جل شکتی وزارت
زیر زمین پانی کے مرکزی بورڈ
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
01 DEC 2025 7:09PM by PIB Delhi
زیر زمین پانی کے مرکزی بورڈ(سی جی ڈبلیو بی) ملک بھر کے مینول مانیٹرنگ اسٹیشنز کے ذریعے سال میں چار مرتبہ زیرِ زمین پانی کی سطح کی نگرانی کرتا ہے۔
حکومت ملک کے زیرزمین پانی کے وسائل کے مستحکم انتظام اور ترقی کو یقینی بنانے کے لیے دانشمندانہ نکاسی کے ضابطے اور تحفظ کے ٹھوس اقدامات کے ذریعے پرعزم ہے۔سی جی ڈبلیو بی کے دستیاب اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں ملک کے مجموعی زیر زمین پانی کی صورتحال میں مسلسل بہتری آ رہی ہے۔
کرناٹک کے بنگلورو شہری، چکّابلاپورا اور کولار اضلاع کے حوالے سے یہ قابل ذکر ہے کہ ان اضلاع میں سی جی ڈبلیو بی کے مانیٹرنگ اسٹیشنز سے حاصل شدہ زیر زمین پانی کی سطح کے اعداد و شمار کے تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ تقریباً 76.7؍فیصد مانیٹرنگ کنوؤں (43 میں سے 33 کنوؤں) میں گزشتہ دس سالوں (2014 سے 2023 کےنومبر کے ماہ تک) کے مانسون کے بعد اوسط دہائی کے زیر زمین پانی کی سطح کے مقابلے میں نومبر 2024 (2024 مانسون کے بعد) میں زیرزمین پانی کی سطح میں اضافہ ہوا ہے۔
جل شکتی کی وزارت کے تحت زیر زمین پانی کے مرکزی بورڈ( سی جی ڈبلیو اے) مرکزی سطح پر زیرزمین پانی کی نکاسی کے ضابطے کا کام کرتی ہے۔ اس کے علاوہ 17 ریاستوں/مرکزی زیرانتظام علاقوں کے پاس اپنا ضابطہ کار/ادارہ موجود ہے۔ سی جی ڈبلیو اے کے ذریعے پورے ہندوستان میں نافذ ہونے والے 24.09.2020 کے ہدایات کے مطابق مختلف مقاصد کے لیے زیر زمین پانی کی نکاسی کے لیے نو آبجکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) جاری کیا جاتا ہے۔سی جی ڈبلیو اےکئی سخت اقدامات کر رہا ہے، جس میں زیرزمین پانی کے غیر قانونی نکاسی پر بھاری جرمانہ اور ماحولیاتی نقصان کی تلافی(ای سی) چارجز عائد کرنا اور یہاں تک کہ بعض معاملات میں بورویلز کو سیل کرنا بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ ان ہدایات کے تحت ضلع کلکٹر/کمشنر ؍ضل(ڈی سی ایز) ضلع مجسٹریٹ(ڈی ایم) کو بھی اس کے ضوابط کی خلاف ورزی کی صورت میں نفاذی اقدامات کرنے کے لیے اختیار دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ زیرزمین پانی کے وسائل کے مناسب ضابطہ کاری اور انتظام کے لیے ریاستوں کو ان کی کوششوں میں مدد فراہم کرنے کے لیے وزارت نے ایک ماڈل زیرِ زمین پانی (ترقی اور انتظام کی ضابطہ کاری اور کنٹرول) بل کا مسودہ تیار کیا، جس میں بارش کے پانی کے ذخیرے اور مصنوعی ریچارج کے لیے شقیں شامل کی گئی ہیں اور زیر زمین پانی کے غیر محتاط نکاسی کو روکنے کے لیے ایک ضابطہ کار فریم ورک فراہم کیا گیا ہے۔ اس ماڈل بل کو تمام ریاستوں/مرکز کےزیرانتظام علاقوں میں متعارف کروایا گیا ہے اور اب تک کرناٹک سمیت 21 ریاستوں؍مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے اسے اپنایا ہے۔ اس کے علاوہ وزارت ریاستوں کو ان کے ضابطہ کار نظام میں بہتری لانے اور زیر زمین پانی کے تحفظ کی کوششوں میں تیزی لانے کے لیے باقاعدگی سےسرکار رہنمائی / خطوط جاری کرتی رہتی ہے۔
چونکہ پانی ریاست کے دائرہ اختیار میں ہے، اس لیے زیرزمین پانی کے وسائل کی مستحکم ترقی اور انتظام کی ذمہ داری بنیادی طور پر ریاستی حکومتوں کی ہے۔ تاہم مرکزی حکومت اپنی مختلف اسکیموں اور منصوبوں کے ذریعے تکنیکی اور مالی معاونت فراہم کرکے ریاستی حکومتوں کی کوششوں میں مدد کرتی ہے۔
- اس سلسلے میں کرناٹک سمیت پورے ملک کے زیر زمین پانی کے وسائل کے فروغ کے لیے مرکزی حکومت کی کوششیں بنیادی طور پر ’جل شکتی مہم‘(جے ایس اے) کی اہم مہم کے ذریعے کی جاتی ہیں۔جے ایس اے وزارت برائے جل شکتی کی جانب سے 2019 سے ہر سال چلائی جانے والی مقررہ وقت پر مشن موڈ پروگرام ہے۔ اس کے تحت زمینی سطح پر پانی کے ذخیرے اور مصنوعی بحالی کے کاموں کو انجام دینے کے لیے مختلف اسکیموں اور منصوبوں کے تحت تمام کوششوں اور فنڈز کو یکجا کیا جاتا ہے۔
- اس وقت جے ایس اے 2025 چلایا جا رہا ہے ،جس میں زیادہ خشک اور سنگین علاقوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق جے ایس اے کے تحت گزشتہ 4 ؍برسوں میں ملک میں جامع کوششوں کے ذریعے تقریباً 1.21 کروڑ پانی کے تحفظ اور مصنوعی ریچارج کے کاموں کا ہم آہنگی کے ساتھ نفاذ کیا گیا ہے۔
- اس کے علاوہ جل شکتی مہم کی رفتار کو اور بہتربنانے کے لیے عزت مآب وزیراعظم نے ملک میں بارش کے پانی کے ذخیرے کو ایک عوامی تحریک بنانے کے وژن کے تحت ’جل سنچے بھاگیداری(جے ایس جے بی):ہندوستان میں پانی کی پائیداری کی طرف ایک ’کمیونٹی پر مبنی -چلائی جانے والی مہم’ کا آغاز کیا ہے۔ یہ اقدام کا مقصد کمیونٹی کی ملکیت اور ذمہ داری کو فروغ دے کر مختلف علاقوں کےمخصوص پانی کی چیلنجز کے مطابق کم خرچ اور مقامی حل فراہم کرنا ہے۔
- جل شکتی کی وزارت نے اٹل بھوجل یوجنا کے ذریعے کمیونٹی کی قیادت میں زیر زمین پانی کے انتظام کی افادیت کا کامیابی سے مظاہرہ کیا ہے ، جسے 7 ریاستوں کے 80 پانی کی قلت والے اضلاع میں نافذ کیا گیا تھا ۔اس اقدامات میں بارش کے پانی کے مختلف ذخیرہ اندوزی اور ریچارج کےڈھانچے جیسے چیک ڈیم ، تالاب ، شافٹ وغیرہ کی تعمیر شامل ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ چھوٹے آبپاشی کو فروغ دینے کا کام ، تحفظ اور اسکیم کے تحت ترغیبی فنڈز کے استعمال کے ذریعے شروع کیا گیا ۔
- وزات برائے جل شکتی سطحی پانی اور زیر زمین پانی کے مشترکہ استعمال کو فروغ دے رہی ہے اور زیر زمین پانی پر انحصار کو کم کرنے کے لیے ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے تعاون سے پی ایم کے ایس وائی-اے آئی بی پی اسکیم کے تحت ملک میں سطحی پانی پر مبنی بڑے اور درمیانے درجے کے آبپاشی کے منصوبے شروع کیے گئے ہیں ۔
- حکومت ہند کے زراعت اور کسانوں کے فلاح و بہبود کا محکمہ(ڈی اے اینڈ ایف ڈبلیو) کے ذریعے16-2015 سے ملک میں پر’ ڈراپ مور کراپ‘ (پی ڈی ایم سی) اسکیم کو نافذ کیا جا رہا ہے۔ یہ اسکیم دستیاب زیرزمین پانی کے وسائل کے بہترین استعمال کے لیےچھوٹے پیمانے پر آبپاشی اور اچھے طریقے سے پانی کے انتظام کی مشقوں کے ذریعے کھیت کی سطح پر پانی کے استعمال کی کارکردگی بڑھانے پر زور دیتی ہے۔
- حکومتِ ہند نے مشن امرت سرور شروع کیا تھا، جس کا مقصد ملک کے ہر ضلع میں کم از کم 75 آبی ذخائر کی ترقی اور بحالی کرنا تھا۔ اس کے نتیجے میں ملک میں تقریباً 69,000 امرت سرور تعمیر/بحال کیے گئے ہیں، جس سے پانی کے ذخیرہ اور زیرِ زمین پانی کے ریچارج میں اضافہ ہوا ہے۔
- زیر زمین پانی سے متعلق مرکزی بورڈ نے پانی کے ذخائر کی صورتحال کا تعین کرنے اور ان کی خصوصیات کو درج کرنے کے لیے ’’نیشنل واٹر ریزروائر میپنگ اینڈ مینجمنٹ پروگرام (این اے کیو یو آئی ایم)‘‘ شروع کیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت نقشہ سازی کے قابل ملک کے تقریباً 25 لاکھ مربع کلومیٹر علاقے کا نقشہ تیار کیا جا چکا ہے اور ان انتظامی منصوبوں کو نفاذ کے لیے متعلقہ ریاستی حکومتوں کے ساتھ اشتراک کیا گیا ہے۔ ان منصوبوں میں پانی کی طلب کے انتظام کے ساتھ ساتھ مصنوعی ریچارج ڈھانچوں کی تعمیر کی سفارشات بھی شامل ہیں۔
یہ معلومات مرکزی وزیر برائے جل شکتی جناب راج بھوشن چودھری نے راجیہ سبھا میں تحریری سوال کے جواب میں فراہم کی ہیں۔
******
UR-0355
(ش ح۔ م ع ن-ن م)
(ریلیز آئی ڈی: 2212997)
وزیٹر کاؤنٹر : 12