جل شکتی وزارت
ندیوں کا احیاء اور آلودگی کنٹرول
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
01 DEC 2025 7:15PM by PIB Delhi
دریاؤں کی صفائی اور احیاءایک مسلسل عمل ہے۔ یہ ریاستوں؍مرکزکے زیر انتظام علاقوں(یو ٹی ایز) مقامی اداروں اور صنعتی یونٹس کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ سیوریج اور صنعتی فضلہ کو مقررہ معیار کے مطابق دریاؤں، دیگر آبی ذخائر، ساحلی پانی یا زمین میں دبانے سے پہلے مناسب طریقے سے صاف کریں۔
سیوریج کی صفائی اور صنعتی آلودگی کے انتظام میں موجود خلاء کو پر کرنے کے لیے آبی وسائل، دریاؤں کی ترقی اور گنگاکی بحالی کے محکمے ریاستوں؍ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو مالی اور تکنیکی مدد فراہم کرتا ہے۔ یہ معاونت مرکزی شعبے کی اسکیم’نمامی گنگے‘کے ذریعے گنگا بیسن کی دریاؤں کے لیے اور دریاؤں کے تحفظ سے متعلق قومی پلان( این آر سی پی) کے مرکزی تعاون یافتہ اسکیم کے ذریعے دیگر دریاؤں کے لیے فراہم کی جاتی ہے۔مالی معاونت فنڈز کی دستیابی، این آر سی پی رہنما اصولوں کی پابندی اور ریاست/مرکز کےزیر انتظام علاقے کے فنڈ کے حصہ کی عزم کی بنیاد پر فراہم کی جاتی ہے۔
اس کے علاوہ رہائش اور شہری امور کی وزارت (ایم او یو ایچ اے) کے زیر انتظام، اٹل مشن برائے بحالی اور شہری تبدیلی(اے ایم آر یو ٹی)، اسمارٹ سٹیز مشن اور سوچھ بھارت مشن - اربن کی اسکیمیں بھی نافذ کی جاتی ہیں، جس کا مقصد مخصوص شہروں میں سیوریج کے بنیادی ڈھانچے کو قائم کرنا اور/یا بڑھانا ہے تاکہ سیوریج کی صفائی کے خلاء کو پورا کیا جا سکے اور اس طرح دریاؤں اور دیگر آبی ذخائر کے پانی کے معیار، صفائی کے نظام اور ان شہروں میں پانی کے انتظام کو بہتر بنایا جا سکے۔
ماحولیاتی (تحفظ) ایکٹ، 1986 اور پانی (آلودگی کی روک تھام اور کنٹرول) ایکٹ، 1974 کے تحت، ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں/مقامی اداروں اور صنعتی یونٹس پر یہ لازم ہے کہ وہ سیوریج اور فضلہ کی صفائی کے پلانٹس نصب کریں اور مقررہ اخراجی معیار کی تعمیل کریں۔ مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ (سی پی سی بی)، ریاستی آلودگی کنٹرول بورڈز(سی پی سی بیز) اور آلودگی کنٹرول کمیٹیاں (پی سی سیز) تعمیل کی نگرانی کرتی ہیں اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ صنعتوں کو ٹیکنالوجیکل ترقی، آلودہ پانی کے دوبارہ استعمال/ری سائیکل اور جہاں ممکن ہو زیرو لیکوڈ ڈسچارج (زیڈ ایل ڈی) کو برقرار رکھنے کے ذریعے اپنے آلودہ پانی کے کم کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔
اس کے علاوہ نیشنل گرین ٹربیونل(این جی ٹی) کے حکم نامے او اے نمبر 673/2018 کی تعمیل میں، ریاستیں/مرکز کے زیر انتظام علاقے (یو ٹی ایز) سی پی سی بی کی جانب سے شناخت شدہ آلودہ دریا کے حصوں کی بحالی کے لیے منظور شدہ ایکشن پلانز نافذ کر رہی ہیں۔
جل شکتی کی وزارت نے سیلاب زدہ علاقوں میں ترقیاتی سرگرمیوں کو منظم کرنے اور متعلقہ خطرات کو کم کرنے کے لیے ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو فلڈ پلین زوننگ سے متعلق تکنیکی رہنما خطوط جاری کیے ہیں ۔
2018 سے 2023 کی مدت کے دوران دریا کے کچھ حصوں کی آلودگی کی سطح میں کمی ظاہر کرنے والی ریاستیں؍مرکز کے زیر انتظام علاقے آندھرا پردیش ، آسام ، بہار ، دادرا اور نگر حویلی اور دمن اور دیو ، گوا ، ہماچل ، گجرات ، جموں و کشمیر ، جھارکھنڈ ، کرناٹک ، کیرالہ ، مدھیہ پردیش ، مہاراشٹر ، میگھالیہ ، میزورم ، ناگالینڈ ، اوڈیشہ ، پڈوچیری ، پنجاب ، راجستھان ، سکم ، تمل ناڈو ، تریپورہ ، تلنگانہ ، اتر پردیش ، اتراکھنڈ اور مغربی بنگال ہیں وغیرہ شامل ۔
نیشنل مشن فار کلین گنگا نے ٹریٹڈ ویسٹ واٹر(صنعت کے آلودہ پانی) کے دوبارہ استعمال کے لیے ایک قومی فریم ورک تیار کیا ہے ،جو ٹریٹڈ ویسٹ واٹر کے دوبارہ استعمال سے متعلق ریاستی پالیسیاں تیار کرنے میں ریاستوں کو رہنمائی فراہم کرتا ہے ۔ پانی کے دوبارہ استعمال کی کچھ قابل ذکر مثالیں گجرات ، مہاراشٹر ، اتر پردیش ، کرناٹک ، ہریانہ اور تامل نائیڈو ریاستوں سے ہیں ۔
سی پی سی بی ، ایس پی سی بی/پی سی سی کے ساتھ مل کر نیشنل واٹر کوالٹی مانیٹرنگ پروگرام (این ڈبلیو ایم پی) کے تحت پانی کے معیار کی نگرانی کرتا ہے ۔ اس وقت ملک بھر میں آبی ذخائر کے 4,736 مقامات کی نگرانی کی جا رہی ہے ، جن میں 2,155 دریا کے مقامات بھی شامل ہیں ۔ آلودہ دریاؤں کے حصوں کی بحالی کے منصوبے کے نفاذ کا جائزہ ریاستی سطح پر دریا کی بحالی کمیٹیوں اور مرکزی سطح پر مرکزی نگرانی کمیٹی کے ذریعے لیا جاتا ہے ۔
یہ معلومات وزیر مملکت برائے جل شکتی شری راج بھوشن چودھری نے آج راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کیں ۔
**********
UR-0354
(ش ح۔ م ع ن-ن م)
(ریلیز آئی ڈی: 2212979)
وزیٹر کاؤنٹر : 25