قومی انسانی حقوق کمیشن
azadi ka amrit mahotsav

صدرِ جمہوریہ ہند محترمہ دروپدی مرمو نے این ایچ آر سی کی طرف سے منعقدہ یومِ انسانی حقوق کے پروگرام میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی


یکساں انسانی حقوق ناقابل تنسیخ ہیں اور یہ ایک منصفانہ، مساوی اور ہمدردانہ معاشرے کی بنیاد فراہم کرتے ہیں: صدر جمہوریہ

حقوق اور عزتِ نفس کا تحفظ سب لوگوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے؛ انہوں نے انتودیہ کے جذبے کے تحت سب کے لیے انسانی حقوق کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا

انہوں نے این ایچ آر سی، ایس ایچ آر سی، عدلیہ اور سول سوسائٹی کو ملک کے آئینی ضمیر کا چوکس محافظ قرار دیا

شکایات کے آسان اندراج، حقیقی وقت میں ٹریکنگ اور مختلف آگاہی و معلوماتی مواد تک رسائی کے لیے این ایچ آر سی موبائل ایپ کا افتتاح کیا

این ایچ آر سی، انڈیا کے چیئرپرسن جسٹس جناب وی راماسبرامنین نے یومِ انسانی حقوق کی تقریب کو انسانی حقوق کے تحفظ اور فروغ کے کاز کے لیے خود کو ازسرِنو وقف کرنے کا موقع قرار دیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 10 DEC 2025 8:40PM by PIB Delhi

قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی)نے آج نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں یومِ انسانی حقوق کی مناسب سے ایک پروگرام کا انعقاد کیا، جس میں 1948 میں آج ہی کے دن اقوامِ متحدہ کی جانب سے یونیورسل ڈیکلریشن آف ہیومن رائٹس (یو ڈی ایچ آر) کی یاد تازہ کی گئی۔ صدر جمہوریہ ہند محترمہ دروپدی مرمو نے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے خطاب کیا۔ اس موقع پر این ایچ آر سی، انڈیا کے چیئرپرسن جسٹس وی راماسبرامنین، کمیشن اراکین جسٹس (ڈاکٹر) بدیوت رنجن سارنگی، محترمہ وجیا بھارتی سیانی، سیکریٹری جنرل جناب بھارت لال، اقوامِ متحدہ کی ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر اِن چارج محترمہ آریٹی سیانی، ریاستی انسانی حقوق کمیشنوں کے چیئرپرسنز و اراکین، عدلیہ کے ارکان، سینئر سرکاری افسران، سفارت کار، انسانی حقوق کے رضاکاران،  این جی او ، سول سوسائٹی اور تعلیمی حلقوں کے نمائندگان سمیت دیگر قومی و بین الاقوامی معززین موجود تھے۔

alt

صدر جمہوریہ ہند نے کہا کہ یومِ انسانی حقوق ہمیں اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ یکساں انسانی حقوق ناقابلِ تنسیخ ہیں اور ان سے ایک منصفانہ، مساوی ہمدرد انہ معاشرے کی بنیاد قائم ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے عالمی انسانی حقوق کے ڈھانچے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ہمارے مجاہدین آزادی نے ایک ایسی دنیا کا تصور پیش کیا تھا جو انسانی وقار، مساوات اور انصاف پر مبنی ہو۔

alt

صدرِ جمہوریہ نے اس بات پر زور دیا کہ انتودیہ کے فلسفے کے مطابق انسانی حقوق کو ہر فرد کے لیے، بالخصوص آخری فرد تک، یقینی بنایا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو 2047 تک وکست بھارت کی تعمیر کے لیے ملک کے ترقیاتی سفر کا فعال حصہ دار بننا چاہیے۔ایک شہری کی حیثیت سے ہمیں حکومت کی کوششوں کا ساتھ دینا ہوگا تاکہ حکومتی پالیسیوں کے ثمرات آخری فرد تک پہنچ سکیں۔ تب ہی ملک کی ترقی حقیقی معنوں میں جامع کہلائے گی۔ہم نے دنیا کو یہ یاد دلایا ہے کہ انسانی حقوق کو ترقی سے الگ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ نیز، ہندوستان ہمیشہ اس ابدی سچائی پر عمل پیرا رہا ہے: ‘‘انصاف کے بغیر امن نہیں اور امن کے بغیر انصاف نہیں۔’’

alt

انہوں نے کہا کہ قومی انسانی حقوق کمیشن ، ریاستی انسانی حقوق کمیشن ، عدلیہ اور سول سوسائٹی نے ہمارے آئینی ضمیر کے محافظین کے طور پر چوکس کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے اس بات کا ذکر کیا کہ گزشتہ چند برسوں میں این ایچ آر سی نے درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل، نیز خواتین اور اطفال سے متعلق متعدد مسائل کا ازخود نوٹس لیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ این ایچ آر سی نے اس سال اپنے یوم تاسیس کی تقریبات کے دوران جیلوں میں بند قیدیوں کے انسانی حقوق کے موضوع پر وسیع مباحثے کا اہتمام کیا ہے۔ انہیں یقین ہے کہ یہ مباحثے مفید نتائج فراہم کریں گے۔

محترمہ دروپدی مرمو نے کہا کہ خواتین کی بااختیاری اور ان کی فلاح انسانی حقوق کے اہم ستون ہیں۔ انہیں یہ جان کر خوشی ہوئی کہ این ایچ آر سی نے عوامی مقامات اور ملازمت کے مقامات پر خواتین کی سلامتی کے موضوع پر ایک کانفرنس کا انعقاد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی کانفرنسوں سے حاصل نتائج خواتین کی سلامتی اور بااختیاری کو یقینی بنانے میں نہایت اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ این ایچ آر سی ملک اور معاشرے کے بعض اعلیٰ اصولوں کا اظہار کرتاہے۔ حکومتِ ہند ان اصولوں کو اس پیمانے پر عملی جامہ پہنا رہی ہے جو پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ گزشتہ دہائی میں ہم نے دیکھا کہ ہمارا ملک ایک نئی سوچ کے ساتھ آگے بڑھا ہے،استحقاق سے بااختیاری کی طرف، اور خیراتی روایت سے حقوق کی طرف۔حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہی ہے کہ روزمرہ کی بنیادی سہولتیں، جیسے صاف پانی، بجلی، رسوئی گیس، صحت کی نگہداشت، بینکنگ کی خدمات، تعلیم اور بہتر صفائی ستھرائی، سب کے لیے دستیاب ہوں۔ اس سے ہر گھرانے کی حالت بہتر ہوتی ہے اور وقار حاصل ہوتا ہے۔

alt

صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ حال ہی میں حکومت نے اجرت، صنعتی تعلقات، سماجی تحفظ اور پیشہ ورانہ سلامتی، صحت اور کام کے حالات سے متعلق چار لیبر کوڈکے نفاذ کے ذریعے بڑی اصلاحات کو عملی شکل دی ہے۔ یہ تبدیلی مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ افرادی قوت اور زیادہ مضبوط صنعتوں کی بنیاد رکھنے والی ہے۔

محترمہ دروپدی مرمو نے ہر شہری سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق صرف حکومتوں، این ایچ آر سی، سول سوسائٹی کی تنظیموں یا ایسے دیگر اداروں کی ذمہ داری نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپنے ہم وطنوں کے حقوق اور وقار کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ یہ فرض ہم سب پر عائد ہوتا ہے، کیونکہ ہم ایک ہمدرد اور ذمہ دار معاشرے کے فرد ہیں۔

اس سے پہلے، این ایچ آر سی، انڈیا کے چیئرپرسن جسٹس جناب وی راماسبرامنین نے کہا کہ آج کا دن ہمیں خود احتسابی کی طرف مائل کرنے اور انسانی حقوق کو ناقابلِ تنسیخ، ناقابلِ تقسیم اور باہمی انحصار پر مبنی انسانی اقدار کے طور پر فروغ دینے کے اپنے عہد کو دوبارہ تازہ کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ انسانی حقوق کو جب انسانی اقدار کے درجے تک بلند کیا جائے گا، تب ہی اس دن کی تقریب کااصل مقصد حاصل ہوگا۔ایلیانور روزویلٹ کی اقوامِ متحدہ میں یو ڈی ایچ آر کی دسویں سالگرہ کے موقع پر کی گئی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انسانی حقوق وہیں سے شروع ہوتے ہیں جہاں ہر مرد، عورت اور بچہ مساوی انصاف، مساوی مواقع اور بلاامتیاز مساوی وقار کا خواہاں ہوتا ہے۔ اگر ان جگہوں پر ان حقوق کی کوئی حیثیت نہیں، تو پھر کہیں بھی ان کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی ہے۔انہوں نے یومِ انسانی حقوق کی تقریب کو انسانی حقوق کے تحفظ اور فروغ کے مقصد کے لیے خود کو ازسرِنو وقف کرنے کے ایک موقع کے طور پر استعمال کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

alt

اس موقع پر اقوامِ متحدہ کے سکریٹری جنرل مسٹر انتونیو گتیرس نے اپنے پیغام میں، جسے یو این ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر اِن چارج محترمہ آرتی سیانی نے پڑھ کر سنایا، کہا کہ ہمارے حقوق کو کبھی بھی منفعت یا طاقت کے مقابلے ثانوی حیثیت نہیں دی جانی چاہیے۔ آئیے، ہم سب مل کر ان حقوق کا تحفظ کریں تاکہ ہر انسان کی عزت اور آزادی برقرار رہ سکے۔

alt

این ایچ آر سی، انڈیا کے سکریٹری جنرل جناب بھارت لال نے اپنے خطبۂ استقبالیہ میں کہا کہ یہ کمیشن عوام کا ادارہ ہے۔ یہ ہمیشہ عوام کے ساتھ کھڑا رہتا ہے، خاص طور پر ان کمزور طبقات کے ساتھ جنہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اجتماعی طور پر ہمیں ایسا ماحول پیدا کرنے اور اسے یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ ہر شخص منصفانہ، جامع اور مساوی معاشرہ قائم کرکے اپنی مکمل صلاحیتوں کو حاصل کرسکے، جہاں گھر میں، عوامی مقامات پر اور کام کی جگہوں پر ہر انسان کے ساتھ احترام سے پیش آیا جائے اور وہ مکمل عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزارے۔

alt

اس موقع پر صدرِ جمہوریہ ہند نے این ایچ آر سی موبائل ایپ بھی لانچ کیا، جو شکایات کے آسان اندراج، حقیقی وقت میں ٹریکنگ، اور کمیشن کے مختلف اطلاعاتی، تعلیمی اور ابلاغی (آئی ای سی) وسائل تک رسائی کو ممکن بناتا ہے۔

alt

اس کے علاوہ، این ایچ آر سی کی دو مطبوعات بھی جاری کی گئیں۔ ان میں ہندی اور انگریزی جرنلز شامل ہیں جن میں عوام میں انسانی حقوق کے مسائل کی تفہیم کے موضوع پر ممتاز ماہرین کے مضامین شائع کیے گئے ہیں۔

alt

کمیشن نے یومِ انسانی حقوق کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے قومی کانفرنس کا بھی انعقاد کیا جس کا عنوان تھا: ‘‘روزمرہ کی بنیادی ضروریات کو یقینی بنانا: سب کے لیےعوامی خدمات اور وقار’’۔

********

 (ش ح ۔م ش ع ۔م الف)

U. No. 2907


(ریلیز آئی ڈی: 2202093) وزیٹر کاؤنٹر : 32
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी