محنت اور روزگار کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

غیر منظم مزدوروں کے لیے سماجی تحفظ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 18 DEC 2025 6:25PM by PIB Delhi

مرکزی حکومت نے پچھلے 29 مرکزی لیبر ایکٹ کی متعلقہ دفعات کو یکجا کرنے ، آسان بنانے اور معقول بنانے کے بعد چار لیبر کوڈ ، یعنی کوڈ آن ویجز ، 2019 ، انڈسٹریل ریلیشنز کوڈ ، 2020 ، کوڈ آن سوشل سیکیورٹی ، 2020 اور اوکیوپیشنل سیفٹی ، ہیلتھ اینڈ ورکنگ کنڈیشنز کوڈ ، 2020 وضع کیے ہیں ۔  چار لیبر کوڈز پورے ملک میں 21 نومبر 2025 سے نافذ العمل ہیں ۔

چاروں لیبر کوڈز تعریفوں اور اختیارات کی تعداد میں کمی کرتے ہیں، ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دیتے ہیں اور نفاذ میں شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بناتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ مزدوروں، خصوصاً غیر منظم شعبے کے کارکنان کے تحفظ کو مضبوط بناتے ہیں۔ لیبر کوڈز میں غیر منظم کارکنان کے لیے سماجی تحفظ کو یقینی بنانے کی متعدد دفعات شامل ہیں۔

سماجی تحفظ ضابطہ، 2020 کے تحت

  • تمام کارکنان بشمول غیر منظم کارکنان، گیگ اور پلیٹ فارم ورکرز کے لیے سماجی تحفظ کی فراہمی۔
  • روزگار کی نئی اقسام کو مدنظر رکھتے ہوئے ایگریگیٹر) ایک ایسا ڈیجیٹل ثالث یا مارکیٹ پلیس جہاں خریدار یا خدمات کا استعمال کرنے والا شخص فروخت کنندہ یا خدمت فراہم کرنے والے سے جڑ سکتا ہو(، گیگ اور پلیٹ فارم کارکنان کی تعریفیں متعارف کرائی گئیں۔
  • ایمپلائز اسٹیٹ انشورنس کارپوریشن (ای ایس آئی سی) کی ملک گیر کوریج، جو پہلے صرف نوٹیفائیڈ اضلاع یا علاقوں تک محدود تھی۔
  • 10 سے کم ملازمین رکھنے والے اداروں کے لیے رضاکارانہ بنیاد پر ای ایس آئی سی کی سہولت۔
  • خطرناک عمل میں مصروف اداروں کے لیے، چاہے ایک ہی ملازم کیوں نہ ہو، لازمی ای ایس آئی سی کوریج۔
  • ایمپلائز پروویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن (ای پی ایف او) کی جامع کوریج، جو اب 20 یا اس سے زیادہ ملازمین رکھنے والے تمام اداروں پرنافذ ہے۔
  • سماجی تحفظ ضابطہ، 2020 کی دفعہ 45 کے مطابق، مرکزی حکومت نوٹیفکیشن کے ذریعے غیر منظممزدوروں، گیگ اور پلیٹ فارم کارکنان اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے کارپوریشن کی جانب سے باب چہارم (ای ایس آئی سی) کے تحت قابلِ قبول فوائد فراہم کرنے کی اسکیم بنا سکتی ہے۔

 

اجرت ضابطہ 2019 کے تحت:

  • کم از کم اجرت کا اطلاق تمام شعبوں میں، جو پہلے صرف مخصوص شعبوں تک محدود تھا۔
  • کم از کم اجرت کو قانونی حیثیت دے دی گئی ہے، جسے مرکزی حکومت کے ذریعے نوٹیفائی کیا جائے گا۔ متعلقہ حکومت کی جانب سے مقرر کی گئی کم از کم اجرت کی شرح، مقررہ کم از کم اجرت سے کم نہیں ہوگی۔
  • صنفی غیر جانبداری کو فروغ دینا اور ٹرانسجینڈر سمیت بھرتی اور اجرت کی ادائیگی میں امتیازی سلوک کو روکنا ۔
  •  تمام ملازمین کو بروقت اجرت کی ادائیگی۔
  • تنخواہ کے 50 فیصد سے زیادہ الاؤنسز کو تنخواہ کا حصہ بنایا جائے گا، جس سے زچگی کے فوائد، گریجویٹی، ایمپلائز پروویڈنٹ فنڈ (ای پی ایف)، ایمپلائز پنشن اسکیم (ای پی ایس) میں شراکت وغیرہ میں اضافہ ہوگا۔ ۔

او ایس ایچ اور ڈبلیو سی ضابطہ 2020 کے تحت:

  • مقررہ عمر سے زائد ملازمین کے لیے آجر (ملازمت دینے والے)کی جانب سے مفت سالانہ طبی معائنہ۔
  • بین ریاستی مہاجر مزدور کی تعریف میں توسیع، جس میں ٹھیکیدار کے ذریعہ ملازمت کرنے والے مہاجر مزدور اور خود نقل مکانی کرنے والے کارکن بھی شامل ہیں ۔۔ انہیں (الف) سالانہ سفری الاؤنس اور (ب) فوائد کی منتقلی کی سہولت حاصل ہوگی۔

ایمپلائز اسٹیٹ انشورنس کارپوریشن (ای ایس آئی سی) کی کوریج کو ملک بھر میں توسیع دی گئی ہے، جو پہلے صرف مخصوص اضلاع یا علاقوں تک محدود تھی۔ اس کے علاوہ، 10 سے کم ملازمین رکھنے والے اداروں کے لیے رضاکارانہ بنیاد پر ای ایس آئی سی کوریج متعارف کرائی گئی ہے۔ مزید یہ کہ مرکزی حکومت کی جانب سے نوٹیفائیڈ خطرناک پیشوں میں مصروف اداروں پر، چاہے ایک ہی ملازم کیوں نہ ہو، ای ایس آئی سی کے فوائد نافذکیے جا سکتے ہیں۔

***

ش ح۔ش آ۔ م ذ

 U.N.524


(ریلیز آئی ڈی: 2214253) وزیٹر کاؤنٹر : 22
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी