کامرس اور صنعت کی وزارتہ
azadi ka amrit mahotsav

صنعت اور تجارت کے مرکزی وزیر جناب پیوش گوئل نے ڈیپ ٹیک ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے اور اختراع پر مبنی معیشت کی تعمیر کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا


جناب پیوش گوئل نے سرحدی ٹیکنالوجی کے ذریعے آتم نربھر بھارت کو آگے بڑھانے کے لیے گھریلو سرمائے اور گھریلو فنڈز کو بڑھانے پر زور دیا

ڈی پی آئی آئی ٹی ، ٹی آئی ای بنگلور  اور ڈیپ ٹیک ایکوسسٹم طویل مدتی اختراع کو آگے بڑھانے کے لیے منظم شراکت داری کریں گے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 31 OCT 2025 9:35PM by PIB Delhi

صنعت و تجارت کے مرکزی وزیر جناب پیوش گوئل نے کہا  ہےکہ حکومت بھارت کے ڈیپ ٹیک ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے، کاروبار میں آسانی پیدا کرنے، تعمیلی بوجھ کو کم کرنے، اور اختراع و کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔ یہ بات انہوں نے آج بنگلورو میں منعقدہ ایک گول میز کانفرنس میں کہی۔ اس کانفرنس میں 35 سے زائد ڈیپ ٹیک اور سیمی کنڈکٹر اسٹارٹ اپس اور 30 سے زیادہ نمایاں وینچر کیپیٹل فرمز نے جناب پیوش گوئل کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔

وزیر موصوف نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے وکست بھارت 2047 کے وژن کے مطابق ایک مستقبل کے لیے تیار، اختراع پر مبنی معیشت کی تعمیر کی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملکی سرمایہ کو فروغ دینے، مقامی فنڈز کی پرورش کرنے اور اسٹارٹ اپس کو فرنٹیئر ٹیکنالوجیز کی تیاری کے ذریعے آتم نربھر بھارت میں حصہ ڈالنے کی ترغیب دینا وقت کی ضرورت ہے۔

یہ کانفرنس 3ون4 کیپیٹل کے چیئرمین ٹی وی موہن داس پائی اور ایکسل پارٹنرز کے پارٹنر پرشانت پرکاش کی میزبانی میں منعقد ہوئی جس میں اسٹارٹ اپ انڈیا، محکمہ برائے فروغ صنعت و داخلی تجارت (ڈی پی آئی آئی ٹی)، وزارت صنعت  و تجارت کے نمائندے، ٹائی بنگلور اور آئی وی سی اے کے اراکین شریک ہوئے۔ کانفرنس کا مقصد بھارت کے ڈیپ ٹیک ایکو سسٹم کو مضبوط بنانے اور اختراع پر مبنی ترقی کے لیے پالیسی اقدامات کی نشاندہی کرنا تھا۔

کانفرنس میں ڈیپ ٹیک اور سیمی کنڈکٹر اسٹارٹ اپس کے ساتھ گفتگو کی گئی جو سیمی کنڈکٹر ڈیزائن، مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ، روبوٹکس، جدید مواداور مشین لرننگ انفرااسٹرکچر جیسے شعبوں میں کام کر رہی ہیں۔ شرکت کرنے والی کمپنیوں میں اگنت سیمی کنڈکٹرز، کیو پی آئی اے آئی، نبھ درشٹی ایروسپیس، ایتھریل ایکس، فیب ہیڈز، ایتھریل مشینز، دوزی، ایکسپوننٹ انرجی، سگنل چپ انوویشنز اور کیو این یو لیبز شامل تھیں۔ ان کمپنیوں نے اپنی تجربات بیان کیے اور طویل ترقیاتی مراحل، سرمائے کی دستیابی اور ٹیکنالوجی کے تجارتی استعمال سے متعلق چیلنجز پر روشنی ڈالی۔

سرمایہ کاروں نے، جو سیلسٹا کیپیٹل، بلوم وینچرز، آوانا کیپیٹل، پیک ففٹین، کریگس اور 3ون4 کیپیٹل جیسے فنڈز کی نمائندگی کر رہے تھے، طویل المدتی ڈیپ ٹیک اختراع کے فروغ، پائیدار سرمایہ کاری کے راستوں کی تشکیل اور مشترکہ سرمایہ کاری کے مواقع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے ایسے پالیسی فریم ورک پر بھی گفتگو کی جو بھارت کی عالمی ٹیکنالوجی ویلیو چین میں پوزیشن کو مزید مستحکم کر سکتے ہیں۔

بات چیت میں نمایاں نکات میں ڈیپ ٹیک منصوبوں کے لیے اسٹارٹ اپ انڈیا کے فوائد کو موجودہ 10 سالہ مدت سے آگے بڑھانے، تحقیق و ترقی کے لیے گرانٹ اکاؤنٹنگ اور ایف سی آر اے سے متعلق قواعد کی وضاحت بہتر بنانےاور اختراع میں نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے ہدفی ٹیکس مراعات متعارف کرانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ شرکاء نے فنڈ ریگولیشنز میں لچک پیدا کرنے اور ڈی ایس آئی آر رجسٹریشن کے طریقہ کار میں اصلاحات کی اہمیت پر بھی زور دیا تاکہ ابتدائی مرحلے کے ڈیپ ٹیک اسٹارٹ اپس کو تحقیق و ترقی سے منسلک فوائد حاصل ہو سکیں۔

بات چیت کے اختتام پر فیصلہ کیا گیا کہ ڈی پی آئی آئی ٹی، ٹائی بنگلور اور ڈیپ ٹیک ایکو سسٹم کے درمیان منظم اشتراک جاری رکھا جائے گا تاکہ پالیسی ترجیحات کی نشاندہی اور ان کا حل نکالا جا سکے۔ اس کے علاوہ ایک فالو اپ نظام قائم کیا جائے گا تاکہ پیش رفت کا جائزہ لیا جا سکے اور طویل المدتی اختراع کے فروغ کے لیے قابل عمل سفارشات مرتب کی جا سکیں۔

3ون4 کیپیٹل کے چیئرمین ٹی وی موہن داس پائی نے کہا کہ پائیدار پالیسی معاونت اور طویل المدتی عزم بھارت کے ڈیپ ٹیک بنیادوں اور عالمی مسابقت کو مضبوط بنانے کے لیے ناگزیر ہیں۔ ٹائی بنگلور کے صدر مدن پڈاکی نے کہا کہ یہ بات چیت حکومت کے ٹیکنالوجی پر مبنی اختراع کے فروغ اور پالیسی سازوں، اسٹارٹ اپس اور سرمایہ کاروں کے درمیان تعاون کے جذبے کا عملی مظاہرہ ہے۔

بنگلورو میں منعقدہ یہ گول میز کانفرنس بھارت کے لیے اختراع پر مبنی اور ٹیکنالوجی سے چلنے والی ترقی کی جانب منتقلی کے لیے جاری مکالماتی سلسلے کا حصہ ہے۔

****

( ش ح۔م م ۔ ا ک م)

U.No. 753


(ریلیز آئی ڈی: 2186280) وزیٹر کاؤنٹر : 24
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी