قبائیلی امور کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

او این جی سی لمیٹڈ نے ایکولیہ ماڈل رہائشی اسکولوں کی، سی ایس آر کے ذریعہ مالی معاونت سے بنیادی ڈھانچہ ترقی کے نفاذ کے لیے  این ایس ٹی ایف ڈی سی کے ساتھ مفاہمتی عرضداشت پر دستخط کیے


’’تعلیمی نظام کو مضبوط کرکے، ہم دائمی ترقی کے بیج بوتے ہیں اور ایک بااختیار معاشرے کی بنیاد رکھتے ہیں‘‘: قبائلی امور کی سکریٹری، محترمہ رنجنا چوپڑا

प्रविष्टि तिथि: 05 JAN 2026 6:39PM by PIB Delhi

قبائلی نوجوانوں کی فلاح و بہبود کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے ، پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت (ایم او پی این جی) کے تحت کام کرنے والی مہارتن کمپنی ’تیل اور قدرتی گیس کارپوریشن لمیٹڈ (او این جی سی)‘  نے قبائلی امور کی وزارت کی ایک خودمختار انجمن ’قومی درج فہرست قبائل کی مالی اور ترقیاتی کارپوریشن (این ایس ٹی ایف ڈی سی)‘ کے ساتھ ایک مفاہمتی عرضداشت پر دستخط کیے۔ اس مفاہمتی عرضداشت کا مقصد سرپرستی، ڈیجیٹل تعلیم اور بنیادی ڈھانچہ ترقی میں اضافے کے ذریعہ ، ایکلویہ ماڈل رہائشی اسکولوں (ای ایم آر ایس) میں درج رجسٹر قبائلی طلبا کوبااختیار بنانا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001RIWF.jpg

قبائلی امور کی وزارت قبائلی طلباء کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کے لیے ایکلویہ ماڈل رہائشی اسکول (ای ایم آر ایس) کی مرکزی سیکٹر اسکیم کو چلا رہی ہے۔ ایسے اسکول تعلیم، ٹیکنالوجی اور جامع ترقی کے امتزاج کے ذریعے ایک جدید اور روشن خیال نسل کی پرورش کی سمت میں ایک اہم قدم کی نشاندہی کرتے ہیں۔ آج کی تاریخ تک ملک بھر میں 499 ای ایم آر ایس مصروف عمل ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image00288VU.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image00383U5.jpg

نئی دہلی کے ڈاکٹر امبیڈکر انٹرنیشنل سینٹر میں اس مفاہمتی عرضداشت پر  5 جنوری 2026 کو دستخط عمل میں آئے اور این ایس ٹی ایف ڈی سی کی ڈپٹی جنرل منیجر محترمہ بسمیتا داس اور او این جی سی کے سی ایس آر ہیڈ ڈاکٹر دیباشیش مکھرجی کے درمیان باہم تبادلہ عمل میں آیا۔ اس موقع پر قبائلی امور کی وزارت کی سکریٹری محترمہ رنجنا چوپڑا، قبائلی امور کی وزارت کے ایڈشنل سکریٹری جناب منیش ٹھاکر، قبائلی امور کی وزارت کے جوائنٹ سکریٹری جناب رومون پائتے ، ڈائرکٹر ایچ آر او این جی سی، جناب منیش پاٹل، اور وزارتوں اور او این جی سی کے دیگر سینئر افسران بھی موجود تھے۔

سی ایس آر فنڈڈ پروجیکٹ کی تفصیلات: او این جی سی نے لڑکیوں کے لیے ڈیجیٹل تعلیم کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، صحت اور حفظان صحت کے شعبے میں اقدامات کے لیے(سینیٹری پیڈ وینڈنگ مشینیں اور انسینریٹرز)، اساتذہ کی صلاحیت سازی اور 11 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں (آندھرا پردیش، دادر اور نگر حویلی اور دمن ار دیو، گجرات، ہماچل پردیش، جموں و کشمیر، کیرالہ، راجستھان، تمل ناڈو، اترپردیش اور اتراکھنڈ) میں قائم 144 ای ایم آر ایس میں طلبا کی کریئر کونسلنگ اور صنعت کاری سے متعلق تربیت کے لیے 28 کروڑ روپے کی منظوری دی ہے۔ مذکورہ پہل قدمی 35000 سے زائد قبائلی طلبا کو مساوی مواقع تک رسائی میں مدد فراہم کرے گی۔

یہ پہل قدمی قبائلی امور کی وزارت اور کارپوریٹ سیکٹر کے درمیان قبائلی برادریوں کی سماجی و اقتصادی ترقی کو بہتر بنانے کے لیے وسیع تر مشترکہ کوششوں کا حصہ ہے جس سے وہ وکست بھارت کے مقصد کی جانب بڑھ سکیں۔

**********

 

(ش ح –ا ب ن)

U.No:169


(रिलीज़ आईडी: 2211627) आगंतुक पटल : 11
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali-TR