر بنانے اور یہ یقینی بنانے کے لیے مرکزی حیثیت رکھتی ہے کہ ترقی کے ثمرات ہر شہری، خاص طور پر ملک کے انتہائی دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں رہنے والوں تک پہنچیں۔
***
(ش ح۔اس ک )
UR-1045
(रिलीज़ आईडी: 2218332)
आगंतुक पटल : 9