وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
محکمہ مویشی پروری اور ڈیری (ڈی اے ایچ ڈی) کا بھیڑوں اور بکریوں کے شعبے میں مربوط ویلیو چینز کا مطالبہ
प्रविष्टि तिथि:
22 DEC 2025 8:29PM by PIB Delhi
حکومت ہند کی ماہی پروری ، مویشی پروری اور ڈیری کی وزارت کے محکمہ مویشی پروری اور ڈیری (ڈی اے ایچ ڈی) نے آئی سی اے آر-سنٹرل شیپ وول ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (آئی سی اے آر-سی ایس ڈبلیو آر آئی) کے تعاون سے 22 دسمبر 2025 کو آئی سی اے آر-سی ایس ڈبلیو آر آئی ، اویکا نگر ، راجستھان میں بھیڑ سمپوزیم کا انعقاد کیا ۔
اس پروگرام میں ڈی اے یچ ڈی کے سکریٹری جناب نریش پال گنگور، مویشی پروری کی کمشنرڈاکٹر پروین ملک، ڈی اے ایچ ڈی کے جوائنٹ سکریٹری ڈاکٹر مٹھوکمارسامی بی،حکومت ہماچل پردیش کے محکمہ مویشی پروری کے سکریٹری جناب رتیش چوہان کے ساتھ ساتھ حکومت اورسی ایس ڈبلیو آر آئی کے دیگر حکام بھی موجود تھے۔

اس تقریب میں مختلف ریاستی مویشی پروری کے محکموں ، آئی سی اے آر کے اداروں جیسے آئی سی اے آر-نیشنل میٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ، آئی سی اے آر-نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف نیچرل فائبر انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ، سنٹرل وول ڈیولپمنٹ بورڈ ، سی سی ایس-نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایگریکلچرل مارکیٹنگ ، نیشنل ڈیری ڈیولپمنٹ بورڈ ، صنعتی گروپوں ، اسٹارٹ اپس ، غیر سرکاری تنظیموں ، ماہرین ، کاروباریوں اورملک گیر پیمانے پر بھیڑ پالنے والوں کی شرکت بھی دیکھنے میں آئی ۔


آئی سی اے آر-سی ایس ڈبلیو آرآئی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ارون کمار تومرنے شرکا کی موجودگی کو سراہتے ہوئے استقبالیہ خطاب کیا۔ انہوں نے ملک میں بھیڑ، مٹن اور اون کے شعبے کی صورتحال کے بارے میں مختصر اً بتایا۔
محکمہ مویشی پروری اور ڈیرنگ(ڈی اے ایچ ڈی کے جوائنٹ سکریٹری ڈاکٹر متھوکمارسامی بی نے بتایا کہ محکمہ قومی لائیواسٹاک مشن(این ایل ایم) کے تحت بھیڑ کی نسل بہتر بنانے کے پروگراموں پر خصوصی زور دے رہا ہے۔ این ایل ایم کے انٹرپرینیورشپ ڈیولپمنٹ پروگرام (ای ڈی پی) کے تحت 500 بھیڑ یا بکریوں کی صلاحیت والے منصوبوں کے لیے زیادہ سے زیادہ 50 لاکھ روپے تک کی سرمایہ سبسڈی (50؍فیصد تک) فراہم کی جا رہی ہے۔ اس اسکیم پر عوامی ردعمل بے حد مثبت رہا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ مویشی پروری کے بنیادی ڈھانچے سے متعلق اینیمل ہزبنڈری انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ فنڈ(اے ایچ آئی ڈی ایف)کے تحت ڈی اے ایچ ڈی فضلہ سے دولت پیدا کرنے کے منصوبوں، ویکسین بنانے کی یونٹس اور ابتدائی اون پروسیسنگ یونٹس جیسی سرگرمیوں کے لیے 3؍فیصد سود رعایت فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے صلاحیت سازی اور ہنر کی ترقی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کسانوں اور کاروباری افراد کی تربیت میں نجی شعبے کی شراکت کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔
انہوں نے حکومت کی جینیاتی بہتری کی اقدامات کو اجاگر کیا اور موبائل ویٹرنری وینز کے ذریعے دیہی گھروں تک مصنوعی بارآوری کی خدمات کی رسائی کی ضرورت پر زور دیا۔
حکومت ہند کے محکمہ مویشی پروری کی کمشنرڈاکٹر پروین ملک نے وسائل کو تسلیم کرنے اور اسی کے مطابق پالیسی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
حکومت ہند کے محکمہ مویشی پروری اور ڈیرنگ(ڈی اے ایچ ڈی) کے سکریٹری جناب نریش پال گنگور نے بتایا کہ ملک میں ڈیری اور پولٹری کے شعبے نے کوآپریٹو اور نجی اداروں کے ذریعے مضبوط ویلیو چینز کامیابی کے ساتھ قائم کرلی ہیں، جس سے کسانوں کو منافع بخش قیمتیں یقینی بنائی گئی ہیں۔ انہوں نے اجاگر کیا کہ ہندوستان عالمی دودھ کی پیداوار میں تقریباً 25؍فیصد حصہ ڈالتا ہے اور عالمی سطح پر انڈوں کی پیداوار میں دوسرے نمبر پر ہے۔
انہوں نے بھیڑ اور بکری کے شعبے کی غیر استعمال شدہ صلاحیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بھیڑ اور بکری کو اکثر غریبوں کا ’ اے ٹی ایم‘ کہا جاتا ہے، جو دیہی معاشیات میں ان کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے تحقیق پر مبنی مداخلتوں کے ذریعے اس شعبے کو مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ تحقیق کے نتائج براہِ راست کسانوں تک پہنچیں۔ انہوں نے بھیڑ کے شعبے میں مربوط ویلیو چینز تیار کرنے کی ضرورت کو اجاگر کیا، جیسا کہ ڈیری شعبے میں موجود ہیں۔
انہوں نے بیماریوں پر قابو پانے کے حوالے سے کہا کہ ریاستوں کو ویٹرنری خدمات کو مضبوط کرنا چاہیے، جس میں حکومتِ ہند پی پی آر ویکسینیشن پروگراموں کے ذریعے ان کی حمایت کر رہی ہے، جو کہ اعلیٰ برآمدی صلاحیت اور بڑھتی ہوئی گھریلو طلب و رسد کے فرق کے پیش نظر انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے گوشت اور اون کی پیداوار بڑھانے اور اعلیٰ کارکردگی والی نسلیں تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا، خاص طور پر اس پیش نظر کہ مصنوعی متبادلات کی وجہ سے اون کی طلب میں کمی آ رہی ہے۔
سیمینار کے دوران سی ایس ڈبلیو آر آئی ایٹ اے گلینس پر ایک نیوز لیٹر بھی جاری کیا گیا ہے ۔

سیمپوزیم میں اون، مٹن، دودھ، بھیڑ کی جینیاتی وسائل اور بھیڑ کی پروری میں کاروباری مواقع پر تکنیکی اجلاس شامل تھے، جن میں کسانوں، کاروباری افراد، صنعت اور ماہرین نے بھیڑ کے شعبے سے متعلق مسائل پر تفصیلی گفتگو کی۔

* * ** * * *
)ش ح – م ع ن- م ش(
UN.3810
(रिलीज़ आईडी: 2207658)
आगंतुक पटल : 54