بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی راستوں کی وزارت
آئی ڈبلیو ڈی سی 3.0 بھارت کی اندرونی آبی گذرگاہوں کی ترقی کے اگلے مرحلے کی راہ ہموار کرے گا
برہما پتر سبز نقل و حمل کی جانب تبدیلی کا محرک، آئی ڈبلیو ڈی سی 3.0 آسام کے لیے اگلے مرحلے کیلئے پر امید
प्रविष्टि तिथि:
20 JAN 2026 6:13PM by PIB Delhi
اندرونی آبی گذرگاہوں کی ترقیاتی کونسل (آئی ڈبلیو ڈی سی) کا تیسرا اجلاس 23 جنوری 2026 کو کیرالہ کے شہر کوچی میں منعقد ہوگا۔ اس اجلاس کا مقصد اندرونی آبی نقل و حمل (آئی ڈبلیو ٹی) کے شعبے میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو اجاگر کرنا اور اس کے مستقبل کے وژن کا خاکہ پیش کرنا ہے۔
یہ دن بھر جاری رہنے والا اجلاس بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گذرگاہوں کے مرکزی وزیر جناب سربانند سونووال کی صدارت میں منعقد ہوگا، جس میں ندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گذرگاہوں کے مرکزی وزیر مملکت جناب شانتنو ٹھاکر کے علاوہ مختلف ریاستی حکومتوں کے وزرا شرکت کریں گے۔
اجلاس کے دوران ندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گذرگاہوں کے مرکزی وزیر مختلف ریاستوں میں اندرونی آبی نقل و حمل کو مزید فروغ دینے کے لیے نئی پہلوں کا آغاز کریں گے۔ اس موقع پر کئی ریاستی تعاوناتی معاہدوں پر دستخط کیے جانے کا بھی امکان ہے، جس سے آئی ڈبلیو ٹی منصوبوں کے لیے مرکز اور ریاستوں کے درمیان اشتراک مزید مضبوط ہوگا۔
آئی ڈبلیو ڈی سی 3.0 کے ایجنڈے میں مضبوط شہری آبی نقل و حمل کے نظام کی تشکیل، مال برداری کی کارکردگی میں اضافہ، مسافر نقل و حمل کے لیے ماحول دوست کشتیوں کے فروغ، دریائی کروز سیاحت کی ترقی اور ڈیجیٹل و پائیدار طریقۂ کار کے نفاذ سے متعلق سیشن شامل ہیں۔ اجلاس میں اندرونی آبی گذرگاہوں کے ضابطہ جاتی فریم ورک کا جائزہ بھی لیا جائے گا اور جاری و مجوزہ آئی ڈبلیو ٹی منصوبوں سے متعلق ریاستوں کے خدشات پر غور کیا جائے گا۔
بھارت کے پاس اندرونی آبی گذرگاہوں کا ایک وسیع نیٹ ورک موجود ہے، جہاں سالانہ 145 ملین ٹن سے زائد مال کی نقل و حمل کی جاتی ہے، جو ایندھن کی بچت اور ماحول دوست ذریعۂ نقل و حمل فراہم کرتا ہے۔ اندرونی آبی گذرگاہیں پہلے سے بوجھل ریلوے اور سڑک نیٹ ورک کی تکمیل کرتی ہیں اور رول آن۔رول آف (رو-رو) گاڑیوں کی نقل و حمل اور دریائی کروز سیاحت جیسے اقدامات کو فروغ دیتی ہیں۔ ملک میں 23 ریاستوں اور چار مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں پھیلی 111 قومی آبی گذرگاہوں میں سے اس وقت 32 آبی گذرگاہیں مال اور مسافر نقل و حمل کے لیے فعال ہیں۔ وزارتِ بندرگاہیں، جہاز رانی اور آبی گذرگاہوں کے تحت قائم ان لینڈ واٹر ویز اتھارٹی آف انڈیا (آئی ڈبلیو اے آئی) ان آبی گذرگاہوں کی ترقی، دیکھ بھال اور ضابطہ کاری کی بنیادی ذمہ دار ہے۔
قومی آبی گذرگاہوں پر مال برداری 2013-14 میں 18 ملین ٹن سے بڑھ کر 2024-25 میں 145.84 ملین ٹن تک پہنچ چکی ہے، جبکہ مسافر آمدورفت 2024-25 میں بڑھ کر 7.64 کروڑ ہو گئی ہے۔ اس رفتار کو ‘جلوہاک’ کارگو فروغ اسکیم جیسے انقلابی اقدامات سے مزید تقویت ملی ہے، جس کے تحت مال برداروں کو سڑک اور ریل کے بجائے آبی گذرگاہوں کے استعمال کی ترغیب دی جاتی ہے، نیز ‘جل سمردھی’ اسکیم کے ذریعے ٹرمینل کی ترقی اور آپریشنز میں نجی شعبے کی بھرپور شراکت کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
آئی ڈبلیو اے آئی کے چیئرمین جناب سنیل پالیوال نے کہا:“معزز وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی بصیرت افروز قیادت میں آئی ڈبلیو ڈی سی ایک حقیقی اشتراکی قومی پلیٹ فارم کے طور پر ابھرا ہے، جو پالیسی سازوں، ریاستی حکومتوں اور متعلقہ محکموں کو یکجا کر کے اندرونی آبی گذرگاہوں کے مستقبل کی سمت متعین کر رہا ہے۔ معزز مرکزی وزیر جناب سربانند سونووال نے آئی ڈبلیو ڈی سی کو مرکز اور ریاستوں کی ترجیحات میں ہم آہنگی پیدا کرنے، پالیسی عزم کو عملی نتائج میں ڈھالنے اور ایک زیادہ سرسبز اور مؤثر نقل و حمل کے نظام کو آگے بڑھانے کا مؤثر ذریعہ بنایا ہے۔ بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو پائیداری اور عوامی شراکت کے ساتھ جوڑ کر کونسل بھارت کے دریائی ورثے کو ازسرِنو زندہ کر رہی ہے اور اندرونی آبی گذرگاہوں کو مال اور مسافر نقل و حمل کے ترجیحی ذریعہ کے طور پر دوبارہ متعارف کرا رہی ہے۔ کوچی میں ہم آئی ڈبلیو ڈی سی 1.0 (2024) اور آئی ڈبلیو ڈی سی 2.0 (2025) کے بعد حاصل ہونے والی پیش رفت کو مستحکم کرنے، منصوبوں پر عمل درآمد میں تیزی لانے اور ریاستوں کے ساتھ قریبی شراکت میں سبز اور ٹیکنالوجی پر مبنی اندرونی آبی گذرگاہوں کو وسعت دینے کا عزم رکھتے ہیں۔”
آئی ڈبلیو ڈی سی 3.0 میں آسام
آسام میں اندرونی آبی گذرگاہوں پر ٹریفک میں مسلسل اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران اندرونی آبی گذرگاہوں کی ترقیاتی کونسل (آئی ڈبلیو ڈی سی) نے پالیسی فیصلوں کو مؤثر طور پر عملی نتائج میں تبدیل کیا ہے۔ مکمل طور پر فعال قومی آبی گذرگاہ نمبر 2 (این ڈبلیو–2)، یعنی دریائے برہما پتر—جس میں پاندو اور جوگی گھوپا میں ملٹی موڈل ٹرمینلز، دھوبری اور بوگی بیل میں مستقل ٹرمینلز، متعدد فلوٹنگ ٹرمینلز اور بنگلہ دیشی سرحد سے سادیہ تک مقررہ گہرائی کی مسلسل دیکھ بھال شامل ہے—شمال مشرقی خطے میں پائیدار نقل و حمل کی نئی تعریف قائم کر رہی ہے۔ این ڈبلیو–2 آسام کی اندرونی آبی گذرگاہوں کے ذریعے ہونے والی مجموعی مال برداری کا 98 فیصد سے زائد حصہ سنبھالتی ہے، جس میں گاڑیاں، اوور ڈائمنشنل کارگو اور تعمیراتی مواد شامل ہیں۔
آئی ڈبلیو ڈی سی کی قیادت میں ہونے والی ہم آہنگی کو آگے بڑھاتے ہوئے حکومت نے 2025 سے 2030 کے دوران شمال مشرقی خطے میں اندرونی آبی گذرگاہوں کی ترقی کے لیے 5,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ اس میں سے تقریباً 1,152 کروڑ روپے کے منصوبے پہلے ہی عمل درآمد کے مرحلے میں ہیں، جبکہ بقیہ منصوبوں کے لیے تفصیلی پروجیکٹ رپورٹس تیار کی جا رہی ہیں۔ آئندہ آئی ڈبلیو ڈی سی 3.0 اجلاس میں ڈبروگڑھ میں علاقائی مرکزِ امتیاز (آر سی او ای) کو عملی شکل دینے، پاندو میں جہازوں کی مرمت کی سہولت کو مکمل کرنے اور ماحول دوست کشتیوں کے آپریشنز کو وسعت دینے پر توجہ مرکوز کی جائے گی، جس سے آئی ڈبلیو ڈی سی کے قومی سطح پر مربوط اور پائیدار اندرونی آبی گذرگاہوں کی ترقی کے پلیٹ فارم کے طور پر کردار کو مزید تقویت ملے گی۔
اجلاس کے دوران بوگی بیل ریور پورٹ تک رسائی سڑک اور اوزان بازار گھاٹ پر سیاحتی جیٹی کے قیام کے منصوبوں کا اعلان متوقع ہے، جبکہ پورے خطے کی آبی گذرگاہوں میں 85 جیٹیوں کی تعمیر کے منصوبے بھی پیش کیے جانے کا امکان ہے۔
کوچی میں منعقد ہونے والا آئندہ آئی ڈبلیو ڈی سی 3.0 اجلاس اندرونی آبی نقل و حمل کے شعبے کی صلاحیتوں اور فوائد کا جامع جائزہ لینے کے لیے ایک مؤثر فورم ثابت ہونے کی توقع ہے، جہاں اس شعبے کی آئندہ ترقی اور توسیع کے لیے ایک واضح اور قابلِ عمل روڈ میپ بھی طے کیا جائے گا۔
************
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U : 827 )
(रिलीज़ आईडी: 2216590)
आगंतुक पटल : 4