ٹیکسٹائلز کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ٹیکسٹائل شعبے کی کارکردگی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 16 DEC 2025 2:28PM by PIB Delhi

گزشتہ تین (03) برسوں کے دوران بھارت کی عالمی سطح پر ٹیکسٹائل اور ملبوسات (بشمول دستکاری) کی برآمدات کی تفصیل ذیل میں درج ہے:

بھارت کی عالمی ٹیکسٹائل اور ملبوسات (بشمول دستکاری) کی برآمدات
(قدریں: ملین امریکی ڈالر میں)

 

Sl No.

Commodity

FY 2022-2023

FY 2023-2024

FY 2024-2025

1

Readymade Garment

16,190.96

14,532.19

15,989.34

2

Cotton Textiles

11,084.81

12,258.13

12,298.90

3

Man-made textiles

5,411.98

5,080.64

5,294.60

4

Wool & Woolen textiles

204.75

192.40

160.26

5

Silk Products

94.56

119.25

162.09

6

Handloom Products

182.52

140.40

141.96

7

Carpets

1,366.11

1,395.15

1,541.11

8

Jute Products

461.71

353.50

399.89

 

Total Textile & Apparel exports

34,997.40

34,071.65

35,988.16

9

Handicrafts

1,688.58

1,802.29

1,766.83

 

Total T&A including Handicrafts exports

36,685.98

35,873.94

37,754.99

           

ماخذ: ڈی جی سی آئی اینڈ ایس

ٹیکسٹائل اور ملبوسات کے شعبے کی برآمدات، جن میں دستکاری بھی شامل ہے، مالی سال 2022–23 میں 36.65 ارب امریکی ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 2024–25 میں 37.75 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں۔ اس طرح اس عرصے کے دوران تقریباً 1.49 فیصد کی مرکب سالانہ شرحِ نمو درج کی گئی، جو عالمی اقتصادی دباؤ کے باوجود اس شعبے کی نسبتاً مضبوطی اور استحکام کی عکاسی کرتی ہے۔

حکومت ابھرتے ہوئے بین الاقوامی ضابطہ جاتی فریم ورکس، جن میں کاربن بارڈر اقدامات اور لیبر کمپلائنس کے معیارات شامل ہیں، اور ان کے بھارت کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات پر ممکنہ اثرات کی قریبی نگرانی کر رہی ہے۔ چونکہ اس وقت ٹیکسٹائل مصنوعات یورپی یونین کے کاربن بارڈر ایڈجسٹمنٹ میکانزم کے دائرۂ کار میں شامل نہیں ہیں، اس لیے اس شعبے پر کسی براہِ راست اثر کا مشاہدہ نہیں کیا گیا۔ تاہم وزارت، محکمۂ تجارت اور دیگر متعلقہ وزارتوں کے ساتھ مشاورت کے ذریعے ممکنہ بالواسطہ اثرات اور آئندہ پیش رفت کا مسلسل جائزہ لے رہی ہے۔ بڑے تجارتی شراکت داروں کی جانب سے متعارف کرائے گئے محنت سے متعلق تعمیلی تقاضوں کا بھی صنعت کے متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورت میں جائزہ لیا جا رہا ہے۔ حکومت صلاحیت سازی کے اقدامات اور مسلسل پالیسی سطحی مکالمے کے ذریعے برآمد کنندگان کی معاونت کے لیے پُرعزم ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ منفی اثر کو کم کیا جا سکے۔

وزارتِ ٹیکسٹائل ٹیکسٹائل شعبے میں پائیداری اور سرکلر اکانومی کو فروغ دینے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے:

اپ سائیکلنگ کے فروغ کے لیے ٹیکسٹائل کمیٹی، جی ای ایم اور اسٹینڈنگ کانفرنس آف پبلک انٹرپرائزز کے درمیان ایک سہ فریقی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے، تاکہ اپ سائیکل شدہ مصنوعات کی سرکاری خریداری کو فروغ دیا جا سکے اور اسے مرکزی دھارے میں لایا جا سکے۔

ٹیکسٹائل ویلیو چین میں پائیداری کے فروغ کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں، جن میں سرکل بیک مہم شامل ہے جس کا مقصد طلبہ میں ٹیکسٹائل ری سائیکلنگ کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا ہے، نیز بھارت ٹیکس 2024 اور 2025 کے دوران واستر کتھا جیسے نمائشوں کا انعقاد بھی کیا گیا ہے۔

گارمنٹ فیکٹریوں اور ایسے ہینڈلوم یونٹس جہاں 10 یا اس سے زائد ملازمین کام کرتے ہیں، وہاں ملازمت کرنے والے وہ کارکنان، بشمول خواتین، جن کی اجرت ای ایس آئی کوریج کے لیے مقررہ حد سے زیادہ نہیں ہے، پہلے ہی ای ایس آئی کوریج کے اہل ہیں۔

سوشل سکیورٹی کوڈ 2020، جو 21.11.2025 سے نافذ العمل ہو چکا ہے، میں اداروں کی رضاکارانہ شمولیت اور مرکزی حکومت کی جانب سے بنائی گئی اسکیم کے تحت غیر منظم شعبے کے کارکنان کو بھی کوریج فراہم کرنے کی دفعات شامل ہیں۔

وزارتِ ٹیکسٹائل، حکومتِ ہند ملک بھر میں نیشنل ہینڈلوم ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت ہینڈلوم بُنکروں اور کارکنان کی فلاح و بہبود کے لیے درج ذیل اسکیمیں نافذ کر رہی ہے:

60 سال سے زائد عمر کے ان ایوارڈ یافتہ ہینڈلوم بُنکروں/کارکنان کو، جو نادار حالات میں ہوں اور جن کی سالانہ آمدنی 1.00 لاکھ روپے سے کم ہو، ماہانہ 8,000 روپے کی مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے، نیز ہینڈلوم بُنکروں/کارکنان کے بچوں (زیادہ سے زیادہ 2 بچوں) کو مرکزی یا ریاستی حکومت سے منظور شدہ/مالی اعانت یافتہ ٹیکسٹائل اداروں میں ڈپلومہ، انڈر گریجویٹ یا پوسٹ گریجویٹ تعلیم کے لیے سالانہ 2.00 لاکھ روپے تک کی اسکالرشپ دی جاتی ہے۔

قدرتی یا حادثاتی موت اور مکمل یا جزوی معذوری کی صورت میں عالمگیر اور سستی سماجی تحفظ انشورنس اسکیموں کے ذریعے فراہم کیا جاتا ہے، جن میں پردھان منتری جیون جیوتی بیمہ یوجنا اور پردھان منتری سرکشا بیمہ یوجنا شامل ہیں۔

وزارتِ ٹیکسٹائل نے ایک ماحولیاتی، سماجی اور حکمرانی (ای ایس جی) ٹاسک فورس بھی قائم کی ہے، جو ایک کثیر فریقی پلیٹ فارم ہے اور جس میں صنعت، محنت کش اور ماحولیاتی نمائندے سمیت دیگر فریقین شامل ہیں۔ اس ٹاسک فورس کا مقصد ٹیکسٹائل ویلیو چین میں اہم مسائل اور حساس نکات کی نشاندہی کرنا اور ٹیکسٹائل و ملبوسات کی صنعت کو ایک پائیدار اور وسائل کے مؤثر استعمال پر مبنی پیداواری نظام کی جانب منتقل کرنے میں معاونت فراہم کرنا ہے۔ نیشنل ٹیکسٹائل سسٹین ایبلٹی کونسل کے قیام سے متعلق کوئی علیحدہ تجویز موصول نہیں ہوئی ہے۔

یہ معلومات آج لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں وزیرِ مملکت برائے ٹیکسٹائل جناب پبیترا مارگھریتا نے فراہم کیں۔

******

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno- 3292


(ریلیز آئی ڈی: 2204859) وزیٹر کاؤنٹر : 24
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी