الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
انڈیا اے آئی مشن، وزارتِ الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی ( ایم ای آئی ٹی وائی) اور حکومتِ مدھیہ پردیش کے ذریعہ بھوپال میں منعقدہ مدھیہ پردیش علاقائی اے آئی امپیکٹ کانفرنس 2026اختتام پذیر
مدھیہ پردیش نے مصنوعی ذہانت سے تقویت یافتہ حکمرانی اور عوامی خدمات کی فراہمی کو اجاگر کیا
प्रविष्टि तिथि:
15 JAN 2026 8:38PM by PIB Delhi
انڈیا اے آئی مشن، وزارتِ الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی (ایم ای آئی ٹی وائی) اور حکومتِ مدھیہ پردیش کے زیرِ اہتمام مدھیہ پردیش علاقائی اے آئی امپیکٹ کانفرنس 2026 آج بھوپال میں اختتام پذیر ہوئی۔ اس تقریب میں حکمرانی اور عوامی خدمات کی فراہمی کے شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے جدید استعمال اور بہترین عملی تجربات کو پیش کیا گیا، جس کے ذریعے ریاستی سطح کے اقدامات کو انڈیا اے آئی مشن کے قومی اہداف کے ساتھ کامیابی سے ہم آہنگ کیا گیا۔
یہ کانفرنس ملک بھر میں منعقد کی جانے والی آٹھ علاقائی اے آئی امپیکٹ کانفرنسوں کا حصہ ہے، جو 16 تا 20 فروری 2026 کو نئی دہلی میں منعقد ہونے والی انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کے پہلے منعقد کی جا رہی ہیں۔

حکومتِ مدھیہ پردیش اور انڈیا اے آئی مشن نے ریاست بھر میں اعلیٰ معیار کی مصنوعی ذہانت کی تعلیم اور ہنری مندی کے فروغ تک رسائی کو وسعت دینے کے لیے ایک مفاہمت نامے (ایم او یو) پر بھی دستخط کیے۔ اس اشتراک کے تحت، انڈیا اے آئی مشن حکومتِ مدھیہ پردیش کے محکمہ برائے تکنیکی تعلیم، ہنری مندی کے فروغ اور روزگار کے اشتراک سے مدھیہ پردیش میں 30 ڈیٹا اور اے آئی لیبس کے قیام میں مدد فراہم کرے گا، جو دوسرے درجے اور تیسرے درجے کے شہروں میں اس نوعیت کی 570 لیبس قائم کرنے کے قومی اقدام کا حصہ ہیں۔
اس تقریب کے دوران متعدد اہم اعلانات اور لانچز بھی کیے گئے، جن میں شہریوں پر مرکوز چار ڈیجیٹل پورٹلز کا آغاز اور ینگووویٹر، سی ای ای ڈبلیو، گوگل، نیسکام، اے آئی ایس ای سی ٹی اور بھاشنی کے ساتھ مفاہمت ناموں کا اعلان شامل ہے۔ مدھیہ پردیش خلائی ٹیکنالوجی پالیسی 2026 کا اجرا، جس کا افتتاح وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کیا، کانفرنس کی ایک اور نمایاں جھلک رہی۔ یہ پالیسی سیٹلائٹ مینوفیکچرنگ، جغرافیائی مکانی تجزیے اور زراعت، قدرتی آفات کے بندوبست اور شہری منصوبہ بندی میں ڈاؤن اسٹریم ایپلی کیشنزکو فروغ دیتی ہے۔ یہ اقدام خلائی ٹیکنالوجیز کو مربوط کر کے اے آئی پر مبنی حکمرانی کو تقویت دیتا ہے، جس سے عوامی خدمات کی فراہمی اور معاشی ترقی میں بہتری آتی ہے اور مدھیہ پردیش کو خلائی معیار کی مینوفیکچرنگ اور اختراع کے مرکز کے طور پر مزید مستحکم کرتا ہے۔
اپنے خصوصی خطاب میں مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا کہ “حکومتِ مدھیہ پردیش کا ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت انتظامیہ، عوام اور صنعتوں کے لیے یکساں طور پر فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ اسی لیے ریاست اے آئی ایکو سسٹم کو پالیسی معاونت فراہم کرے گی تاکہ کانکنی، صحت اور ریاست کے دیگر تمام اہم شعبوں میں زیادہ سے زیادہ بہتر کارکردگی حاصل کی جا سکے۔ ہم پہلے ہی ان شعبوں میں ترقی کر رہے ہیں اور اس کے ذریعے مزید آگے بڑھیں گے۔ ہم بھارت کی اے آئی پر مبنی ترقی کے لیے پُرعزم ہیں۔”
افتتاحی کلمات پیش کرتے ہوئے وزارتِ الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی (ایم ای آئی ٹی وائی) کے ایڈیشنل سکریٹری اور انڈیا اے آئی مشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسرجناب ابھیشیک سنگھ نے کہا کہ “ٹیکنالوجی کے میدان میں بھارت نے خود کو ایک اہم عالمی شراکت دار کے طور پر قائم کیا ہے۔ ہمارے انجینئرز، ہمارا نوجوان طبقہ اور ہماری ٹیکنالوجی کمپنیاں دنیا کے بہترین آئی ٹی حل تیار کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔ آدھار، یو پی آئی اور انڈیا اسٹیک کے ذریعے ہم نے دنیا کو دکھایا ہے کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے حکمرانی کو کس طرح بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ انہی بنیادوں پر انڈیا اے آئی مشن عالمی اے آئی ایکو سسٹم کی تشکیل میں بھارت کی قیادت کو آگے بڑھانے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے کہ اے آئی کے انقلابی اثرات سب تک پہنچیں۔”
اپنے خطاب میں حکومتِ مدھیہ پردیش کے چیف سکریٹری جناب انوراگ جین نے اس بات پر زور دیا کہ“آنے والے مہینے میں منعقد ہونے والی انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ کے پیشِ نظر مدھیہ پردیش کی اے آئی ترجیحات حکومتِ ہند کی ترجیحات کے ساتھ پوری طرح ہم آہنگ ہیں۔ آج یہاں اسٹارٹ اپ پچز اور نمائشیں بھی جاری ہیں، جو آپ کو اس بات کا اندازہ دیں گی کہ اے آئی کے حوالے سے مدھیہ پردیش کس سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ اے آئی صرف حکمرانی کا معاملہ نہیں بلکہ ہماری خوشحالی کے لیے بھی نہایت اہم ہے۔”
اس موقع پر ایم پی اختراعی و ٹیکنالوجی مسابقے اور اجین مہاکمبھ ہیکاتھون کے فاتحین کے اعلانات بھی کیے گئے، جو اختراع، اسٹارٹ اپس اور صلاحیتوں کی ترقی پر ریاست کی توجہ کو اجاگر کرتے ہیں۔ اس کے بعد “لوگوں، کرۂ ارض اور ترقی کے لیے اے آئی: امپیکٹ کی جانب مدھیہ پردیش کا روڈ میپ” کے موضوع پر ایک پریزنٹیشن پیش کی گئی، جس میں قومی ترجیحات کے مطابق اے آئی پر مبنی حکمرانی کے لیے ریاست کے نقطۂ نظر کو اجاگر کیا گیا۔
کانفرنس کے دوران انڈیا اے آئی مشن اور اس کے بنیادی ستونوں پر تفصیلی پریزنٹیشنز بھی پیش کی گئیں، جو وزارتِ الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی (ایم ای آئی ٹی وائی) کی جوائنٹ ڈائریکٹر محترمہ شکھا دہیا اور انڈیا اے آئی مشن کے جنرل منیجر (فیوچر اسکلز) جناب کارتک سوری نے پیش کیں۔ اس سیشن میں انڈیا اے آئی مشن کے اسٹریٹجک مقاصد اور نفاذ سے متعلق ڈھانچے کا جامع جائزہ پیش کیا گیا، جس میں اس کے اہم ستونوں پر روشنی ڈالی گئی، جن کا مرکز کمپیوٹ صلاحیت، ڈیٹا پلیٹ فارمز، ایپلی کیشن ڈیولپمنٹ، اسکلنگ اور صلاحیت سازی، اسٹارٹ اپ اور اختراع کی معاونت، اور ذمہ دارانہ اے آئی ہے۔
کانفرنس کے دوران منعقد ہونے والے اجلاسوں کا موضوع “سب کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی حکمرانی”، “معاشی ترقی اور سماجی بھلائی کے لیے اے آئی”، اور “استحکام، اختراع اور کارکردگی” تھا۔ حکومتِ ہند اور ریاستی حکومتوں کے سینئر حکام کے ساتھ ساتھ صنعت اور تعلیمی اداروں کے نمائندوں نے عوامی خدمات کی فراہمی، زراعت، تعلیم، ہنری مندی کے فروغ اور ڈیجیٹل حکمرانی میں اے آئی کے بہترین عملی تجربات اور قابلِ توسیع ایپلی کیشنز کا اشتراک کیا۔
مدھیہ پردیش علاقائی اے آئی امپیکٹ کانفرنس سے سامنے آنے والے خیالات اور نکات آئندہ انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 میں قومی سطح کے مباحثوں کے لیے بنیاد اور ایجنڈا طے کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
*********
ش ح۔م ع۔م الف
U. No-674
(रिलीज़ आईडी: 2215300)
आगंतुक पटल : 5