کامرس اور صنعت کی وزارتہ
azadi ka amrit mahotsav

اپریل–دسمبر 2025 کے دوران مجموعی برآمدات (اشیاء و خدمات) کا تخمینہ 634.26 ارب امریکی ڈالر لگایا گیا ہے، جبکہ اپریل–دسمبر 2024 میں یہ 607.93 ارب امریکی ڈالر تھیں، جو تقریباً 4.33 فیصد کی نمو ظاہر کرتی ہیں


اپریل–دسمبر 2025 کے دوران اشیائی برآمدات کی مجموعی قدر 330.29 ارب امریکی ڈالر رہی، جبکہ اپریل–دسمبر 2024 میں یہ 322.41 ارب امریکی ڈالر تھی، جو 2.44 فیصد مثبت شرحِ نمو کو ظاہر کرتی ہے

اپریل–دسمبر 2025 میں غیر پٹرولیم برآمدات کی مجموعی قدر 288.16 ارب امریکی ڈالر رہی، جو اپریل–دسمبر 2024 میں 273.12 ارب امریکی ڈالر کے مقابلے میں 5.51 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے

دسمبر 2025 میں اشیائی برآمدات کی نمو میں اہم محرکات میں الیکٹرانک اشیاء، گوشت، ڈیری اور پولٹری مصنوعات، ادویات و دواسازی، انجینئرنگ اشیاء اور سمندری مصنوعات شامل ہیں

دسمبر 2025 میں الیکٹرانک اشیاء کی برآمدات 16.78 فیصد بڑھ کر دسمبر 2024 میں 3.57 ارب امریکی ڈالر سے دسمبر 2025 میں 4.17 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی

گوشت، ڈیری اور پولٹری مصنوعات کی برآمدات 30.16 فیصد بڑھ کر دسمبر 2024 میں 0.51 ارب امریکی ڈالر سے دسمبر 2025 میں 0.66 ارب امریکی ڈالر ہو گئی

ادویات و دواسازی کی برآمدات 5.65 فیصد اضافہ کے ساتھ دسمبر 2024 میں 2.49 ارب امریکی ڈالر سے دسمبر 2025 میں 2.63 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی

انجینئرنگ اشیاء کی برآمدات 1.28 فیصد اضافہ کے ساتھ دسمبر 2024 میں 10.84 ارب امریکی ڈالر سے دسمبر 2025 میں 10.98 ارب امریکی ڈالر ہو گئی

سمندری مصنوعات کی برآمدات 11.73 فیصد اضافہ کے ساتھ دسمبر 2024 میں 0.72 ارب امریکی ڈالر سے دسمبر 2025 میں 0.81 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی

प्रविष्टि तिथि: 15 JAN 2026 5:39PM by PIB Delhi

 دسمبر 2025* کے لیے ہندوستان کی مجموعی برآمدات (اشیائی تجارت اور خدمات کو ملا کر) کا تخمینہ 74.01 ارب امریکی ڈالر لگایا گیا ہے، جو دسمبر 2024 کے مقابلے میں (-)1.01 فیصد منفی شرحِ نمو کو ظاہر کرتا ہے۔ اسی طرح دسمبر 2025* کے لیے مجموعی درآمدات (اشیائی تجارت اور خدمات کو ملا کر) کا تخمینہ 80.94 ارب امریکی ڈالر لگایا گیا ہے، جو دسمبر 2024 کے مقابلے میں 6.17 فیصد مثبت شرحِ نمو کو ظاہر کرتا ہے۔

جدول 1: دسمبر 2025* کے دوران تجارت

 

   

دسمبر 2025

(امریکی ڈالر بلین)

دسمبر 2024

(امریکی ڈالر بلین)

سامانِ تجارت

برآمدات

38.51

37.80

درآمدات

63.55

58.43

خدمات*

برآمدات

35.50

36.97

درآمدات

17.38

17.80

کل تجارت

(تجارتی سامان + خدمات) *

برآمدات

74.01

74.77

درآمدات

80.94

76.23

تجارتی توازن

-6.92

-1.46

* نوٹ: خدمات کے شعبے سے متعلق تازہ ترین اعداد و شمار جو ریزرو بینک آف انڈیا نے جاری کیے ہیں، وہ نومبر 2025 تک کے ہیں۔ دسمبر 2025 کے اعداد و شمار تخمینی ہیں۔(ii) اپریل–دسمبر 2024 اور اپریل–ستمبر 2025 کے اعداد و شمار کو سہ ماہی بیلنس آف پیمنٹس ڈیٹا کی بنیاد پر تناسبی (پرو ریٹا) طریقے سے نظرِ ثانی کیا گیا ہے۔

شکل 1: دسمبر 2025* کے دوران کل تجارت

  • اپریل–دسمبر 2025* کے دوران ہندوستان کی مجموعی برآمدات کا تخمینہ 634.26 ارب امریکی ڈالر لگایا گیا ہے، جو 4.33 فیصد مثبت شرحِ نمو کو ظاہر کرتا ہے۔ اسی مدت کے دوران مجموعی درآمدات کا تخمینہ 730.84 ارب امریکی ڈالر ہے، جس میں 4.95 فیصد اضافہ درج کیا گیا ہے۔

جدول 2: اپریل–دسمبر 2025* کے دوران تجارت

 

 

اپریل تا دسمبر 2025

(امریکی ڈالر بلین)

اپریل تا دسمبر 2024

(امریکی ڈالر بلین)

سامانِ تجارت

برآمدات

330.29

322.41

درآمدات

578.61

546.36

خدمات*

برآمدات

303.97

285.53

درآمدات

152.23

150.01

کل تجارت

(تجارتی سامان + خدمات)

برآمدات

634.26

607.93

درآمدات

730.84

696.37

تجارتی توازن

-96.58

-88.43

 

شکل 2: اپریل–دسمبر 2025* کے دوران کل تجارت

اشیائی تجارت

  • دسمبر 2025 کے دوران اشیائی برآمدات 38.51 ارب امریکی ڈالر رہیں، جبکہ دسمبر 2024 میں یہ 37.80 ارب امریکی ڈالر تھیں۔
  • دسمبر 2025 کے دوران اشیائی درآمدات 63.55 ارب امریکی ڈالر رہیں، جبکہ دسمبر 2024 میں یہ 58.43 ارب امریکی ڈالر تھیں۔

شکل 3: دسمبر 2025 کے دوران اشیائی تجارت

  • اپریل–دسمبر 2025 کے دوران اشیائی برآمدات 330.29 ارب امریکی ڈالر رہیں، جبکہ اپریل–دسمبر 2024 میں یہ 322.41 ارب امریکی ڈالر تھیں۔
  • اسی مدت کے دوران اشیائی درآمدات 578.61 ارب امریکی ڈالر رہیں، جبکہ اپریل–دسمبر 2024 میں یہ 546.36 ارب امریکی ڈالر تھیں۔
  • اپریل–دسمبر 2025 کے دوران اشیائی تجارتی خسارہ 248.32 ارب امریکی ڈالر رہا، جبکہ اپریل–دسمبر 2024 میں یہ 223.96 ارب امریکی ڈالر تھا۔

شکل 4: اپریل–دسمبر 2025 کے دوران اشیائی تجارت

  • دسمبر 2025 کے دوران غیر پٹرولیم اور غیر جواہرات و زیورات کی برآمدات 32.02 ارب امریکی ڈالر رہیں، جبکہ دسمبر 2024 میں یہ 30.96 ارب امریکی ڈالر تھیں۔
  • دسمبر 2025 کے دوران غیر پٹرولیم، غیر جواہرات و زیورات (سونا، چاندی اور قیمتی دھاتیں) کی درآمدات 42.72 ارب امریکی ڈالر رہیں، جبکہ دسمبر 2024 میں یہ 38.44 ارب امریکی ڈالر تھیں۔

جدول 3: دسمبر 2025 کے دوران پیٹرولیم اور جواہرات و زیورات کے بغیر تجارت

 

دسمبر 2025

(امریکی ڈالر بلین)

دسمبر 2024

(امریکی ڈالر بلین)

غیر پیٹرولیم برآمدات

34.11

33.09

غیر پیٹرولیم درآمدات

49.15

44.84

نان پیٹرولیم اور نان جیمز اینڈ جیولری کی برآمدات

32.02

30.96

نان پیٹرولیم اور نان جیمز اینڈ جیولری کی درآمدات

42.72

38.44

نوٹ: جواہرات و زیورات کی درآمدات میں سونا، چاندی، موتی، قیمتی اور نیم قیمتی پتھر شامل ہیں۔

شکل 5: دسمبر 2025 کے دوران پٹرولیم اور جواہرات و زیورات کے بغیر تجارت

  • اپریل–دسمبر 2025 کے دوران غیر پٹرولیم اور غیر جواہرات و زیورات کی برآمدات 266.94 ارب امریکی ڈالر رہیں، جبکہ اپریل–دسمبر 2024 میں یہ 251.73 ارب امریکی ڈالر تھیں۔
  • اسی مدت کے دوران غیر پٹرولیم، غیر جواہرات و زیورات (سونا، چاندی اور قیمتی دھاتیں) کی درآمدات 371.93 ارب امریکی ڈالر رہیں، جبکہ اپریل–دسمبر 2024 میں یہ 339.67 ارب امریکی ڈالر تھیں۔

جدول 4: اپریل–دسمبر 2025 کے دوران پیٹرولیم اور جواہرات و زیورات کے بغیر تجارت

 

اپریل تا دسمبر 2025

(امریکی ڈالر بلین)

اپریل تا دسمبر 2024

(امریکی ڈالر بلین)

غیر پیٹرولیم برآمدات

288.16

273.12

غیر پیٹرولیم درآمدات

443.18

404.92

نان پیٹرولیم اور نان جیمز اینڈ جیولری کی برآمدات

266.94

251.73

نان پیٹرولیم اور نان جیمز اینڈ جیولری کی درآمدات

371.93

339.67

نوٹ: جواہرات و زیورات کی درآمدات میں سونا، چاندی، موتی، قیمتی اور نیم قیمتی پتھر شامل ہیں۔

شکل 6: اپریل–دسمبر 2025 کے دوران پٹرولیم اور جواہرات و زیورات کے بغیر تجارت

خدماتی تجارت

  • دسمبر 2025* کے دوران خدماتی برآمدات کی تخمینی قدر 35.50 ارب امریکی ڈالر رہی، جبکہ دسمبر 2024 میں یہ 36.97 ارب امریکی ڈالر تھی۔
  • دسمبر 2025* کے دوران خدماتی درآمدات کی تخمینی قدر 17.38 ارب امریکی ڈالر رہی، جبکہ دسمبر 2024 میں یہ 17.80 ارب امریکی ڈالر تھی۔

شکل 7: دسمبر 2025* کے دوران خدماتی تجارت

  • اپریل–دسمبر 2025* کے دوران خدماتی برآمدات کی تخمینی قدر 303.97 ارب امریکی ڈالر رہی، جبکہ اپریل–دسمبر 2024 میں یہ 285.53 ارب امریکی ڈالر تھی۔
  • اسی مدت کے دوران خدماتی درآمدات کی تخمینی قدر 152.23 ارب امریکی ڈالر رہی، جبکہ اپریل–دسمبر 2024 میں یہ 150.01 ارب امریکی ڈالر تھی۔
  • اپریل–دسمبر 2025* کے دوران خدماتی تجارتی سرپلس 151.74 ارب امریکی ڈالر رہا، جبکہ اپریل–دسمبر 2024 میں یہ 135.52 ارب امریکی ڈالر تھا۔

شکل 8: اپریل–دسمبر 2025* کے دوران خدماتی تجارت

  • دسمبر 2025 میں گزشتہ برس کے اسی مہینے کے مقابلے میں جن اشیائی برآمدات میں مثبت شرحِ نمو درج کی گئی ان میں دیگر اناج (85.83 فیصد)، کافی (53.12 فیصد)، لوہے کی کانسنگ (50.02 فیصد)، گوشت، ڈیری اور پولٹری مصنوعات (30.16 فیصد)، تمباکو (17.15 فیصد)، الیکٹرانک اشیاء (16.78 فیصد)، میکا، کوئلہ اور دیگر معدنیات بشمول پروسیس شدہ معدنیات (12.07 فیصد)، سمندری مصنوعات (11.73 فیصد)، دستکاری (ہاتھ سے بنے قالین کے علاوہ) (7.2 فیصد)، ادویات و دواسازی (5.65 فیصد)، چائے (5.39 فیصد)، مصنوعی دھاگہ/کپڑے/تیار شدہ مصنوعات وغیرہ (3.99 فیصد)، اناجی تیاریات اور متفرق پروسیس شدہ اشیاء (3.61 فیصد)، تمام ٹیکسٹائل کی ریڈی میڈ ملبوسات (2.89 فیصد)، مصالحہ جات (1.54 فیصد)، انجینئرنگ اشیاء (1.28 فیصد) اور نامیاتی و غیر نامیاتی کیمیائی مادّے (1.08 فیصد) شامل ہیں۔
  • دسمبر 2025 میں گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں سونے کی درآمدات (-12.08 فیصد)، چمڑا اور چمڑے کی مصنوعات (-8.93 فیصد)، لکڑی اور لکڑی کی مصنوعات (-8.82 فیصد)، نقل و حمل کے ساز و سامان (-7.11 فیصد)، کیمیائی مواد اور مصنوعات (-6.23 فیصد)، لوہا اور فولاد (-4.48 فیصد)، ٹیکسٹائل دھاگہ، کپڑا اور تیار شدہ اشیاء (-2.92 فیصد)، دالیں (-2.87 فیصد)، نامیاتی و غیر نامیاتی کیمیائی مادّے (-2.3 فیصد)، مشین ٹولز (-1.42 فیصد) اور مصنوعی ریزنز، پلاسٹک کے مواد وغیرہ (-1.22 فیصد) میں منفی شرحِ نمو ریکارڈ کی گئی ہے۔
  • اپریل–دسمبر 2025* کے دوران خدماتی برآمدات میں اپریل–دسمبر 2024 کے مقابلے میں 6.46 فیصد اضافہ متوقع ہے۔
  • قدر میں تبدیلی کے لحاظ سے دسمبر 2025 میں دسمبر 2024 کے مقابلے میں مثبت نمو ظاہر کرنے والی سرفہرست پانچ برآمدی منڈیاں یہ ہیں: چین پی آر پی (67.35 فیصد)، متحدہ عرب امارات (14.94 فیصد)، ملائیشیا (65.42 فیصد)، ہانگ کانگ (61.28 فیصد) اور اسپین (48.48 فیصد)۔
  • اسی طرح اپریل–دسمبر 2025 میں اپریل–دسمبر 2024 کے مقابلے میں مثبت نمو ظاہر کرنے والی سرفہرست پانچ برآمدی منڈیاں یہ ہیں: ریاستہائے متحدہ امریکا (9.75 فیصد)، چین پی آر پی (36.68 فیصد)، متحدہ عرب امارات (7.49 فیصد)، اسپین (53.33 فیصد) اور ہانگ کانگ (25.75 فیصد)۔
  • قدر میں تبدیلی کے لحاظ سے دسمبر 2025 میں دسمبر 2024 کے مقابلے میں نمو ظاہر کرنے والے سرفہرست پانچ درآمدی ذرائع یہ ہیں: چین پی آر پی (20.01 فیصد)، سعودی عرب (28.85 فیصد)، برازیل (95.62 فیصد)، پیرو (59.08 فیصد) اور چِلی (116.35 فیصد)۔
  • اسی طرح اپریل–دسمبر 2025 میں اپریل–دسمبر 2024 کے مقابلے میں نمو ظاہر کرنے والے سرفہرست پانچ درآمدی ذرائع یہ ہیں: چین پی آر پی (13.46 فیصد)، ریاستہائے متحدہ امریکا (12.85 فیصد)، ہانگ کانگ (29.28 فیصد)، متحدہ عرب امارات (8.26 فیصد) اور آئرلینڈ (103.06 فیصد)۔

فوری تخمینہ کے لیے ربط (لنک):

***

UR-645

(ش ح۔اس ک  )

  


(रिलीज़ आईडी: 2215097) आगंतुक पटल : 8
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी