زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
تحقیق، اختراع اور توسیعی خدمات کو مضبوط بنانے کے لیے آئی سی اے آر اور این ڈی ڈی بی کے درمیان اسٹریٹجک اتحاد
تحقیق اور فیلڈ سطح کے اشتراک کے ذریعے نچلی سطح پر ڈیری ترقی کو فروغ دینے کے لیے آئی سی اے آر–این ڈی ڈی بی کے درمیان مفاہمت نامہ
प्रविष्टि तिथि:
12 JAN 2026 6:22PM by PIB Delhi
زراعتی ریسرچ کی بھارتی کونسل اور نیشنل ڈیری ڈیولپمنٹ بورڈ کے درمیان ڈیری شعبے میں کثیر جہتی تحقیق، اختراع اور صلاحیت سازی کے فروغ کے لیے ایک تاریخی مفاہمت نامہ (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے ہیں۔اس اشتراکِ عمل کے تحت ڈیری شعبے کے تمام اہم پہلوؤں—بشمول دودھ کی پیداوار، پروسیسنگ اور اقدار میں اضافہ—میں تعاون کو وسعت دی جائے گی۔ شراکت داری کا مرکزی مقصد ملک بھر میں موجود ڈیری شعبے کے بنیادی فریقین، خصوصاً لاکھوں دودھ پیدا کرنے والے کسانوں کو بااختیار بنانا ہے۔یہ مفاہمت نامہ جدید سائنسی تحقیق اور عملی اختراعات کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ افرادی قوت کی صلاحیت میں اضافہ، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں بھی معاون ثابت ہوگا، جس سے مجموعی طور پر ہندوستانی ڈیری شعبہ مزید مضبوط اور مسابقتی بن سکے گا۔

مفاہمت نامہ پر ڈاکٹر راگھویندر بھٹّا، نائب ڈائریکٹر جنرل (اینمل سائنس)، زراعتی ریسرچ کی بھارتی کونسل (آئی سی اے آر) اور شری ایس رگوپتی، ایگزیکٹو ڈائریکٹر (آپریشنز)، نیشنل ڈیری ڈیولپمنٹ بورڈ (این ڈی ڈی بی) نے دستخط کیے۔ اس موقع پر محکمہ زرعی تحقیق و تعلیم (ڈی اے آر ای)، حکومتِ ہند کے سکریٹری اور آئی سی اے آر کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر مانگی لال جات اور این ڈی ڈی بی کے چیئرمین ڈاکٹر مینش شاہ کی معزز موجودگی رہی۔

ڈاکٹر مانگی لال جاٹ، ڈائریکٹر جنرل، آئی سی اے آر نے ادارہ جاتی حدبندیوں کو توڑتے ہوئے باہمی تکمیلی تحقیق کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے مربوط زرعی نظام اپنانے کی ضرورت پر زور دیا اور اطمینان ظاہر کیا کہ یہ مفاہمت نامہ موسمیاتی لچک، کم پیداواری صلاحیت اور ویلیو چین کی ترقی جیسے پیچیدہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک منظم شراکت داری کی راہ ہموار کرے گی۔انہوں نے آوارہ مویشیوں کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے گوشالاؤں کو اپنانے، اور گوبر کے انتظام اور بایوگیس کے استعمال کے لیے پائیدار ماڈلز تیار کرنے کا بھی مشورہ دیا۔ مزید برآں، انہوں نے مویشیوں کی پیداواری صلاحیت میں اضافے کے لیے چارے کی نہایت اہمیت کو اجاگر کیا۔ڈاکٹر مانگی لال نے کہا کہ یہ تمام اقدامات آئی سی اے آر کے اداروں سے سامنے آنے والی تازہ ترین اختراعات اور جدید ٹیکنالوجیوں کی بنیاد پر انجام دیے جائیں گے۔

ڈاکٹر مینش سی شاہ نے اس بات پر زور دیا کہ یہ شراکت داری ’’وکست بھارت‘‘ کے وژن کی تکمیل کے لیے مربوط سائنسی اشتراک کا دنیا کے بڑے پلیٹ فارمز میں سے ایک بننے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ این ڈی ڈی بی ماضی میں آئی سی اے آر کے اداروں کے ساتھ راشن بیلنسنگ، منرل میپنگ اور ٹوٹل مکسڈ راشن جیسے کئی مشنوں پر کام کر چکا ہے۔ انہوں نے ایتھنو ویٹرنری میڈیسن کے شعبے میں باہمی تعاون کے مواقع کو اجاگر کیا اور قومی مفاد میں مویشی پروری اور زراعت کے شعبوں میں ابھرتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے این ڈی ڈی بی کی تیاری کا اظہار کیا۔ انہوں نے ملک کے مختلف زرعی و موسمی خطوں میں قابلِ توسیع اور قابلِ تقلید ماڈلز تیار کرنے کے ہدف پر بھی زور دیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے پھلوں اور سبزیوں، تیل دار اجناس، چارہ، دودھ اور دودھ سے تیار مصنوعات کی اقدار میں اضافے میں تعاون کے امکانات کی نشاندہی کی۔
یہ مفاہمت نامہ، آئی سی اے آر کی سائنسی اور تحقیقی مہارت کو این ڈی ڈی بی کے وسیع فیلڈ لیول تجربے اور مضبوط ادارہ جاتی صلاحیتوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کا ہدف رکھتی ہے، تاکہ خاص طور پر نچلی سطح پر ڈیری کے اقدار کے سلسلے میں ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹا جا سکے۔ اس اشتراک میں علم کے تبادلے، ٹیکنالوجی کی ترقی اور اس کی توثیق، انسانی وسائل کی ترقی، اور محققین، ماہرین اور کسانوں کے لیے مشترکہ تربیتی پروگراموں کے انعقاد پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔ توقع ہے کہ یہ مفاہمت نامہ تحقیقی نتائج کو عملی اور فیلڈ لیول حل میں مؤثر طور پر منتقل کرنے میں مدد دے گی، جس سے ڈیری شعبے میں پیداواری صلاحیت، منافع اور پائیداری میں اضافہ ہوگا۔
اس موقع پر آئی سی اے آر اور این ڈی ڈی بی کے سینئر افسران اور ممتاز نمائندے موجود تھے۔
******
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U : 478 )
(रिलीज़ आईडी: 2213924)
आगंतुक पटल : 8