ارضیاتی سائنس کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

 خطرات والے علاقوں کے لیے نگرانی کا نظام

प्रविष्टि तिथि: 18 DEC 2025 3:42PM by PIB Delhi

بھارت  کے محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے شدید بارش ، برف باری ، ژالہ باری ، گرج چمک کے ساتھ بارش وغیرہ سمیت موسم سے متعلق مختلف خطرات  کے حامل علاقوں کی نشاندہی کی ہے ۔

ریاست ہماچل پردیش سمیت  شدید بارش اور سیلاب ، برف باری وغیرہ کے خطرے سے دوچار اضلاع کی فہرست ضمیمہ-1 میں دی گئی ہے ۔

حکومت ، شدید موسم سے  متعلق ہر قسم کے واقعات کا پتہ لگانے ، نگرانی کرنے اور بروقت پیشگی انتباہ فراہم کرنے کے لیے بر وقت  نگرانی کے نظام ، انتباہ کے ابتدائی نظام اور سینسر پر مبنی ٹیکنالوجی کو مستحکم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے ۔ اس سے متعلق اہم پیش رفت اور کامیابیاں ضمیمہ-2 میں دی گئی ہیں ۔ حالیہ برسوں میں پہاڑی علاقوں میں مشاہدے کے بنیادی ڈھانچے اور نگرانی کے نیٹ ورک کو نمایاں طور پر مضبوط کیا گیا ہے ۔ مغربی ہمالیائی ریاستوں میں ، 10  مقامات-سری نگر ، جموں ، بانیہال ٹاپ ، مکتیشور ، سرکنڈا دیوی ، لینس ڈاؤن ، لیہہ ، کفری ، جوٹ اور مراری دیوی پر ڈوپلر ویدر راڈار (ڈی ڈبلیو آر) نصب کیے گئے ہیں ۔ یہ راڈار  فعال اور شدید بارش اور برف باری جیسے شدید موسم سے متعلق  مختلف واقعات کی  بر وقت نگرانی اور نوکاسٹنگ (چند گھنٹوں کی مختصر فاصلے کی پیش گوئی)  میں مدد فراہم کرتے ہیں ۔

ڈی ڈبلیو آر مشاہدات راڈار کے کوریج ایریا کے اندر کلاؤڈ امیجری اور ہوا کی رفتار کی پیمائش کی شکل میں ہر دس منٹ میں دستیاب ہوتے ہیں ۔ یہ مشاہدات مسلسل نگرانی کی حمایت کرتے ہیں اور مختصر وقت کے فریم ورک  (ایک گھنٹے تک) کے اندر بھاری بارش کے اوقات کی نو کاسٹ جاری کرنے کے قابل بناتے ہیں ۔

شدید موسم  کے حالات کی نگرانی اور پیش گوئی کے لیے مشاہداتی نیٹ ورک کو مزید مضبوط کرنے اور اپ گریڈ کرنے کے لیے  ارضیاتی سائنس کی وزارت  ( ایم او ای ایس  ) کی طرف سے  مرکزی سیکٹر کی ایک نئی اسکیم  ‘‘ مشن موسم ’’  بھی شروع کی گئی ہے ، جس کا مقصد بھارت کو  ‘‘ موسم کے لیے تیار اور آب و ہوا کے لحاظ سے  آگاہ’’ ملک بنانا ہے  ، جس میں  بھارتی محکمۂ موسمیات ( آئی ایم ڈی  ) ایک اہم فریق ہے ۔

 

****************************

ضمیمہ -1

موسم سے متعلق مختلف خطرات کے حامل اضلاع کی فہرست:

ریاست کا نام

اضلاع

خطرات

ہماچل پردیش

بلاسپور، اونا، سرمور، ہمیر پور، سولن، منڈی، کانگڑہ، کلّو، چمبا، شملہ  ، کنور، لاہول اور اسپیتی

برف باری کے واقعات

جموں و کشمیر  ( مرکز کے زیر ِ انتظام علاقہ )

مظفرآباد، میرپور، سانبا ، کٹھوعہ، جموں، ریاسی، اودھم پور، راجوری  ، بڈگام، کلگام، ڈوڈا، شوپیاں، کشتواڑ، پلوامہ، پونچھ، گاندر بل، باندی پور، رامبن، اننت ناگ، سری نگر، بارہمولہ ، کپواڑہ

اتراکھنڈ

اودھم سنگھ نگر، نینی تال، چمپاوت، باگیشور، اترکاشی، پتھوڑا  گڑھ، ہری دوار،  ٹہری گڑھوال، رودر پریاگ، الموڑا، پوڑی گڑھوال، چمولی، دہرادون

ہماچل پردیش

بلاسپور، اونا، سرمور، ہمیر پور، سولن، منڈی، کانگڑہ، کلّو، چمبا، شملہ، کنور، لاہول اور اسپیتی

سرد لہر

جموں و کشمیر ( مرکز کے زیر ِ انتظام علاقہ )

کپواڑہ، باندی پور، بارہمولہ، گاندر بل، اننت ناگ، کشتواڑ، سری نگر، بڈگام، پلوامہ، پونچھ، شوپیاں، کلگام، راجوری، رامبن، ریاسی، ڈوڈہ، جموں،  کٹھوعہ ، اودھم پور ،سانبا ، مظفرآباد، میرپور

اتراکھنڈ

الموڑا، باگیشور، چمولی، چمپاوت، دہرا دون، ہری دوار، نینی تال، پوڑی گڑھوال، پتھوڑا  گڑھ، رودر پریاگ، ٹہری گڑھوال، ادھم سنگھ نگر، اترکاشی

ہماچل پردیش

بلاسپور، اونا، سرمور، ہمیر پور، سولن، منڈی، کانگڑہ، کلّو، چمبا، شملہ، کنور، لاہول اور اسپیتی

گرج چمک

جموں و کشمیر ( مرکز کے زیر ِ انتظام علاقہ )

کٹھوعہ، کپواڑہ، مظفرآباد، کشتواڑ، باندی پور، میرپور، ڈوڈا، پونچھ، بارہمولہ، ادھم پور، گاندر بل، راجوری، بڈگام، شوپیاں، سری نگر، اننت ناگ،  پلوامہ ،  ریاسی ، کلگام ، رامبن ، سانبا، جموں

اتراکھنڈ

اودھم سنگھ نگر،پتھوڑا گڑھ ، ہری دوار ، پوڑی گڑھوال ، چمپاوت ،  باگیشور،  چمولی ،نینی تال ، الموڑہ ، رودر پریاگ ، اتر کاشی، دہرادون ٹہری گڑھوال

 

ہماچل پردیش

بلاسپور، اونا، سرمور، حمیر پور، سولن، منڈی، کانگڑا، کلّو، چمبا، شملہ، کنور ، لاہول اور اسپیتی

 گرج چمک

جموں و کشمیر ( مرکز کے زیر ِ انتظام علاقہ )

کپواڑہ، راجوری، جموں، بارہمولہ

اتراکھنڈ

نینی تال، پوڑی گڑھوال، اتر کاشی، دہرا دون، ہری دوار، چمپاوت، چمولی، ادھم سنگھ نگر، الموڑا، رودر پریاگ، باگیشور، پتھوڑا گڑھ

ہماچل پردیش

لاہول اور اسپیتی، بلاسپور، اونا، سرمور، کنور، چمبا، سولن، ہمیر پور، منڈی، کلّو، کانگڑا ، شملہ

سیلاب

جموں و کشمیر ( مرکز کے زیر ِ انتظام علاقہ )

کلگام، باندی پور، شوپیاں، مظفر آباد، گاندر بل، کشتواڑ، کپواڑہ، میرپور، سانبا، بڈگام، رامبن، اودھم پور، اننت ناگ، کٹھوعہ، راجوری، بارہمولہ، پونچھ ،  پلوامہ، ریاسی، ڈوڈا، سری نگر، جموں

اتراکھنڈ

باگیشور، ہری دوار، رودر پریاگ، چمپاوت، ادھم سنگھ نگر، الموڑہ، دہرا دون، نینی تال، اتر کاشی، پوڑی گڑھوال،  ٹہری گڑھوال، چمولی، پتھوڑا گڑھ

 

ضمیمہ-2

 

آئی ایم ڈی کے ذریعے حالیہ برسوں میں حاصل  کردہ بڑے اہداف مندرجہ ذیل ہیں:

  • ڈوپلر ویدر راڈار (ڈی ڈبلیو آر) نیٹ ورک  میں  توسیع  ، 2014  ء میں 15  تھی ، جو اب  47  ہو گئی ہے ۔
  • خودکار موسم اسٹیشنوں (اے ڈبلیو ایس) کی تعداد  2014  ء میں 675  تھی ، جو اب بڑھ کر  1208 ہو گئی ہے ۔
  • آٹومیٹک رین گیجز (اے آر جی) کی تعداد 2014  ء میں 1350 سے بڑھ کر 1382 ہو گئی ۔
  • ہائی ونڈ اسپیڈ ریکارڈرز میں 2014  ء میں 19  تھی ، جو اب بڑھ کر  35 تک  ہو گئی ہے  ۔
  • اس وقت 200 اے جی آر او اے ڈبلیو ایس ہیں ، جب کہ 2014  ء میں کوئی اے جی آر او اے ڈبلیو ایس نہیں تھا ۔
  • اوپری  سطح کی ہوا کے مشاہداتی نظام میں  اضافہ ہوا ہے ، 2014  ء میں 43  تھی ، جو اب بڑھ کر  2024  ء میں 56  ہو گئی ہے ۔
  • ملک بھر کے مختلف ہیلی پورٹ پر 15 ہیلی پورٹ  موسم مشاہداتی نظام ( ایچ اے ڈبلیو او ایس ) نصب کیے گئے ہیں ، جب کہ 2014  ء میں ایک بھی موسم مشاہداتی نظام ( ایچ اے ڈبلیو او ایس ) نہیں تھا ۔
  • ملک بھر کے مختلف ہوائی اڈوں پر پانچ  خود کار موسم مشاہداتی نظام (اے ڈبلیو او ایس) نصب کیے گئے ہیں ۔
  • 2017  ء میں کثیر  مشن ڈاٹا  حاصل کرنے اور  پروسیس کرنے کے  نظام (ایم ایم ڈی آر پی ایس) کی تنصیب  کی گئی اور 2021 ء میں اپ گریڈ شدہ نظام  نصب کیا گیا ۔  پانی کے بخارات کے بندوبست کے نظام کےلیے کل  25 گلوبل نیویگیشن سیٹلائٹ  نظام (جی این ایس ایس)  کو نصب کیا گیا ، جو سیٹلائٹ میٹرولوجیکل سروسز کو جدید تر بنانے کے لیے  ایک اہم اقدام ہے ۔
  • آئی ایم ڈی کی  عددی موسمی پیش گوئی ماڈلنگ کی صلاحیتیں بھی نئی بلندیوں پر پہنچ گئی ہیں  ، جس میں بہتر متحرک ماڈل آپریشنل طور پر بغیر کسی رکاوٹ کے چند گھنٹوں کے لیے نوکاسٹ سے لے کر ایک سیزن تک کی پیش گوئی کے ساتھ طویل فاصلے تک موسم کی  پیش گوئیوں تک چلتے ہیں ۔
  • اثرات  پر مبنی پیش گوئی کی تکنیک کے ساتھ جی آئی ایس پلیٹ فارم اور  فیصلہ سازی کے سپورٹ نظام کو مقامی  طور پر جدید بنانے  سے آئی ایم ڈی کو خدمت کے ایک نئے دور میں داخل ہونے کے قابل بنایا  گیا ۔
  • زیادہ تر معاملات میں صفر غلطی کے ساتھ طوفان کے  ساحل پار کرنے  کے بالکل درست مقام  کی نشاندہی کے ساتھ پیش گوئی کی گئی ہے  (پیش گوئی سے  قبل 24 گھنٹے  میں 20 کلومیٹر) ۔
  • شدید بارش کی 24 گھنٹے کی پیش گوئی کی درستگی تقریبا 80 فی صد  ، گرج چمک کے ساتھ 86 فی صد  ، گرمی کی لہر اور سردی کی لہر تقریباً  88 فی صد  ہے ۔
  • آئی ایم ڈی نے متحرک  بندوبست میٹوگرام ‘‘ موسم گرام ’’  جیسے اختراعی حل پیش کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کا  استعمال کیا ہے  ، جو کسی بھی وقت تمام مقامات پر موسم سے متعلق معلومات فراہم کرتا ہے ۔
  • فی الحال آئی ایم ڈی  ملک بھر میں تقریبا ً 1206 اسٹیشنوں ،  ضلعی سطح  کے 1200 سے زیادہ اسٹیشنوں کے لیے شہروں میں پیش گوئی  نیز پورے ملک میں  شعبہ جاتی پیش گوئی اور انتباہ  سے متعلق خدمات فراہم کر رہا ہے ۔
  • آئی ایم ڈی نہ صرف  بھارتی خطے کی ضروریات کو پورا کر رہا ہے بلکہ سارک ممالک کو پیش گوئی اور انتباہ سے متعلق خدمات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ شمالی بحر ہند کے 13 ممالک کو طوفان کی پیش گوئی اور انتباہ سے متعلق  خدمات بھی فراہم کر رہا ہے ۔
  • محکمہ موسمیات ( آئی ایم ڈی  ) ممبئی اور چنئی کے لیے ایک مربوط سیلاب وارننگ  نظام ،  بھارت ، بنگلہ دیش ، بھوٹان ، نیپال اور سری لنکا کے لیے  اچانک سیلاب  کی رہنمائی سے متعلق خدمات ، آئی جی آئی ہوائی اڈے ، نئی دلّی وغیرہ کے لیے موسم سرما کی دھند کی پیشن گوئی کے لیے بھی مدد فراہم کرتا ہے ۔
  • محکمہ موسمیات ( آئی ایم ڈی  ) نے 2021  ء میں ساحل سے متصل اور  ساحل سے دور صنعتوں ، ہوائی اڈوں ، بندرگاہوں ، انڈین ایئر فورس ، انڈین آئل کارپوریشن ، نیوکلیئر پاور کارپوریشن آف انڈیا ، سمندری موسم کی پیش گوئی ، طوفان کی پیش گوئی ، گرمی کی لہر کی پیش گوئی، تحریری طور پر  گرج چمک کی پیش گوئی ، گرافک اور جی آئی ایس پلیٹ فارم کے ساتھ سماجی و اقتصادی خصوصیات ، خطرے اور اثرات کے ماڈلنگ کے ساتھ ساتھ خطرے کی تشخیص کے لیے اپنی مرضی کے مطابق مقام کی مخصوص پیش گوئی متعارف کرائی ہے ۔
  • پنچایت موسم سیوا کا آغاز 15 جنوری  ، 2024 ء کو پنچایت کی سطح پر ایگرومیٹ خدمات کو وسیع پیمانے پر کیا گیا تھا ۔
  • بجلی کے سیکٹر کے ساتھ تعاون اور پیش گوئی کی فراہمی  ، بجلی کے شعبے کی معیشت اور قابل تجدید توانائی کے استعمال کو بہتر بنانے کے قابل بناتی ہے ۔

 

****************************

( ش ح ۔  م  ع  ۔ ع ا )

U.No. 575

 


(रिलीज़ आईडी: 2214560) आगंतुक पटल : 14
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी