حکومت ہند کے سائنٹفک امور کے مشیر خاص کا دفتر
حکومتِ ہند کے پرنسپل سائنٹفک ایڈوائزر کے دفتر اور آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن (او آر ایف) نے رائے سینا سائنس سفارتکاری سے متعلق پہل (ایس ڈی آئی) کے اولین ایڈیشن کے لیے شراکت داری کا اعلان کیا
प्रविष्टि तिथि:
08 JAN 2026 3:57PM by PIB Delhi
حکومتِ ہند کے پرنسپل سائنٹفک ایڈوائزر کے دفتر (او پی ایس اے) اور آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن (او آر ایف) نے رائے سینا سائنس سفارتکاری سے متعلق پہل (2026) کے اولین ایڈیشن کے لیے شراکت داری کا اعلان کیا ہے۔

اس شراکت داری کا اعلان آج پی ایس اے کے دفتر میں منعقدہ اجلاس میں حکومتِ ہند کے پرنسپل سائنٹفک ایڈوائزر پروفیسر اجے کمار سود اور او آر ایف کے صدر ڈاکٹر سمیر سرن نے مشترکہ طور پر کیا۔ اجلاس میں پی ایس اے کے دفتر کی جانب سے ڈاکٹر پرویندر مائنی (سائنٹفک سکریٹری)، ڈاکٹر پریتی بنسل (ایڈوائزر/سائنٹسٹ-جی) اور ڈاکٹر بی۔ چگون باشا (چیف پالیسی ایڈوائزر)، جبکہ او آر ایف کی جانب سے محترمہ تنوبی نگانگوم (چیف آف اسٹاف اینڈ ڈائریکٹر-پروگرامز) اور محترمہ پلکِت موہن (ہیڈ آف فورمز) بھی موجود تھیں۔
ایس ڈی آئی اقدام کا مقصد رائے سینا ڈائیلاگ کے دائرہ کار میں ایک مخصوص پلیٹ فارم قائم کرنا ہے، جہاں سائنس، ٹیکنالوجی اور سفارت کاری کے امتزاج پر غور و فکر کیا جا سکے۔

پی ایس اے پروفیسر سود نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے اُس اہم کردار کو اجاگر کیا جو عالمی پالیسیوں اور سفارتی روابط کی تشکیل میں ادا کرتا ہے، خصوصاً اس پس منظر میں کہ بھارت کے لیے تقاضے، ترجیحات اور مواقع تیزی سے بدل رہے ہیں۔
اجلاس کے دوران ایس ڈی آئی اقدام کے ممکنہ موضوعات اور وسیع ایجنڈے پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ اقدام اس دور میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی سفارت کاری کے اہم پہلوؤں پر توجہ مرکوز کرے گا جس میں اسٹریٹجک خودمختاری، ابھرتی اور مداخلتی ٹیکنالوجیز کی حکمرانی، اور کثیر قطبی دنیا میں سائنسی و تکنیکی شراکت داری کی بدلتی ہوئی حقیقتوں کی سمت متعین کرنا شامل ہے۔ عصری مسائل جیسے ٹیکنالوجی کنٹرول نظام، تحقیقاتی تحفظ، اور عالمی معیارات کے تعین اور ضابطہ بندی کے عمل میں منصفانہ شرکت اس اقدام کے اہم ذیلی موضوعات ہوں گے۔ اس کے ساتھ ابھرتے ہوئے سائنسی رہنماؤں اور ڈیپ ٹیک کے موجدین کو شامل کرنے پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی، تاکہ انہیں بین الاقوامی ہم منصبوں کے ساتھ تبادلۂ خیال اور شراکت داری قائم کرنے کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
اس اقدام کا مقصد سائنس دانوں، سفارت کاروں، پالیسی سازوں اور صنعت کے رہنماؤں کے درمیان اعلیٰ سطحی غور و فکر کو فروغ دینا ہے تاکہ قابلِ عمل نکات سامنے آئیں اور سائنس و ٹیکنالوجی کی سفارت کاری پر عالمی مباحثوں میں مؤثر تعاون کیا جا سکے۔ اس میں اعلیٰ سطحی پلینری سیشنز کے ساتھ ساتھ ماہرین کی مخصوص گول میز کانفرنسیں بھی شامل ہوں گی، جو سائنسی سفارتیکاری کے مخصوص موضوعات اور موجودہ اہم مسائل پر روشنی ڈالیں گی۔ توقع ہے کہ اس اقدام سے سامنے آنے والی معلومات عالمی مباحثے کو مزید تقویت دیں گی اور خاص طور پر بھارت اور گلوبل ساؤتھ کی جانب سے نئی جہات اور قدر و قیمت پر مبنی تعاون سامنے لائیں گی۔
رائے سینا سائنس سفارتکاری سے متعلق پہل کے تحت رائے سینا مباحثے کا آئندہ ایڈیشن 5 تا 7 مارچ 2026 کو نئی دہلی میں منعقد ہونے والا ہے۔
*******
ش ح۔ع ح ۔ ا ک م
U.N-292
(रिलीज़ आईडी: 2212472)
आगंतुक पटल : 13