لوک سبھا سکریٹریٹ
صدر جمہوریہ ، نائب صدر جمہوریہ ، وزیر اعظم اور لوک سبھا اسپیکر نے بابا صاحب ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کو ان کے مہا پری نروان دیوس پر گلہائے عقیدت نذر کئے
ملک کے عوام بابا صاحب کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے بڑی تعداد میں پریرنا استھل کا دورہ کر رہے ہیں
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
06 DEC 2025 3:00PM by PIB Delhi
ہندوستان کی صدر جمہوریہ محترمہ دروپدی مرمو ؛ نائب صدر جمہوریہ اور راجیہ سبھا کے چیئرمین جناب سی پی رادھا کرشنن ؛ وزیر اعظم جناب نریندر مودی اور لوک سبھا کے اسپیکر جناب اوم برلا نے آج پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس میں پریرنا استھل میں بابا صاحب ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے مجسمے پر ان کے 70 ویں مہا پری نروان دیوس کے موقع پر پھولوں سے خراج عقیدت پیش کیا ۔
کئی مرکزی وزراء ؛ راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر جناب ملیکارجن کھڑگے ؛ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر جناب راہل گاندھی ؛ اراکین پارلیمنٹ ، سابق اراکین پارلیمنٹ اور دیگر معززین نے بھی اس موقع پر بابا صاحب ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے مجسمے پر خراج عقیدت پیش کیا ۔
لوک سبھا کے سکریٹری جنرل جناب اتپل کمار سنگھ اور راجیہ سبھا کے سکریٹری جنرل جناب پی سی مودی نے پریرنا استھل میں بابا صاحب ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کو گلہائے عقیدت نذر کئے۔
اس موقع پر جناب برلا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام میں کہا ،
"ہندوستان کے عظیم آئین کے معمار اور سماجی انصاف کے محافظ ، بھارت رتن بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے مہا پری نروان دیوس پر دلی خراج عقیدت ۔
مساوات ، انصاف ، تعلیم اور جامع ترقی پر مبنی معاشرے کا ان کا وژن آج بھی ملک کی ترقی کی رہنمائی کرتا ہے ۔ بابا صاحب نے ان بنیادی اصولوں کو ہندوستانی آئین میں بھی شامل کیا ۔ فلاحی ریاست کے تصور کے ساتھ ، انہوں نے لاکھوں ہم وطنوں کے لیے انصاف ، مساوات ، آزادی اور حقوق کی راہ ہموار کی ۔
ڈاکٹر امبیڈکر ، جنہوں نے قوم کی تعمیر اور آئین سازی میں اہم کردار ادا کیا ، نے ہندوستانی معاشرے کو بااختیار بنانے کے لیے بھی قابل ذکر کوششیں کیں ۔ مظلوموں ، محنت کش طبقے ، خواتین اور نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لیے انہوں نے جو پیغامات دیے وہ ایک ترقی پسند قوم کی تعمیر کے لیے تحریک کا ذریعہ ہیں ۔ آج بھی بابا صاحب کی تحریریں اور تقریریں انقلابی فکر اور اخلاقیات کے رہنما اصولوں کے طور پر کام کرتی ہیں ۔ دنیا میں جہاں کہیں بھی عدم مساوات یا چھوت چھات برقرار رہتی ہے ، ڈاکٹر امبیڈکر کا عالمی نظریہ اور ان کی زندگی بھر کی جدوجہد ایسے معاشروں کو جبر ، استحصال اور نا انصافی سے آزاد کرانے کے لیے راہ ہموار کرتی ہے۔
بابا صاحب امبیڈکر کا ماننا تھا کہ لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے تعلیم سب سے اہم ہتھیار ہے ۔ ان کا مطالبہ تھا: ‘‘ ایجوکیٹ، آرگنائیز ، ایجیٹیٹ’’ یعنی تعلیم دیں ، منظم کریں اور احتجاج کریں ۔ تعلیم کے شعبے میں انہوں نے نہ صرف اصول وضع کیے بلکہ انہیں عملی طور پر اپنے تعلیمی اداروں میں بھی نافذ کیا ۔
1924 کے آغاز میں بہشکرت ہٹکرنی سبھا کی تشکیل کے ساتھ ہی انہوں نے تعلیم کے شعبے میں اپنا کام شروع کیا ۔ سبھا نے تعلیم کو ترجیح دی اور پسماندہ برادریوں میں اعلی تعلیم اور ثقافتی ترقی کو فروغ دینے کے لیے خاص طور پر کالج ، ہاسٹل ، لائبریریاں ، سماجی مراکز اور مطالعاتی مراکز کھولے ۔ سبھا کی رہنمائی میں طلباء نے سرسوتی ولاس کے نام سے ایک ماہانہ جریدہ شائع کرنا شروع کیا ۔ 1925 میں ، سبھا نے سولاپور اور بیلگام میں ہاسٹل کھولے ، اور بمبئی میں اس نے ایک مفت مطالعاتی مرکز ، ایک ہاکی کلب ، اور مزید ہاسٹل قائم کیے ۔
1928 میں بابا صاحب ڈاکٹر امبیڈکر نے ڈپریسڈ کلاسز ایجوکیشن سوسائٹی قائم کی ۔ بعد میں ، 1945 میں ، انہوں نے معاشرے کے پسماندہ طبقات میں اعلی تعلیم کو بڑھانے کے لیے پیپلز ایجوکیشن سوسائٹی کی بنیاد رکھی ۔ اس ادارے کے ذریعے کئی کالج اور اسکول کھولے گئے ۔
ڈاکٹر امبیڈکر کی میراث ہندوستان کی قومی شناخت کا ایک لازم و ملزوم حصہ ہے ، اور ان کے خیالات آنے والی نسلوں کو تحریک دیتے رہیں گے ۔ بابا صاحب کی گہری ذہانت کی روشنی میں ہم اپنی زندگیوں ، اپنے معاشرے ، اپنی قوم اور دنیا کو ترقی کی راہ پر آگے بڑھا سکتے ہیں ۔ مساوات ، بھائی چارے اور انصاف پر مبنی سماج-ڈاکٹر امبیڈکر کا خواب-"ون انڈیا-بیسٹ انڈیا" کے تصور کو اپنانے سے ہی پورا ہو سکتا ہے ۔
ہم وطنوں کو ہماری قوم کی آزادی کی قدر کے بارے میں بیدار کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں اپنے خون کے آخری قطرے تک آزادی کے دفاع کا عہد کرنا چاہیے ۔ ان کے پیغامات اور نظریات لاکھوں ہندوستانیوں کو اپنی پوری زندگی ملک اور معاشرے کی خدمت میں تحریک دیتے رہیں گے "۔
*******
(ش ح –ا م۔ خ م )
U. No.281
(ریلیز آئی ڈی: 2212433)
وزیٹر کاؤنٹر : 19