وزارت دفاع
azadi ka amrit mahotsav

اے ایف ایم ایس نے ذیابیطس ریٹینوپیتھی کے لیے ہندوستان کا پہلا اے آئی پر مبنی کمیونٹی اسکریننگ پروگرام شروع کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 16 DEC 2025 6:02PM by PIB Delhi

مسلح افواج کی طبی خدمات (اے ایف ایم ایس) نے ڈاکٹر راجندر پرساد سینٹر فار آفتھلمک سائنسز (آر پی سی)، ایمس اور وزارت صحت و خاندانی بہبود کی ای ہیلتھ اے آئی یونٹ کے اشتراک سے 16 دسمبر 2025 کو نئی دہلی میں ذیابطیس سے متعلقہ آنکھ کی بیماری ڈایابیٹک ریٹینوپیتھی کی کمیونٹی سطح پر اسکریننگ کے لیے بھارت کا پہلا مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی پروگرام شروع کیا ہے۔ یہ اقدام ذیابطیس کے باعث ہونے والی آنکھوں کی بیماری کی بروقت/ ابتدائی تشخیص کو مضبوط بنانے اور حقیقی وقت (ریئل ٹائم) میں قومی صحت سے متعلق انٹیلیجنس فریم ورک تشکیل دینے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔

آرمی ہسپتال (ریسرچ اینڈ ریفرل)، نئی دہلی میں اس پروگرام کی افتتاحی تقریب ڈائریکٹر جنرل آرمڈ فورسز میڈیکل سروسز سرجن وائس ایڈمرل آرتی سرین نے ڈاکٹر راجندر پرساد سینٹر فار آفتھلمک سائنسز کی چیف پروفیسر رادھیکا ٹنڈن کے ہمراہ انجام دی۔ یہ اشتراک اے ایف ایم ایس کی کلینیکل رسائی، ایمس کی علمی قیادت اور وزارت صحت و خاندانی بہبود کی ڈیجیٹل جدت طرازی کی صلاحیتوں کو یکجا کرتا ہے تاکہ صحتِ عامہ کے ایک بڑے چیلنج سے نمٹا جا سکے۔

یہ پروگرام ”مدھو نیتر اے آئی“ کے تحت چلایا جا رہا ہے، جو ڈاکٹر راجندر پرساد سینٹر فار آفتھلمک سائنسز کی جانب سے تیار کردہ ویب پر مبنی مصنوعی ذہانت (AI) کا ایک ٹول ہے۔ یہ پلیٹ فارم ہاتھ میں پکڑے جانے والے فنڈس کیمروں کے ذریعے حاصل کی گئی ریٹینا کی تصاویر کی خودکار اسکریننگ، گریڈنگ اور ٹرائیجنگ میں سہولت فراہم کرتا ہے، جس سے تربیت یافتہ میڈیکل افسران، نرسنگ اسٹاف اور ہیلتھ کیئر اسسٹنٹس کمیونٹی سطح پر اسکریننگ انجام دے سکتے ہیں۔ یہ نظام بیماری کے پھیلاؤ اور جغرافیائی تقسیم سے متعلق ریئل ٹائم ڈیٹا بھی تیار کرتا ہے تاکہ شواہد پر مبنی منصوبہ بندی اور پالیسی سازی میں مدد مل سکے۔

یہ پائلٹ مرحلے کے تحت آرمڈ فورسز میڈیکل سروسز (اے ایف ایم ایس) اس اقدام کو سات مقامات — پونے، ممبئی، بنگلورو، دھرم شالہ، گیا، جورہاٹ اور کوچی میں نافذ کرے گی، جس کے ذریعے میٹروپولیٹن، دیہی، پہاڑی، ساحلی اور دور دراز علاقوں کا احاطہ کیا جائے گا۔ ہر مقام کے عملے کو آر پی سی، ایمس میں جامع/سخت تربیت دی جائے گی، جس کے بعد کمیونٹی سطح پر بڑے پیمانے پر اسکریننگ کی جائے گی۔

جن مریضوں میں ڈایابیٹک ریٹینوپیتھی کی تشخیص ہوگی، انہیں ذیابطیس کے بہتر/ موزوں انتظام کے لیے ریفر کیا جائے گا، جبکہ نظر کے لیے خطرہ بننے والی ڈایابیٹک ریٹینوپیتھی کے معاملوں کو نامزد ضلعی ہسپتالوں میں ویٹریو-ریٹینا ماہرین کے پاس بھیجا جائے گا۔ ضلعی صحت انتظامیہ ریفرل کے طریقۂ کار کی ہم آہنگی کرے گی اور علاج/ انتظامِ ڈایابیٹک ریٹینوپیتھی کو موجودہ غیر متعدی امراض کے پروگراموں کے اندر ضم کرے گی تاکہ علاج کا تسلسل برقرار رہے۔

لانچ کے موقع پر پروگرام کے طریقۂ کار اور عملی رہنما اصولوں کی تفصیل پر مشتمل ایک مجموعہ جاری کیا گیا۔ برِگیڈیئر ایس کے مشرا، (ایچ او ڈی اور کنسلٹنٹ، امراضِ چشم) آرمی ہسپتال کی جانب سے اس اشتراک کے قیام میں دی گئی خدمات کا اعتراف کیا گیا۔ اس اقدام کو قابلِ توسیع اور قابلِ تقلید ماڈل کے طور پر تصور کیا گیا ہے، جو اے ایف ایم ایس، ایمس اور وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کی مشترکہ کاوشوں کے ذریعے صحتِ عامہ کے نظام میں مصنوعی ذہانت سے تقویت یافتہ حلوں کے مؤثر انضمام کی مثال پیش کرتا ہے۔

                                               **************

ش ح۔ ف ش ع

16-12-2025

                                                                                                                                       U: 3303

 


(ریلیز آئی ڈی: 2204877) وزیٹر کاؤنٹر : 20
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी