سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
آج ہندوستان کے نوجوان پہلے سے کہیں زیادہ روشن خیال ہیں ؛ ہمیں ان کی بات سننا سیکھنا چاہیے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
مواقع کی جمہوری کاری نے ہندوستانی نوجوانوں میں امنگوں میں اضافہ کیا ہے: نیشنل اسکل سمٹ 2026 میں ڈاکٹر جتیندر سنگھ
مودی حکومت کے سیاسی عزم اور معاونتی اقدامات نے ہندوستان کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا راستہ ہموار کر دیا ہے: ڈاکٹر جیتندر سنگھ
خواتین اور ٹائر-2 ، ٹائر-3 شہروں کے عروج سے ہندوستان کی ترقی کی کہانی نئے سرے سے تشکیل پا رہی ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
23 JAN 2026 4:32PM by PIB Delhi
نئی دہلی، 23 جنوری: سائنس اور ٹیکنالوجی، ارضیاتی علوم کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، جوہری توانائی اور خلا کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ہندوستان مواقع کی تاریخی جمہوری کاری کا مشاہدہ کر رہا ہے، جس میں ایک ایسا ماحولیاتی نظام وجود میں آ رہا ہے جہاں آج کے نوجوان اپنی حقیقی صلاحیت دریافت کرنے، اپنے راستے خود منتخب کرنے، اور مہارتوں کو پائیدار روزگار میں تبدیل کرنے کی آزادی رکھتے ہیں۔
OVE9.JPG)
مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ جمعہ کو نئی دہلی کے پی ایچ ڈی ہاؤس میں پی ایچ ڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (پی ایچ ڈی سی سی آئی) کے زیر اہتمام "نیشنل اسکل سمٹ 2026" سے خطاب کر رہے ہیں۔
پی ایچ ڈی سی سی آئی کے نیشنل اسکل سمٹ 2026 سے خطاب کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ آج کے ہندوستانی نوجوان پہلے سے کہیں زیادہ روشن خیال ہیں اور ہمیں ان کی بات سننا سیکھنی چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ سرپرست اور ادارے طویل المدتی یکسوئی کے ساتھ فعال سامعین اور سہولت کار بننے کے لیے تیار ہوں۔
CQE1.JPG)
وزیر موصوف نے کہا کہ پہلی بار، ہندوستان نے ایک جامع ماحولیاتی نظام قائم کیا ہے جو نوجوانوں کو نہ صرف خواب دیکھنے بلکہ انہیں حقیقت کا روپ دینے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ "آج کے نوجوان یہ انتخاب کرنے کے قابل ہیں کہ وہ کیا کرنا چاہتے ہیں، اپنی اندرونی صلاحیتوں کو پہچاننے اور دریافت کرنے کا موقع حاصل کریں کہ وہ کس مقصد کے لیے پیدا ہوئے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں رہنمائی اہمیت اختیار کر جاتی ہے، نہ کہ مسلط کرنے کے لیے بلکہ رہنمائی فراہم کرنے کے لیے۔"
V2Y0.JPG)
ڈگری پر مبنی سوچ سے مہارت پر مبنی ترقی کی جانب تبدیلی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ تعلیمی قابلیت کو استعداد کے ساتھ الجھایا نہیں جانا چاہیے۔ انہوں نے سی ایس آئی آر کے "اروما مشن" کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ہزاروں نوجوان، جن میں سے کئی کے پاس رسمی ڈگری نہیں، لیوینڈر اور دیگر خوشبودار فصلیں کاشت کر کے خاطر خواہ آمدنی حاصل کر رہے ہیں۔ "ایک زمانے میں ہم صرف آئی ٹی کے جنون میں مبتلا تھے، آج ہم تسلیم کرتے ہیں کہ زراعت، روایتی مہارتیں اور مقامی طاقت کہیں زیادہ اثر ڈال سکتی ہیں۔"
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے زور دیا کہ پچھلے گیارہ سالوں میں مواقع کو جمہوری بنانے کی وجہ سے نوجوانوں میں بے مثال امنگ پیدا ہوئی ہے۔ انہوں نے این ای پی 2020 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ پالیسی طلباء کو سخت مضامین کے انتخاب سے آزاد کرتی ہے اور ایک طویل عرصے سے جاری ناانصافی کو درست کرتی ہے، جہاں کیریئر کے انتخاب پر مسلطی تھی۔ "طلباء اب اپنے مضامین کے قیدی نہیں ہیں۔"
وزیر موصوف نے بتایا کہ یہ تبدیلی سول سروسز سے اسٹارٹ اپس تک ہر شعبے میں نظر آ رہی ہے۔ "آج کے سول سروس کے اعلیٰ افسران درجے-2 اور درجے-3 کے شہروں، دیہی علاقوں اور چھوٹے قصبوں سے آ رہے ہیں، جو کبھی میرٹ لسٹ سے غائب تھے۔ اسی طرح ہندوستان کے 50 فیصد سے زیادہ اسٹارٹ اپس میٹروپولیٹن شہروں سے باہر سے ابھرتے(نمودار ہو رہے ) ہیں۔" انہوں نے اس مفروضے کو توڑتے ہوئے کہا کہ اختراع صرف بنگلورو، دہلی یا حیدرآباد تک محدود نہیں۔
خواتین کی قیادت پر زور دیتے ہوئے وزیر نے کہا کہ خواتین اسٹارٹ اپ سے لے کر خلائی مشنوں تک ہندوستان کی کامیابی کی کہانیوں میں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں۔ انہوں نے چندریان-3 اور آدتیہ مشن کی مثال دی، جن کی قیادت خواتین سائنسدانوں نے کی، اور نوٹ کیا کہ مدرا اسکیم کے تحت 60 فیصد سے زیادہ مستفید خواتین ہیں۔ "نوجوانوں کے لیے بنائی گئی اسکیمیں آج خواتین بھی بڑے جوش و خروش کے ساتھ اپنا رہی ہیں۔"
وزیر موصوف نے ہندوستان کی اختراع اور پیٹنٹ انڈیکس میں بہتری کو اجاگر کرتے ہوئے کہا: "ہندوستان اب پیٹنٹ میں سرفہرست ممالک میں شامل ہے، جس میں نصف سے زیادہ درخواستیں وہ ہندوستانی باشندے دائر کر رہے ہیں جو یہاں پیدا، تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ ہیں۔" انہوں نے مزید کہا کہ بائیوٹیکنالوجی آئی ٹی کے بعد اگلا بڑا صنعتی انقلاب بننے کے لیے تیار ہے۔
اساتذہ اور پالیسی سازوں کو مخاطب کرتے ہوئے وزیر نے کہا: "ہمارے نوجوان اکثر ہم سے زیادہ روشن خیال ہوتے ہیں۔ وہ ایک مختلف دور میں پیدا ہوئے ہیں، اور اگر ہم ہمیشہ بہتر جانتے ہیں تو ہمیں رکنا چاہیے۔ سب سے پہلے ہمیں یہ سیکھنا چاہیے کہ سننا کیسے ہے۔" انہوں نے پرانے تدریسی انداز کے خلاف خبردار کیا اور اداروں پر زور دیا کہ وہ کھلے، تعاملی اور جوابدہ تعلیمی ماحول پیدا کریں۔
اپنے خطاب کا اختتام کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ہندوستان میں پہلے سے ہی بے پناہ صلاحیت موجود ہے؛ اب صرف ترجیح اور سیاسی حمایت کو فعال کرنے کی ضرورت تھی۔ "اب یہ خلا ختم ہو چکا ہے۔ ماحولیاتی نظام این ای پی 2020 سے لے کر ہنر مندی کے مشن، تحقیقی فنڈنگ اور نجی شعبے کی شراکت تک موجود ہے۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم کھلے دل، شائستہ اور ان لوگوں سے سیکھنے کے لیے تیار رہیں جنہیں ہم سکھانے کے لیے نکلے ہیں۔"
***
(ش ح۔اس ک )
UR-990
(ریلیز آئی ڈی: 2217823)
وزیٹر کاؤنٹر : 36