ٹیکسٹائلز کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

معیارات سے متعلق کنٹرول کے احکامات

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 16 DEC 2025 2:26PM by PIB Delhi

وزارتِ ٹیکسٹائل باقاعدگی کے ساتھ بھارت کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات (بشمول دستکاری) کی برآمدات کی نگرانی کر رہی ہے، خاص طور پر امریکہ اور دنیا کے دیگر ممالک کو ہونے والی برآمدات پر نظر رکھی جا رہی ہے، نیز ٹیکسٹائل کے تمام شعبوں پر امریکی ٹیرف کے اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اپریل تا اکتوبر 2025 کے دوران بھارت کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات، جن میں دستکاری بھی شامل ہے، 20,401.95 ملین امریکی ڈالر رہیں۔ یہ گزشتہ سال کے اسی عرصے (20,728.05 ملین امریکی ڈالر) کے مقابلے میں 1.8 فیصد کی معمولی کمی کو ظاہر کرتی ہیں، تاہم عالمی ٹیرف سے متعلق اور دیگر بیرونی چیلنجز کے باوجود مجموعی طور پر برآمدی کارکردگی میں استحکام کی عکاسی کرتی ہیں۔ اپریل تا اکتوبر 2025 کے دوران تمام ٹیکسٹائل شعبوں میں تیار ملبوسات (آر ایم جی) کی برآمدات کے ساتھ ساتھ جوٹ کی تیاری، بشمول فرش پوش اشیاء، میں مثبت نمو درج کی گئی۔ تاہم کچھ دیگر اہم شعبے، جیسے کاٹن اور مین میڈ فائبر (ایم ایم ایف) مصنوعات، جن میں دھاگا، کپڑا اور تیار شدہ اشیاء شامل ہیں نیز قالین، نے گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں معمولی مندی دیکھی۔(ماخذ: کوئک ایسٹی میٹس، محکمۂ تجارت)

اپریل تا اکتوبر 2025 کے دوران بھارت کی برآمدات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 100 سے زائد ممالک میں مثبت نمو ریکارڈ کی گئی، جن میں متحدہ عرب امارات، برطانیہ، جرمنی، اسپین، فرانس، اٹلی، چین، سعودی عرب، مصر اور جاپان جیسے اہم بازار شامل ہیں۔ یہ بھارتی ٹیکسٹائل صنعت کی مضبوطی اور مارکیٹ میں تنوع کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔(ماخذ: ڈی جی سی آئی ایس)

3- حکومتِ ہند بھارتی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کے شعبے کو فروغ دینے اور اس کی مسابقت بڑھانے کے لیے مختلف اسکیمیں اور اقدامات نافذ کر رہی ہے، جن میں درج ذیل شامل ہیں:

(i) اہم اسکیموں اور اقدامات میں پی ایم میگا انٹیگریٹڈ ٹیکسٹائل ریجنز اینڈ اپیرل (پی ایم مترا) پارکس اسکیم شامل ہے، جس کا مقصد جدید، مربوط اور عالمی معیار کا ٹیکسٹائل انفراسٹرکچر قائم کرنا ہے، پروڈکشن لنکڈ انسینٹو اسکیم جو ایم ایم ایف فیبرک، ایم ایم ایف پیرل اور ٹیکنیکل ٹیکسٹائل پر مرکوز ہے تاکہ بڑے پیمانے پر مالسازی کو فروغ دیا جا سکے اور مسابقت میں اضافہ ہو، نیشنل ٹیکنیکل ٹیکسٹائل مشن جو تحقیق، اختراع و ترقی، فروغ اور مارکیٹ ڈیولپمنٹ پر توجہ دیتا ہے؛ سمرتھ  ٹیکسٹائل شعبے میں صلاحیت سازی کی اسکیم، جس کا مقصد طلب پر مبنی، روزگار سے منسلک ہنرمندی کے پروگرام فراہم کرنا ہے، سلک سمگرا-2 ریشم کی صنعت کی ویلیو چین کی جامع ترقی کے لیے، نیشنل ہینڈلوم ڈیولپمنٹ پروگرام جو ہینڈلوم شعبے کو سرے سے آخر تک معاونت فراہم کرتا ہے۔ وزارتِ ٹیکسٹائل نیشنل ہینڈی کرافٹس ڈیولپمنٹ پروگرام اور کمپری ہینسو ہینڈی کرافٹس کلسٹر ڈیولپمنٹ اسکیم بھی نافذ کر رہی ہے تاکہ دستکاری کے فروغ کو تقویت دی جا سکے۔

(ii) ٹیکسٹائل شعبے میں لازمی کوالٹی کنٹرول آرڈر (کیو سی او) کے تحت آنے والے ان پٹس کے لیے ایڈوانس آتھرائزیشن اسکیم کے تحت برآمدی ذمہ داری کی مدت کو چھ (6) ماہ سے بڑھا کر اٹھارہ (18) ماہ کر دیا گیا ہے۔

(iii) حکومت نے ایم ایم ایف اپیرل، ایم ایم ایف فیبرکس اور ٹیکنیکل ٹیکسٹائل مصنوعات کے لیے پی ایل آئی اسکیم میں اہم ترامیم کی ہیں تاکہ صنعت کو درپیش چیلنجز سے نمٹا جا سکے، کاروبار میں آسانی کو فروغ دیا جا سکے اور نئے سرمایہ کاری مواقع پیدا ہوں۔ ان ترامیم میں اہل مصنوعات کی فہرست میں توسیع، نئی کمپنیاں قائم کرنے کی شرط میں نرمی، کم از کم سرمایہ کاری اور اضافی کاروباری ٹرن اوور کے معیارات میں کمی شامل ہے۔ ان ترامیم کا مقصد داخلے کی رکاوٹوں اور مالی حدوں کو کم کرنا اور تیز تر نفاذ کو ممکن بنانا ہے۔

(iv) حکومت نے ٹیکسٹائل صنعت کے لیے خام مال کی لاگت کم کرنے، مناسب سپلائی یقینی بنانے، برآمدی مسابقت بہتر کرنے اور مجموعی صنعتی کارکردگی بڑھانے کے لیے ایچ ایس5201 کے تحت کپاس پر درآمدی ڈیوٹی کو 31.12.2025 تک مستثنیٰ قرار دیا ہے۔

(v) حکومت نے ٹیکسٹائل ویلیو چین میں جی ایس ٹی کی شرح کو معقول بنایا ہے تاکہ ساختی خامیاں دور ہوں، لاگت کم ہو، طلب میں اضافہ ہو، برآمدات کو سہارا ملے اور روزگار برقرار رہے۔

(vi) حکومت دو ریمیشن اسکیمیں بھی چلا رہی ہے: ریبیٹ آف اسٹیٹ اینڈ سینٹرل ٹیکسز اینڈ لیویز ملبوسات/گارمنٹس اور میڈ اَپس کے لیے،ریمیشن آف ڈیوٹیز اینڈ ٹیکسز آن ایکسپورٹڈ پروڈکٹس دیگر ٹیکسٹائل مصنوعات کے لیے۔

(vii) بھارت نے 15 آزاد تجارتی معاہدے کیے ہیں، جن میں بھارت-برطانیہ جامع اقتصادی و تجارتی معاہدہ (سی ای ٹی اے) بھی شامل ہے جو 24 جولائی 2025 کو دستخط ہوا۔ ان معاہدوں کا مقصد ٹیرف اور نان ٹیرف رکاوٹیں کم کرنا، طریقۂ کار کو آسان بنانا اور ساختی مسائل حل کرنا ہے تاکہ شراکت دار ممالک کی منڈیوں میں بھارتی برآمد کنندگان کی مسابقت بڑھے۔

(viii) مزید برآں، وزارت نے 40 ممالک پر مشتمل جامع مارکیٹ تنوع حکمتِ عملی تیار کی ہے، جس میں بھارتی ٹیکسٹائل برآمدات کے لیے اعلیٰ صلاحیت رکھنے والی عالمی منڈیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان منڈیوں میں منظم اور ہدفی رسائی،برآمدی فروغ کونسلوں (ای پی سیز) ، صنعتی وفود اور بیرونِ ملک بھارتی مشنز کی مربوط کوششوں کے ساتھ—مارکیٹ کے ارتکا کے خطرات کم کرنے، بھارت کے برآمدی حصے میں اضافہ کرنے اور بھارتی ٹیکسٹائل صنعت کے لیے ایک مضبوط اور پائیدار عالمی موجودگی قائم کرنے کا ہدف رکھتی ہے۔

(ix) حکومت نے ایکسپورٹ پروموشن مشن (ای پی ایم) کی منظوری دی ہے، جو محکمۂ تجارت، وزارتِ ایم ایس ایم ای، وزارتِ خزانہ اور دیگر اہم شراکت داروںجن میں مالیاتی ادارے، برآمدی فروغ کونسلیں، کموڈیٹی بورڈز، صنعتی تنظیمیں اور ریاستی حکومتیں شامل ہیں،کے باہمی تعاون پر مبنی فریم ورک کے تحت کام کرے گا۔

یہ مشن دو مربوط ذیلی اسکیموں کے ذریعے کام کرے گا:

  1. نِریات پروتساہن:

یہ ایم ایس ایم ایز کے لیے کم لاگت والی تجارتی فنانس تک رسائی بہتر بنانے پر مرکوز ہے، جس میں سودی رعایت، ایکسپورٹ فیکٹرنگ، کولیٹرل گارنٹی، ای-کامرس برآمد کنندگان کے لیے کریڈٹ کارڈز، اور نئی منڈیوں میں تنوع کے لیے کریڈٹ انہانسمنٹ سپورٹ جیسے آلات شامل ہیں۔

  1. نِریات دِشا:

یہ غیر مالی سہولیات پر توجہ دیتا ہے جو مارکیٹ کے لیے تیاری اور مسابقت کو بڑھاتی ہیں، جن میں برآمدی معیار اور تعمیل کی معاونت، بین الاقوامی برانڈنگ و پیکیجنگ میں مدد، تجارتی میلوں میں شرکت، ایکسپورٹ ویئرہاؤسنگ اور لاجسٹکس، اندرونی نقل و حمل کے اخراجات کی واپسی، اور تجارتی معلومات و صلاحیت سازی کے اقدامات شامل ہیں۔

(x) حکومت نے برآمد کنندگان کے لیے کریڈٹ گارنٹی اسکیم (سی جی ایس ای) کی منظوری دی ہے، جس کے تحت نیشنل کریڈٹ گارنٹی ٹرسٹی کمپنی لمیٹڈ (این سی جی ٹی سی) ممبر لینڈنگ انسٹی ٹیوشنز کو 100 فیصد کریڈٹ گارنٹی فراہم کرے گی تاکہ اہل برآمد کنندگان، بشمول ایم ایس ایم ایز، کو 20,000 کروڑ روپے تک کی اضافی کریڈٹ سہولیات دی جا سکیں۔ اس اسکیم کا مقصد بھارتی برآمد کنندگان کی عالمی مسابقت میں اضافہ کرنا اور نئی و ابھرتی ہوئی منڈیوں میں تنوع کی حمایت کرنا ہے۔

مین میڈ فائبر کے اہم خام مال پر سے کوالٹی کنٹرول آرڈرز کا خاتمہ حکومت کا ایک براہِ راست سہولیاتی اقدام ہے، جس کا مقصد گھریلو قیمتوں کو مستحکم کرنا اور ایم ایم ایف شعبے کے ڈاؤن اسٹریم پروسیسرز کے لیے خام مال کی بلا رکاوٹ فراہمی یقینی بنانا ہے۔ مزید یہ کہ آپریشنل کارکردگی بڑھانے کے لیے ایم ایم ایف ویلیو چین میں جی ایس ٹی کے ڈھانچے کو معقول بنایا گیا ہے اور ایم ایم ایف فائبر اور یارن پر جی ایس ٹی کی شرح 5 فیصد مقرر کی گئی ہے، جس سے ایم ایم ایف مصنوعات کی مجموعی لاگت میں کمی آئی ہے۔ پی ایل آئی کے حالیہ اقدامات داخلے کی رکاوٹوں اور مالی حدوں کو کم کرنے اور تیز تر نفاذ کو ممکن بنانے کے لیے ہیں۔

یہ معلومات وزیرِ مملکت برائے ٹیکسٹائل جناب پبیترا مارگھریتا نے آج لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کیں۔

******

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno- 3291


(ریلیز آئی ڈی: 2204832) وزیٹر کاؤنٹر : 34
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी