امور صارفین، خوراک اور عوامی تقسیم کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

حکومت نے کچھ بڑی خوردنی تیل کمپنیوں کو ترمیم شدہ وی او پی پی اے آرڈر ، 2025 کی عدم تعمیل پر شوکاز نوٹس جاری کیے


خوردنی تیل پروسیسنگ یونٹس کی جانب سے گوشواروں کی فائلنگ(ریٹرن فائلنگ) کی تصدیق کے لیے معائنہ جاتی کارروائیاں انجام دی گئیں

प्रविष्टि तिथि: 14 JAN 2026 6:57PM by PIB Delhi

حکومتِ ہند نے سبزیوں کے تیل کی مصنوعات، پیداوار اور دستیابی (ضابطہ) ترمیمی حکم نامہ، 2025 (وی او پی پی اے آرڈر، 2025) کے ذریعے خوردنی تیل کی ویلیو چین میں ریگولیٹری نگرانی کو مزید مضبوط بنایا ہے۔ ترمیم شدہ حکم نامے کے تحت قومی سنگل ونڈو سسٹم (این ایس ڈبلیو ایس) اور وی او پی پی اے پورٹل (https://www.edibleoilindia.in) پر تمام خوردنی تیل کے مینوفیکچررز، پروسیسرز، بلینڈرز اور ری پیکرز کی لازمی رجسٹریشن کے ساتھ ساتھ پیداوار، ذخائر اور دستیابی سے متعلق تفصیلی ماہانہ ریٹرنز جمع کرانا لازم قرار دیا گیا ہے۔

ترمیم شدہ وی او پی پی اے آرڈر، 2025 کے تحت خام اور بہتر سبزیوں کے تیل، سالوینٹ ایکسٹریکٹڈ آئلز، مرکب خوردنی تیل، وناسپتی، مارجرین اور دیگر مطلع شدہ مصنوعات سمیت مختلف اقسام کی خوردنی تیل مصنوعات کی پیداوار، ذخیرہ، درآمدات، ترسیل، فروخت اور کھپت سے متعلق ماہانہ ریٹرنز فائل کرنا ضروری ہوگا۔ یہ فریم ورک باخبر پالیسی سازی کو فروغ دینے اور قومی غذائی تحفظ کو مستحکم کرنے کے لیے ایک شفاف اور ڈیٹا پر مبنی خوردنی تیل کے ماحولیاتی نظام کی تشکیل کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

ملک گیر تعمیل مہم کے تحت، محکمہ خوراک و عوامی تقسیم (ڈی ایف پی ڈی) نے این ایس ڈبلیو ایس/وی او پی پی اے رجسٹریشن کی تصدیق، ماہانہ ریٹرنز کی بروقت اور درست جانچ، اور تعمیل کو فروغ دینے کے لیے صنعت کے ساتھ رابطے کے مقصد سے معائنہ مہمات انجام دی ہیں، تاکہ خوردنی تیل کے شعبے میں شفافیت اور مؤثر نگرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔ نفاذ کے ساتھ ساتھ، محکمہ صلاحیت سازی کے اقدامات بھی کر رہا ہے، جن میں نومبر 2025 میں اندور میں منعقد کی گئی قومی ورکشاپ شامل ہے، جہاں درست ڈیٹا رپورٹنگ، این ایس ڈبلیو ایس رجسٹریشن، وی او پی پی اے پورٹل کے استعمال اور ریٹرنز کی بروقت فائلنگ پر توجہ دی گئی۔ اسی نوعیت کی ورکشاپس دیگر بڑی ریاستوں میں منعقد کرنے کا بھی منصوبہ ہے۔

معائنوں کے دوران سامنے آنے والے مشاہدات اور بعد ازاں جائزوں کی بنیاد پر، محکمہ نے بارہا یاد دہانیوں، ای میلز اور ٹیلی فونک رابطوں کے باوجود لازمی ماہانہ پیداوار ریٹرنز جمع نہ کرانے پر خوردنی تیل کی چند بڑی کمپنیوں کو شوکاز نوٹس جاری کیے ہیں۔ ایسی عدم تعمیل ضروری اشیاء ایکٹ، 1955 کی دفعہ 3 کے تحت جاری کردہ وی او پی پی اے آرڈر، 2025 کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہے۔

محکمہ نے متعلقہ اداروں کو مطلع کیا ہے کہ ضروری اشیاء ایکٹ، 1955 کی دفعہ 6 اے کے تحت، دفعہ 3 کے تحت جاری کردہ احکامات کی خلاف ورزی کی صورت میں معائنہ اور ضبطی سمیت کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے، اور یہ کہ ایکٹ کی دفعہ 6 بی کے مطابق، ضبطی کا کوئی بھی حکم صادر کرنے سے قبل فریق کو وجہ بتانے کا معقول موقع فراہم کیا جانا لازمی ہے۔ اس کے تحت، متعلقہ اکائیوں کو سات دن کی مہلت دی گئی ہے تاکہ وہ تحریری طور پر وضاحت پیش کریں کہ ان کے خلاف ضروری اشیاء ایکٹ، 1955 اور ترمیم شدہ وی او پی پی اے آرڈر، 2025 کے تحت کارروائی کیوں نہ کی جائے۔

محکمہ نے مزید واضح کیا ہے کہ اسی نوعیت کے شوکاز نوٹس ان تمام اکائیوں کو جاری کیے جائیں گے جو یا تو وی او پی پی اے فریم ورک کے تحت رجسٹرڈ نہیں ہیں یا لازمی ماہانہ ریٹرنز فائل کرنے میں ناکام رہی ہیں، تاکہ پورے شعبے میں یکساں تعمیل کو یقینی بنایا جا سکے۔ مزید برآں، ترمیم شدہ وی او پی پی اے آرڈر، 2025 پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے ضرورت کے مطابق مختلف خوردنی تیل پروسیسنگ یونٹس میں معائنہ مہمات جاری رکھی جائیں گی۔ جنوری 2026 کے دوران ہریانہ اور راجستھان کی تمام اضلاع میں معائنہ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

حکومت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ مؤثر پالیسی سازی اور قومی غذائی تحفظ کے مفاد میں خوردنی تیل کے شعبے میں شفافیت، جوابدہی اور مکمل تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گی۔

 

***

UR-606

(ش ح۔اس ک  )

 


(रिलीज़ आईडी: 2214709) आगंतुक पटल : 10
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी