سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

نئے ستارے کی پیدائش میں مقناطیسی فیلڈ کے کردار کا سراغ ملا

प्रविष्टि तिथि: 14 JAN 2026 5:14PM by PIB Delhi

سات سو نوری سال کے فاصلے پر واقع، ستاروں کی پیدائش کرنے والے سالماتی بادلوں (مولیکیولر کلاؤڈز) کا مطالعہ کرنے والے ماہرینِ فلکیات نے اس بات کے نئے شواہد حاصل کیے ہیں کہ مقناطیسی فیلڈ کس طرح ستاروں کی پیدائش کی رہنمائی کرتی ہیں۔

ان کے نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ پیمانے میں انتہائی بڑی تبدیلیوں کے باوجود مقناطیسی فیلڈ حیرت انگیز طور پر آپس میں جڑے رہتے ہیں اور یہ اس بات کے تعین میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں کہ آیا کوئی ستارہ وجود میں آئے گا یا نہیں۔

سالماتی بادل، جو ستاروں کی پیدائش کی آماجگاہ ہوتے ہیں، اپنی کم درجۂ حرارت (40 کیلوِن سے کم، یعنی مائع نائٹروجن سے بھی زیادہ سرد) اور نسبتاً زیادہ کثافت (فی مکعب سینٹی میٹر 10³ سے 10 ذرات) کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں۔ ان بادلوں کے سکڑ کر ستارے بنانے کے عمل میں تین اہم قوتوں—کششِ ثقل، مقناطیسی فیلڈ اور بے ترتیبی یا ہنگامہ خیزی (ٹربولینس)—کے درمیان پیچیدہ باہمی تعامل فیصلہ کن ہوتا ہے۔ اسی لیے اس مقصد کے لیے گیس اور گرد و غبار کی حرکیات کا مطالعہ سالماتی بادل کے پیمانے سے لے کر سکڑتے ہوئے مرکزی حصے (کولیپسنگ کور) کے پیمانے تک کرنا ضروری ہوتا ہے۔

ایک نئی تحقیق، جس کی قیادت ہندوستانی ادارۂ فلکیات (آئی آئی اے) انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ایسٹرو فزکس، کے ماہرینِ فلکیات نے کی—جو کہ محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی  ، حکومتِ ہند کے تحت ایک خودمختار ادارہ ہے—اس ادارے نے تقریباً 700 نوری سال کے فاصلے پر واقع ایل328 سالماتی بادل پر توجہ مرکوز کی، تاکہ مختلف پیمانوں پر مقناطیسی فیلڈ کا نقشہ تیار کیا جا سکے۔

اس تحقیق میں پولرائزیشن (قطبیت) کے مطالعات کے ذریعے سالماتی بادلوں کے پیمانے سے لے کر کثیف ستارہ ساز مراکز کے پیمانے تک مقناطیسی فیلڈز کے باہمی تعلق کے واضح اور اہم مشاہداتی شواہد پیش کیے گئے ہیں۔

شکل: ایل328 میں مقناطیسی میدانوں کی نقشہ بندی — (الف) کنٹینیوم تصویر پر انتہائی بڑے پیمانے کے مقناطیسی میدان کے ویکٹرز، (ب) بادل (کلاؤڈ) کے پیمانے پر مقناطیسی فیلڈ کے ویکٹرز، (ج) لفافہ (اینویلپ) کے پیمانے پر مقناطیسی فیلڈ کے ویکٹرز (مختلف این آئی آر بینڈز کو مختلف رنگوں میں دکھایا گیا ہے)، (د) مرکزی کور میں مقناطیسی میدان کے ویکٹرز۔

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ایسٹرو فزکس یعنی خلائی طبیعیات کے بھارتی انسٹی ٹیوٹ  کی محقق اور اس مطالعے کی پہلی مصنفہ شویانی گپتا نے وضاحت کرتے ہوئے کہا: “ہم نے ایل328 میں ایس2 ذیلی کور کا مطالعہ اس لیے منتخب کیا، کیونکہ یہ ایک نہایت کم روشنی والا فلکیاتی جسم  ہے۔” ایس 2 میں ایک پروٹو اسٹار، یعنی بننے والا ستارہ موجود ہے، جس کی روشنی کم ہے اور اس سے نکلنے والے دو طرفہ اخراجات (بائی پولر آؤٹ فلو) بھی کمزور ہیں۔ گپتا نے مزید کہا: “یہ کمزور اخراجات اپنے گرد و نواح میں نہایت کم بے ترتیبی (ٹربولینس) پیدا کرتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ ایسی ابتدائی مقناطیسی فیلڈ کے مطالعے کے لیے بہترین تجربہ گاہ بن جاتے ہیں جو ستاروں کی تشکیل شروع ہونے سے پہلے موجود تھے۔”

ایل328 کور میں مقناطیسی میدان کی ساخت کا جائزہ لینے کے لیے ٹیم نے ہوائی میں واقع جیمز کلرک میکسویل ٹیلی اسکوپ پر نصب پی او ایل-2 سے حاصل شدہ پولر میٹرک ڈیٹا کا استعمال کیا۔ پی او ایل -2، 850 مائیکرون طولِ موج پر گرد و غبار کے ذرات سے خارج ہونے والی قطب شدہ روشنی کا مشاہدہ کرتا ہے۔ کور کے مختلف حصوں سے آنے والی روشنی کی پولرائزیشن کی سمتوں کا تجزیہ کر کے محققین مقناطیسی فیلڈز کی ساخت کا نقشہ تیار کرنے میں کامیاب ہوئے۔

اس تحقیق کی شریک مصنفہ اور آئی آئی اے کی فیکلٹی رکن ارچنا سوم نے بتایا: “ایل328 پر ہونے والی سابقہ تحقیقات میں پلینک سیٹلائٹ کے اعدادوشمار، بصری اور نزدیکی اِنفراریڈ  پولر میٹری کے ذریعے بڑے پیمانے (نوری سالوں کے درجے) پر مقناطیسی فیلڈ کا نقشہ تیار کیا گیا تھا۔ یہ نیا کام اس میں ایک نئی جہت کا اضافہ کرتا ہے، کیونکہ اس میں کور کے پیمانے (نوری سال سے بھی کم) تک زوم کیا گیا ہے، جہاں درحقیقت ستاروں کی تشکیل ہو رہی ہوتی ہے۔”

تحقیق سے معلوم ہوا کہ مقناطیسی فیلڈز بادل کے پیمانے سے لے کر چھوٹے پیمانے کے کور تک منظم اور باہم مربوط ہیں، اور ان کی مجموعی سمت شمال مشرق سے جنوب مغرب کی جانب ہے۔ کور کے پیمانے پر مقناطیسی میدان کی طاقت کے تخمینوں سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جیسے جیسے پیمانہ چھوٹا ہوتا جاتا ہے (نوری سال سے کم)، مقناطیسی میدان مضبوط ہوتا جاتا ہے۔

آئی آئی اے کے فیکلٹی رکن اور شریک مصنف مہیشور گوپناتھن نے کہا: “ایل328 کور میں کششِ ثقل، مقناطیسیت، بے ترتیبی (ٹربولینس) اور حرارتی توانائی کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوا کہ ابتدائی تینوں توانائیاں آپس میں تقریباً برابر ہیں اور حرارتی توانائی سے لگ بھگ دس گنا زیادہ طاقتور ہیں۔” اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقناطیسی فیلڈ اور بے ترتیبی کششِ ثقل کے خلاف مزاحمت کرنے اور کور کے ستارے میں تبدیل ہونے کے عمل کو متاثر کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

دلچسپ طور پر، ایسے کورز جو ستاروں سے خالی مگر کیمیائی طور پر زیادہ ارتقا یافتہ ہیں، اور ایسے کورز جن میں ویلّو موجود ہے مگر کیمیائی ارتقا کم ہے، ان کے موازنے سے یہ بات سامنے آئی کہ مقناطیسی نازک توازن (میگنیٹک کریٹیکلٹی)—یعنی مقناطیسی دباؤ اور کششِ ثقل کے درمیان توازن—ستاروں کی تشکیل میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا ہے۔ شویانی گپتا نے آئی آئی اے اور پانڈیچیری یونیورسٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: “جن صورتوں میں کوئی کور سب کریٹیکل ہو، یعنی مقناطیسی سہارا کششِ ثقل سے زیادہ مضبوط ہو، تو وہ کور ستارے کے بغیر ہی رہ سکتا ہے۔”

یہ تحقیق منتھلی نوٹس آف دی رائل ایسٹرونومیکل سوسائٹی جریدہ میں شائع ہوئی ہے، جس کے شریک مصنفین میں برطانیہ کی یونیورسٹی کالج لندن اور یونیورسٹی آف سینٹرل لنکاشائر سے جانک کیرولی، اور کوریا ایسٹرونومی اینڈ اسپیس سائنس انسٹی ٹیوٹ سے چانگ وون لی بھی شامل ہیں۔

 

************

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U :592    )


(रिलीज़ आईडी: 2214721) आगंतुक पटल : 5
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी