صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

صحت اور خاندانی بہبود کے مرکزی وزیر جناب جے پی نڈا نے ایگزیکٹو اسٹیئرنگ کمیٹی کی دوسری میٹنگ میں نیشنل ون ہیلتھ مشن کی پیش رفت کا جائزہ لیا


مل کر کام کرنے سے ہی ہم مستقبل کے خطرات کا اندازہ لگا سکتے ہیں، روک سکتے ہیں اور ان کا جواب دے سکتے ہیں:جناب نڈا

مرکزی وزیر صحت نے مرکزی محکموں سے ون ہیلتھ پہل کے نفاذ میں ریاستی عہدیداروں کے ساتھ تعاون اور مدد کرنےکی اپیل کی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 26 SEP 2025 8:23PM by PIB Delhi

صحت اور خاندانی بہبود اور کیمیاوی اور کھاد کے مرکزی وزیر جناب جگت پرکاش نڈا نے آج یہاں نیشنل ون ہیلتھ مشن(این او ایچ ایم) کی ایگزیکٹو اسٹیئرنگ کمیٹی کی دوسری میٹنگ کی صدارت کی۔

1.jpg

انسانی، حیوانات، پودوں اور ماحولیاتی صحت کے باہمی ربط کو تسلیم کرنے میں این او ایچ ایم کے کردار پر زور دیتے ہوئے، مرکزی وزیر صحت نے کہا کہ مل کر کام کرنے سے ہی ہم مستقبل کے خطرات کا اندازہ لگا سکتے ہیں، روک سکتے ہیں اور ان کا نمٹارا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ این او ایچ ایم کے ذریعے مختلف محکموں کی مربوط کوششیں وژن کو حقیقی نتائج میں بدل رہی ہیں۔ انہوں نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ اس تعاون کو مزید مضبوط کریں اور این او ایچ ایم اقدامات کے نفاذ میں ریاستی عہدیداروں کی مدد کریں۔

جناب نڈا نے ون ہیلتھ مشن کے لیے ایس او پیز، روڈ میپس اور پاتھ ویز میں ہونے والی پیش رفت کی تعریف کی اور عمل آوری کے لیے ڈھانچے کو مضبوط کرنے کا مشورہ دیا۔انہوں نےاس بات پر زور دیا کہ مشن کی کامیابی کے لیے مستقبل  کو دھیان میں رکھتے ہوئےماضی کےفکری خیال کا عمل بہت اہم ہے، مرکزی وزیر نے میٹنگ کے غور و فکر سے سامنے آنے والی تجاویز کا خیر مقدم کیا۔

اس سے پہلے، سیشن کا آغاز کرتے ہوئے حکومت ہند   کے تحت پرنسپل سائنسی مشیر (پی ایس اے) پروفیسر اجے سود نے اس بات پر زور دیا کہ مشن کا بنیادی مقصد وبائی امراض سے نمٹنے کی تیاری کو بڑھانا اور انسانوں، جانوروں اور پودوں کی صحت کے نظام میں مربوط بیماریوں کی نگرانی اور کنٹرول کے طریقہ کار کو مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے بیماری کے پھیلنے کا بروقت پتہ لگانے اور ردعمل کو یقینی بنانے کے لیے ریاستی سطح کی سرگرمیوں اور مقامی ملکیت کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

2.jpg

نیشنل ون ہیلتھ مشن کے مستقبل کے وژن کو بیان کرتے ہوئے، نیتی آیوگ کے رکن پروفیسر وی کے پال نے تمام شرکاء سے اپیل کی کہ وہ مربوط  انداز میں بیماری  سے نمٹنے میں موجود خامیوں کی نشاندہی کریں، اس کااشتراک کریں اور ان پر کام کریں۔ انہوں نے حیاتیاتی تحفظ کے ابھرتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جنگلی حیات کی نگرانی، گندے پانی کی عمومی نگرانی اور نئے طریقوں پر توجہ مرکوز کرنے کا بھی مشورہ دیا۔

صحت کی تحقیق کے محکمہ کے (ڈی ایچ اے)  سکریٹری ڈاکٹر راجیو بہل اورانڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ(آئی سی ایم آر)کے ڈائریکٹر جنرل نے جولائی 2024 میں پہلی اسٹیئرنگ کمیٹی کی میٹنگ کے بعد سے ہونے والی پیش رفت کے بارے میں  تازہ معلومات فراہم کیں۔ قابل ذکر پیش رفت میں بی ایس ایل-3 لیباریٹریز کے قومی نیٹ ورک کو مضبوط کرنا شامل ہے۔ وشنو یدھ ابھیاس- اگست 2024 میں منعقد کی گئی ایک فرضی مشق تھی اور بین محکمہ جاتی تعاون کے ذریعے سنڈرومک نگرانی کے منصوبے شروع کیے گئے۔

ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت کے سکریٹری (ایم او ای ایف سی سی) ڈاکٹر تنمے کمار نے شرکاء کو ایک صحت کے نقطہ نظر کے ذریعے ایم او ای ایف سی سی کی طرف سے کئے گئے مختلف اقدامات کے بارے میں تفصیل سے معلومات فراہم کیں ۔ محکمہ صحت اور خاندانی بہبود (ڈی او ایچ ایف ڈبلیو) اور مویشی پروری اور ڈیری کے محکمے (ڈی اے  ایچ ڈی) کی پیشکشوں میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی کس طرح انسانی اور جانوروں کی صحت کے شعبوں میں بین شعبہ جاتی تال میل، پالیسی کو زمینی طور پر ٹھوس نتائج میں تبدیل کر رہی ہے۔

وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی دوراندیش قیادت میں،نیشنل ون ہیلتھ مشن ایک تبدیلی کے مختلف شعبوں کی پہل کے طور پر سامنے آیاہے، جس نے ہندوستان کو عالمی صحت کی حفاظت کے معاملے میں سب سے مقدم رکھا ہے۔ مشن نے انسانی، حیوانی اور ماحولیاتی صحت کے نظام کو مربوط کرنے میں اہم پیش رفت کی ہے تاکہ صحت کو ابھرتے ہوئے خطرات کے خلاف تیاری کو یقینی بنایا جائے اور پائیدار ترقی کو فروغ دیا جائے۔ مجموعی طور پر 16 مختلف وزارتیں/ محکمے اس مشترکہ کوشش میں شامل ہوئے ہیں اور محکمہ صحت تحقیق (ڈی ایچ آر) کے ساتھ ہم آہنگی کر رہے ہیں جو مشن کے لیے نوڈل ڈیپارٹمنٹ کے طور پر کام کر رہا ہے۔

*****

UR-6578      

(ش ح۔ع ح۔ ف ر )


(ریلیز آئی ڈی: 2173474) وزیٹر کاؤنٹر : 24
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी