بجلی کی وزارت
غیر روایتی ایندھن کا حصہ نصف سے تجاوز؛ نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی کُل صلاحیت 505 گیگاواٹ تک پہنچ گئی
سال 2030 ء تک غیر روایتی ایندھن توانائی کی صلاحیت 500 گیگاواٹ تک کرنے کے لیے کئے گئے اقدامات
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
18 DEC 2025 4:37PM by PIB Delhi
بجلی کے وزیر مملکت جناب شری پد یسو نائک نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں بتایا کہ 31 اکتوبر ، 2025 ء تک ملک کی نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی کل صلاحیت 5,05,023 میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے، جس میں 2,45,600 میگاواٹ روایتی ایندھن ذرائع سے اور 2,59,423 میگاواٹ غیر روایتی ایندھن ذرائع سے حاصل شدہ صلاحیت شامل ہے (جس میں 2,50,643 میگاواٹ قابلِ تجدید توانائی ذرائع سے حاصل شدہ صلاحیت بھی شامل ہے)۔ ملک کی موجودہ نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کی تفصیلات ، جس میں قابلِ تجدید اور غیر روایتی ایندھن ذرائع کے حصے کی نشاندہی کی گئی ہے ، ذیل میں دی گئی ہیں۔
حکومتِ ہند نے ملک میں 2030 ء تک 500 گیگاواٹ غیر روایتی توانائی صلاحیت کے ہدف کو حاصل کرنے کے عزم کو عملی جامہ پہنانے کے لیے قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت کو فروغ دینے اور اسے تیز کرنے کے لیے متعدد اقدامات اور پہل قدمیاں کی ہیں۔ ان میں، دیگر کے علاوہ، درج ذیل شامل ہیں:
- ترسیل کے بین ریاستی نظام ( آئی ایس ٹی ایس ) کے چارجز کو بین ریاستی فروخت کی جانے والی شمسی اور بادی بجلی کے لیے 30 جون ، 2025 ء تک شروع ہونے والے پروجیکٹوں پر ، گرین ہائیڈروجن پروجیکٹ کے لیے دسمبر ، 2030 ء تک اور سمندر سے دور بادی توانائی کے پروجیکٹ کے لیے دسمبر 2032 ء تک معاف کر دیا گیا ہے۔
- ٹیرف پر مبنی مسابقتی بولی کے عمل کے تحت گرڈ سے منسلک شمسی، بادی ، بادی-شمسی ہائبرڈ اور مستحکم اور ترسیل کی قابل ، قابلِ تجدید توانائی ( ایف ڈی آر ای ) پروجیکٹوں سے بجلی کی خریداری کے لیے بولی لگانے کے معیاری رہنما خطوط جاری کیے گئے ہیں۔
- وزارت نئی اور قابل تجدید توانائی ( ایم این آر ای ) نے مالی سال 24-2023 ء سے 28-2027 ء تک قابل تجدید توانائی نافذ کرنے والی ایجنسیوں ( آر ای آئی اے ) کے ذریعے سالانہ 50 گیگاواٹ قابل تجدید توانائی کی خریداری کی بولیوں کے اجراء کے لیے بولی کا خاکہ جاری کیا ہے۔
- غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری ( ایف ڈی آئی ) کو خودکار راستے کے تحت 100 فی صد تک اجازت دی گئی ہے۔
- قابل تجدید توانائی کی سپلائی کے لیے ترسیل کی نئی لائنیں بچھانے اور نئے ذیلی اسٹیشن کی صلاحیت پیدا کرنے کے کام کو گرین انرجی کاریڈور اسکیم کے تحت مالی اعانت فراہم کی گئی ہے۔
- تیز رفتار قابل تجدید توانائی کے ہدف کے لیے درکار بجلی کی ترسیل کے ڈھانچے میں اضافہ کرنے کے لیے 2032 ء تک کا ترسیل کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔
- سولر پارکس اور الٹرا میگا سولر پاور پروجیکٹوں کے قیام کی اسکیم نافذ کی جا رہی ہے تاکہ بڑے پیمانے پر قابل تجدید توانائی پروجیکٹوں کی تنصیب کے لیے زمین اور ترسیل کی سہولت فراہم کی جا سکے۔
- پردھان منتری کسان اُرجا سرکشا ایوَم اُتھاّن مہا ابھیان ( پی ایم – کُسُم ) ، پی ایم سوریہ گھر مفت بجلی یوجنا، اعلیٰ صلاحیت کے حامل سولر پی وی ماڈیولز کے لیے قومی پروگرام ، پردھان منتری جَن جاتیہ آدیواسی نیائے مہا ابھیان ( پی ایم جن من ) کے تحت قبائلی اور پی وی ٹی جی بستیوں/گاؤوں کے لیے نئی سولر پاور اسکیم، دھرتی آبھا جَن جاتیہ گرام اُتکرش ابھیان ( ڈی اے جے جی یو اے ) ، نیشنل گرین ہائیڈروجن مشن اور ساحل سے دور بادی توانائی کے پروجیکٹوں کے لیے وائبلٹی گیپ فنڈنگ ( وی جی ایف ) اسکیم شروع کی گئی ہیں۔
- قابل تجدید توانائی کے استعمال میں اضافے کے لیے قابل تجدید خریداری کی لازمیت ( آر پی او ) کے بعد قابل تجدید کھپت کی لازمیت ( آر سی او ) کی راہداری 30-2029 ء تک نوٹیفائی کر دی گئی ہے۔ آ رسی او ، توانائی کے تحفظ کے ایکٹ 2001 کے تحت تمام نامزد صارفین پر لاگو ہوگی اور اس کی عدم تعمیل پر جرمانے عائد ہوں گے۔ آر سی او میں غیر مرکزی قابل تجدید توانائی ذرائع سے مخصوص مقدار میں کھپت بھی شامل ہے۔
- ساحل سمندر سے دور بادی توانائی کے پروجیکٹوں کے قیام کی حکمت عملی جاری کر دی گئی ہے۔
- سولر پی وی ماڈیولز کی گھریلو پیداوار میں اضافہ کرنے کے مقصد سے حکومت ہند کی اعلیٰ صلاحیت کے حامل سولر پی وی ماڈیولز کے لیے پیداوار سے منسلک ترغیبات ( پی ایل آئی ) اسکیم نافذ کر رہی ہے۔
بھارت نے ، جون 2025 ء میں اپنی نصب شدہ بجلی کی صلاحیت کا 50 فی صد حصہ غیر روایتی ایندھن ذرائع سے حاصل کر کے اپنے توانائی کی ترسیل کے سفر میں ایک سنگ میل طے کر لیا ہے ، جو کہ پیرس معاہدے کے تحت ، قومی سطح پر طے شدہ تعاون ( این ڈی سیز ) کے ہدف سے پانچ سال سے زیادہ پہلے ہے۔ یہ اہم سنگ ِمیل آب و ہوا کی تبدیلی کی روک تھام اور پائیدار ترقی کے لیے ملک کے مضبوط عزم کو اجاگر کرتا ہے۔
اس کامیابی کے اثرات ، بھارت کے طویل مدتی توانائی منتقلی کے خاکے پر انتہائی اہم ہیں کیونکہ آب و ہوا کی تبدیلی کا مقابلہ کرنے کے ہدف کے ساتھ توانائی کی یقینی فراہمی ، کفایتی اور دستیابی کو ناگزیر ترجیحات کے طور پر ملحوظ رکھنا ضروری ہے تاکہ اقتصادیات کی توانائی منتقلی کے ساتھ 2070 ء تک کاربن کے صفر اخراج کے ہدف کی جانب پیش رفت کے ساتھ ترقی اور نمو کو یقینی بنایا جا سکے۔
بھارت کی جانب سے ماحولیات کے لیے ساز گار اور محفوظ ذرائع کے ذریعے اپنی توانائی پورٹ فولیو کو متنوع بنانے کے لیے کئے گئے بڑے اقدامات کی تفصیل ذیل میں دی گئی ہے۔
- نیو کلیائی توانائی طویل مدتی توانائی کی فراہمی کو یقینی بنانے کی بہت زیادہ صلاحیت رکھتی ہے اور 2070 ء تک کاربن کے صفر اخراج کی جانب بھارت کی ماحولیات کے لیے ساز گار توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم ہے۔ یہ بنیادی لوڈ بجلی کا صاف اور ماحول دوست ذریعہ ہے۔ نیو کلیائی توانائی کے دورانِ حیات ، اخراج قابلِ تجدید ذرائع مثلاً ہائیڈرو اور ہوا سے قابلِ تقابل ہیں۔ حکومتِ ہند نے 2047 ء تک 100 گیگاواٹ نیو کلیائی توانائی صلاحیت کا ایک بلند ہدف مقرر کیا ہے۔ بھارت کے توانائی پورٹ فولیو کو نیو کلیائی توانائی کے ذریعے متنوع بنانے کے لیے درج ذیل اقدامات کیے گئے ہیں۔
- ایک مخصوص نیو کلیائی توانائی مشن شروع کیا گیا ہے ، جس کے لیے 20,000 کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے تاکہ 2033 ء تک کم از کم پانچ گھریلو طور پر ڈیزائن کردہ اسمال ماڈیولر ری ایکٹرز ( ایس ایم آرز ) تیار کیے جا سکیں اور جدید نیو کلیائی ٹیکنالوجیز کو فروغ دیا جا سکے۔
- بھارت میں انقلابی تبدیلی لانے کے لیے نیو کلیائی توانائی کی پائیداری ترقی اور فروغ ( ایس ایچ اے این ٹی آئی - شانتی ) بل، 2025 پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا ہے تاکہ بھارت کی نیو کلیائی توانائی کی مکمل صلاحیت کو زیادہ سے زیادہ گھریلو وسائل کی بنیاد پر بروئے کار لایا جا سکے اور اس میں سرکاری و نجی دونوں شعبوں کی فعال شمولیت ممکن بنائی جا سکے۔
- بھارت کے اسمال ری ایکٹرز ( بی ایس آرز ) ، جن کی صلاحیت 220 میگاواٹ ہے اور جو بھارت کی ثابت شدہ پریشرائزڈ ہیوی واٹر ری ایکٹر ( پی ایچ ڈبلیو آر ) ٹیکنالوجی پر مبنی ہیں، صنعتی مرکز میں کاربن کے اخراج کو ختم کرنے میں تعاون کے لیے اپ گریڈ کیے جا رہے ہیں۔ بی اے آر سی بھی اسمال ماڈیولر ری ایکٹرز تیار کر رہا ہے تاکہ ریٹائر ہونے والے کوئلے کے اسٹیشنوں کو نئے مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکے اور دور دراز علاقوں میں توانائی کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔
- بھارت میں ایندھن کی یقینی فراہمی کو بڑھانے کے لیے نئے یورینیم کے ذخائر دریافت کیے جا رہے ہیں، جن میں ایک اہم دریافت شامل ہے ، جو جادوگڑا کان کی زندگی کو 50 سال سے زیادہ بڑھا دے گی۔ بند ایندھن سائیکلوں میں پیش رفت، جیسے پروٹوٹائپ فاسٹ بریڈر ری ایکٹر میں حاصل کردہ سنگ میل، پائیدار ایندھن کی فراہمی کو مزید مضبوط کرے گی۔
- بجلی کی صلاحیت میں اضافے کو تیز کرنے کے لیے این پی سی آئی ایل اور این ٹی پی سی نے موجودہ قانونی فریم ورک کے تحت نیو کلیائی توانائی کے منصوبے تیار کرنے کے لیے مشترکہ منصوبہ اے ایس ایچ وی آئی این آئی – ( اشونی ) قائم کیا ہے۔
- حکومتِ ہند نے ستمبر ، 2023 ء میں بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز ( بی ای ایس ایس ) کی ترقی کے لیے وائبلیٹی گیپ فنڈنگ ( وی جی ایف ) اسکیم کی منظوری دی۔ اس اسکیم کے تحت 13.22 گیگاواٹ فی گھنٹہ بی ای ایس ایس کی صلاحیت پر عمل درآمد جاری ہے ، جس کے لیے 3,760 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ بڑھتی ہوئی بی ای ایس ایس کی مانگ کو مدنظر رکھتے ہوئے، بجلی کی وزارت نے جون ، 2025 ء میں 30 گیگاواٹ فی گھنٹے بی ای ایس ایس کی صلاحیت کی ترقی کے لیے ایک اور وی جی ایف اسکیم کی منظوری دی، جس کے لیے بجلی نظام کے ترقیاتی فنڈ ( پی ایس ڈی ایف ) سے 5,400 کروڑ روپے کی مالی مدد فراہم کی جائے گی۔
- بجلی کی وزارت نے پمپڈ اسٹوریج پروجیکٹس ( پی ایس پیز ) کو فروغ دینے کے لیے ایک پالیسی متعارف کروائی ہے تاکہ قابل تجدید توانائی کے انضمام اور گرڈ کی استحکام کو تعاون فراہم کیا جا سکے۔ فی الحال ، ملک میں 10 پمپڈ اسٹوریج پروجیکٹس ، جن کی بجلی پیداوار کی کل صلاحیت 11,870 میگاواٹ ہے، زیر تعمیر ہیں۔
- سمندر سے دور بادی توانائی کے پروجیکٹوں کے قیام کی حکمتِ عملی جاری کر دی گئی ہے۔ ابتدائی ایک گیگا واٹ کی صلاحیت کے لیے سمندر سے دور بادی توانائی کی صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کے لیے وائبلیٹی گیپ فنڈنگ فراہم کی جائے گی۔
- گرین ہائیڈروجن مشن بھارت کے کاربن کے اخراج کو ختم کرنے کی کوششوں میں نمایاں کردار ادا کرے گا اور روزگار اور اقتصادی ترقی کے مواقع بھی پیدا کرے گا۔ اس مشن کا ہدف 2030 ء تک سالانہ کم از کم 5 ملین میٹرک ٹن گرین ہائیڈروجن کی صلاحیت قائم کرنا ہے۔
ملک کی بجلی پیدا کرنے کی موجودہ نصب شدہ صلاحیت کی تفصیلات درج ذیل ہیں :
|
31 اکتوبر ، 2025 ء کی تاریخ کو ملک میں بجلی پیدا کرنے کی کل نصب شدہ صلاحیت
|
|
|
|
|
|
|
زمرہ
|
نصب شدہ صلاحیت ( میگا واٹ میں )
|
بجلی کی کل صلاحیت میں حصہ داری کا فی صد
|
|
روایتی ایندھن
|
کوئلہ
|
2,18,258
|
|
|
لگنائٹ
|
6,620
|
|
|
گیس
|
20,132
|
|
|
ڈیزل
|
589
|
|
|
کل روایتی ایندھن
|
2,45,600
|
48.6
|
|
غیر روایتی ایندھن
|
قابل تجدید توانائی کے ذرائع
|
2,50,643
|
49.6
|
|
پن بجلی ( پی ایس پیز سمیت )
|
50,348
|
|
|
بادی ، شمسی اور دیگر قابل تجدید توانائی
|
2,00,295
|
|
|
بادی
|
53,600
|
|
|
شمسی
|
1,29,924
|
|
|
بی ایم پاور / کوجن
|
10,757
|
|
|
فضلےسے توانائی
|
856
|
|
|
چھوٹے پن بجلی
|
5,159
|
|
|
نیو کلیائی
|
8,780
|
1.74
|
|
کل غیر روایتی ایندھن
|
2,59,423
|
51.37
|
|
|
بجلی کی پیداوار کی نصب شدہ کل صلاحیت
|
5,05,023
|
100.0 فی صد
|
****************************
( ش ح ۔ م ع ۔ ع ا )
U.No. 578
(ریلیز آئی ڈی: 2214656)
وزیٹر کاؤنٹر : 29